
گوہاٹی، 5 نومبر (ہ س ):۔
آزادی کے بعد سے آسام اور شمال مشرقی ہندوستان کے لوگوں کے ذہنوں میں یہ عام تصور پایا جاتا تھا کہ دہلی ان سے بہت دور ہے۔ یہی وجہ تھی کہ پورے شمال مشرقی خطے میں عام لوگوں کو بہکا کر آسانی سے انتہا پسندی اور شورش کو فروغ دیا گیا۔ طویل عرصے تک پورا شمال مشرقی علاقہ شورش کی آگ میں جلتا رہا۔ آئے دن بم دھماکے، فائرنگ، مکانات کو نذر آتش کرنے اور دیگر پرتشدد واقعات پیش آتے رہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ آسام سمیت شمال مشرقی ریاستوں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر بلیک آؤٹ، بند کی اپیل، سڑکوں اور ریلوے لائنوں کی ناکہ بندی جیسے واقعات بھی عام تھے۔ شورش نے شمال مشرق کی ترقی کی رفتار کو پوری طرح روک دیا تھا۔
شورش کے اسی دور میں جب مرکز میں اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں بی جے پی اتحاد کی حکومت قائم ہوئی تو شمال مشرق کے حوالے سے مرکزی حکومت کا نظریہ تبدیل ہونے لگا۔ واجپئی حکومت نے شمال مشرق کی ترقی کے لیے الگ سے وزارت برائے ترقیِ شمال مشرقی خطہ (ڈونر) قائم کی۔ اس کے ذریعے اس خطے کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جانے لگی۔ اس کے مثبت نتائج آج دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ آسام میں جہاں ترقی کی ایک نئی تصویر ابھر کر سامنے آئی، وہیں اس کے اثرات پورے شمال مشرق میں بھی دکھائی دینے لگے۔ شورش کی شدت میں بھی بتدریج کمی آنے لگی۔
اس معاملے میں آسام، تریپورہ، میزورم، میگھالیہ اور اروناچل پردیش میں شورش کا خاتمہ ہو چکا ہے، جبکہ کچھ ریاستوں میں کبھی کبھی ایسے واقعات سامنے آ جاتے ہیں۔ شورش کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتیں مضبوطی کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے وقت میں پورا شمال مشرقی خطہ امن کی راہ پر واپس آ جائے گا۔
سڑک، ریل اور فضائی رابطوں میں نمایاں بہتری
خطے میں ہونے والی تبدیلیوں میں سب سے بڑی تبدیلی سڑک، ریل اور فضائی رابطوں کے شعبے میں نظر آنے لگی ہے۔ موجودہ وقت میں منی پور اور میگھالیہ کو چھوڑ کر شمال مشرق کی باقی ریاستوں کے دارالحکومتوں یا اہم شہروں تک ریل رابطہ قائم ہو چکا ہے۔ اسی طرح سڑکوں کا جال بھی تیزی سے پورے شمال مشرق میں پھیل رہا ہے۔
سڑکوں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ یہاں کی دو اہم ندیاں ہیں، جنہیں عبور کرنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ تاہم مرکزی حکومت نے اس چیلنج سے نمٹنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتائج آج ہر طرف دکھائی دے رہے ہیں۔
آسام کی دو اہم ندیاں برہم پتر اور برَاک پر تعمیر کیے گئے پلوں کی وجہ سے آج آمدورفت کا نظام کافی بہتر ہو گیا ہے۔ نقل و حمل میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اس شعبے میں بڑے پیمانے پر کام جاری ہے۔ آنے والے دنوں میں گوہاٹی سے سلچر پہنچنے میں لگنے والا وقت نصف رہ جانے کی امید ہے۔
اسی طرح کازی رنگا نیشنل پارک سے گزرنے والی قومی شاہراہ پر ایلیویٹڈ کوریڈور کی تعمیر کو منظوری مل گئی ہے۔ اس کے بننے سے گوہاٹی سے جورہاٹ، تنسکیا اور ڈبروگڑھ پہنچنے میں لگنے والا وقت بھی کافی کم ہو جائے گا، جس سے ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگی۔
ایک وقت تھا جب برہم پتر ندی پر صرف دو پل تھے، جن میں ایک گوہاٹی اور دوسرا ضلع نگاؤں میں واقع تھا۔ لیکن اب اس ندی پر سات پل فعال ہیں، جبکہ آنے والے وقت میں پانچ سے زیادہ نئے بڑے پل تعمیر کیے جانے ہیں یا ان پر کام جاری ہے۔ کئی منصوبے تکمیل کے آخری مرحلے میں ہیں۔
اس کے علاوہ برہم پتر ندی کی تہہ کے نیچے سے چار لین پر مشتمل سڑک اور ریل کے مشترکہ زیر آب راستے کی تعمیر کا ابتدائی کام بھی شروع ہو چکا ہے۔ یہ منصوبہ اپنی نوعیت اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ایک مثال بننے والا ہے۔ وہیں برَاک ندی پر بھی تین آر سی سی پل تعمیر کیے گئے ہیں۔ ان پلوں نے آسام میں آمدورفت اور ترقی کی رفتار بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
برہم پتر ندی پر فی الحال سات بڑے پل فعال
آسام میں برہم پتر ندی پر اس وقت سات بڑے پل مکمل طور پر فعال ہیں۔ حال ہی میں مرکزی وزارت برائے سڑک ٹرانسپورٹ کے بیان کے مطابق آسام کی لائف لائن کہلانے والی اس عظیم ندی پر رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے مستقبل میں پانچ سے زیادہ نئے بڑے پل تعمیر کیے جائیں گے، جن میں سے کئی منصوبوں پر کام آخری مراحل میں ہے۔
فعال سات اہم پلوں میں پہلا نام کمار بھاسکر ورما سیتو(گوہاٹی-نارتھ گوہاٹی پل)کا ہے۔ یہ گوہاٹی کو نارتھ گوہاٹی سے جوڑنے والا جدید چھ لین کا ایکسٹراڈوزڈ کیبل پل ہے، جو تقریباً 3 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔
قومی شاہراہ نمبر 31 پر واقع شرائی گھاٹ پل گوہاٹی میں برہم پتر ندی پر تعمیر ہونے والا پہلا ریل اور سڑک کا مشترکہ پل ہے۔ اسے عام لوگوں کے لیے 1962-63 میں کھولا گیا تھا۔ پرانے پل کے بالکل قریب تعمیر کیا گیا تین لین کا نیو شرائی گھاٹ پل 2017 میں عوام کے لیے کھولا گیا۔
تیزپور کے قریب واقع کولیا بھومورا سیتو ایک سڑک پل ہے، جو آسام کے شمالی اور جنوبی حصوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اسے 1987 میں عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔
اسی طرح جوگی گھوپا میں واقع نرنارائن سیتو دوسرا اہم ریل اور سڑک کا مشترکہ پل ہے۔ اسے 1998 میں عام لوگوں کے لیے کھولا گیا تھا۔
بھُوپین ہزاریکا سیتو (ڈھولا-سدیہ پل) 9.15 کلومیٹر طویل ہے۔ یہ پل برہم پتر کی اہم معاون ندی لوہت پر تعمیر کیا گیا ہے اور اس وقت ہندوستان کے سب سے طویل دریائی پلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسے 2017 میں عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔
ڈبروگڑھ کے قریب واقع بوگی بیل پل 4.94 کلومیٹر طویل ہے۔ یہ ہندوستان کا سب سے طویل ریل اور سڑک کا مشترکہ پل ہے۔ اسے 2018 میں عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔
برَاک ندی پر بھی کئی اہم پل فعال
آسام کے جنوبی حصے یعنی برَاک وادی کی لائف لائن سمجھی جانے والی برَاک ندی پر اس وقت کئی اہم کنکریٹ پل فعال ہیں، جو سلچر، کریم گنج اور ہیلاکانڈی اضلاع کو آپس میں جوڑتے ہیں۔
اس کے علاوہ ٹریفک کو آسان بنانے اور سفر کا وقت کم کرنے کے لیے مستقبل میں کئی نئے پلوں کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ