پنجاب نیشنل بینک کے کھاتوں سے کروڑوں روپے کے گھوٹالے کے الزام میں بینک ملازم اور معاون گرفتار
نوئیڈا، 04 نومبر (ہ س)۔ گریٹر نوئیڈا کے ایکشر گاؤں میں واقع پنجاب نیشنل بینک کے کھاتوں سے 10.24 کروڑ روپے غائب کرنے کے معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے منگل کو دو ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں بینک کی برانچ میں تعینات خاتون آفس اسسٹن
BANK-EMPLOYEE-AND-ASSISTANT-AR


نوئیڈا، 04 نومبر (ہ س)۔ گریٹر نوئیڈا کے ایکشر گاؤں میں واقع پنجاب نیشنل بینک کے کھاتوں سے 10.24 کروڑ روپے غائب کرنے کے معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے منگل کو دو ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں بینک کی برانچ میں تعینات خاتون آفس اسسٹنٹ دیپانشی اور اس کا نجی معاون آشوتوش کمار پاٹھک شامل ہیں۔

الزام ہے کہ دونوں نے ملی بھگت کرکے صارفین کے کھاتوں سے ان کی اجازت کے بغیر رقم نکالی اور اسے ہڑپ لیا۔ سی بی آئی نے آشوتوش کو مہاراشٹر کے پونے سے گرفتار کیا ہے، جب کہ دیپانشی کی گرفتاری کی جگہ کے بارے میں سی بی آئی نے ابھی وضاحت نہیں کی ہے۔

سی بی آئی کے مطابق، منگل کو گرفتاری کے بعد آشوتوش پاٹھک کو پونے کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اس کی ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کرلی گئی ہے۔ اب دونوں ملزمین سے پوچھ گچھ کرکے رقم کی لین دین اور دیگر مشتبہ افراد کے کردار کی جانچ کی جارہی ہے۔

الزام ہے کہ دیپانشی نے آشوتوش اور دیگر نامعلوم افراد کے ساتھ ملی بھگت اور سازش کرکے کھاتوں سے کروڑوں روپے نکالے اور دوسری جگہ منتقل کیے۔ بینک کھاتوں سے بغیر مجاز اجازت کے ڈیبٹ ٹرانزیکشن کیے گئے۔ اسی شکایت کی بنیاد پر سی بی آئی نے 29 اکتوبر 2026 کو مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کی تھی۔ اب تفتیش کے دوران دونوں ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سی بی آئی نے آج جاری کردہ پریس ریلیز میں واضح کیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ درج مقدمے میں خاتون آفس اسسٹنٹ کے ساتھ ایک نجی شخص اور دیگر نامعلوم افراد کی ملی بھگت کا الزام لگایا گیا ہے۔ ایسے میں تفتیشی ایجنسی دونوں ملزمین سے پوچھ گچھ کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ کھاتوں سے نکالی گئی رقم کن کھاتوں میں منتقل کی گئی اور اس پورے معاملے میں دیگر کون کون لوگ ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ بینک کے داخلی لین دین، غیر مجاز ڈیبٹ ٹرانزیکشن اور رقم کی منتقلی سے متعلق پہلوؤں کی بھی جانچ کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande