
بھوجپور ،04اکتوبر(ہ س)۔ بہار کےبھوجپور ضلع میں دوہرے قتل کی واردات سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ جگدیش پور تھانہ حلقہ کے تندونی گاؤں میں منگل کی دیر رات ایک 60 سالہ خاتون اور اس کے 30 سالہ چھوٹے بیٹے کو تیز دھار ہتھیار سے حملہ کرکے قتل کر دیا گیا۔ بدھ کی صبح دونوں کی لاشیں گھر سے برآمد ہوئیں۔ پولیس نے شبہ کی بنیاد پر متوفیہ کے بڑے بیٹے اور بہو کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں قتل کی وجہ جائیداد کا تنازع بتایا جا رہا ہے۔
مہلوکین کی شناخت گاؤں کے رہنے والے وشوامتر سنگھ کی اہلیہ راموتی کنور (60) اور چھوٹے بیٹے سنیل کمار (30) کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں کے گلے، پیٹ اور جسم کے دیگر حصوں پر تیز دھار اسلحہ سے حملے کے نشانات ملے ہیں۔ جائے واردات سے ایک ہتھوڑی بھی برآمد کی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ قتل کے دوران اس کا بھی استعمال کیا گیا ہو۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سب ڈویژنل پولیس افسر روی کمار اور جگدیش پور تھانہ انچارج آشیش کمار پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے اور جائے واردات کا معائنہ کیا۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر متوفیہ کے بڑے بیٹے دنیش کمار اور اس کی اہلیہ شانتی دیوی کو حراست میں لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیش کے ایک ہاتھ پر چوٹ کے نشانات بھی ملے ہیں، جس کی وجہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پوچھ گچھ کے دوران دنیش کمار نے دعویٰ کیا کہ منگل کی رات تقریباً ڈیڑھ بجے آٹھ نقاب پوش جرائم پیشہ افراد گھر میں داخل ہوئے اور اس وقت کمرے میں سو رہی اس کی ماں اور چھوٹے بھائی پر حملہ کرکے دونوں کو قتل کر دیا۔ دنیش کا کہنا ہے کہ ماں اور بھائی کو بچانے کی کوشش میں اس کے ہاتھ میں بھی چوٹ لگی۔ تاہم پولیس اس بیان کی تصدیق کر رہی ہے اور یہ جاننے کی کوشش میں ہے کہ واقعی باہر سے کوئی حملہ آور گھر میں داخل ہوئے تھے یا اس واردات کے پیچھے کوئی اور سازش ہے۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی ٹیم کو بھی موقع پر بلایا گیا۔ ٹیم نے جائے واردات سے سائنسی طریقے سے شواہد جمع کیے ہیں۔ پولیس قتل میں استعمال ہونے والے اسلحہ، واردات کے حالات اور ممکنہ ملزمین کے کردار کی باریکی سے جانچ کر رہی ہے۔
فی الحال دنیش کمار اور اس کی اہلیہ شانتی دیوی سے مسلسل پوچھ گچھ جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی دوہرے قتل کی اصل وجہ سامنے آسکے گی۔ اس واردات کے بعد تندونی گاؤں میں غم کا ماحول ہے اور اہل خانہ کا رو رو کر برا حال ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Afzal Hassan