بیٹیوں کی شادی میں مالی تنگی نہیں بنے گی رکاوٹ، یوپی میں نو برسوں کے دوران 5.88 لاکھ جوڑوں کی شادیاں
’وزیر اعلیٰ اجتماعی شادی اسکیم‘ پر یوگی حکومت نے خرچ کیے 3,471 کروڑ روپے سے زائد، 27 اکتوبر تک 5,88,693 جوڑوں کی شادیاں مکمل، رواں مالی سال کے لیے 72,540 شادیوں کا ہدف مقرر لکھنؤ، 3 نومبر (ہ س)۔ غریب خاندانوں کی بیٹیوں کی شادیاں اب مالی مجبوریوں ک
شادی اسکیم


’وزیر اعلیٰ اجتماعی شادی اسکیم‘ پر یوگی حکومت نے خرچ کیے 3,471 کروڑ روپے سے زائد، 27 اکتوبر تک 5,88,693 جوڑوں کی شادیاں مکمل، رواں مالی سال کے لیے 72,540 شادیوں کا ہدف مقرر

لکھنؤ، 3 نومبر (ہ س)۔ غریب خاندانوں کی بیٹیوں کی شادیاں اب مالی مجبوریوں کے باعث ملتوی نہ ہوں، اس مقصد سے اتر پردیش حکومت کی جانب سے چلائی جا رہی ’وزیر اعلیٰ اجتماعی شادی اسکیم‘ کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔ گزشتہ نو برسوں کے دوران اس اسکیم کے تحت ریاست میں 5,88,693 جوڑوں کی شادیاں کرائی جا چکی ہیں۔ محکمہ سماجی بہبود کی رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2017 سے 27 اکتوبر 2026 تک ریاستی حکومت ان تقریبات پر 3,471.22 کروڑ روپے سے زائد خرچ کر چکی ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس اسکیم کے ذریعے ایسے بڑی تعداد میں خاندانوں کو راحت ملی ہے، جن کے لیے بیٹیوں کی شادی کرنا ایک بڑا مالی چیلنج ہوتا ہے۔

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں شروع کی گئی اس پہل کے تحت اہل خاندانوں کو شادی کے موقع پر مالی امداد کے ساتھ ضروری تحائف اور گھریلو سامان بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ اجتماعی تقریبات میں مختلف مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے جوڑوں کی شادیاں اور نکاح کرائے جاتے ہیں۔ حکومت کی اس اسکیم کا مقصد صرف مالی مدد فراہم کرنا نہیں بلکہ ضرورت مند خاندانوں کو سماجی عزت و وقار کے ساتھ اپنی بیٹیوں کی شادیاں کرنے کا موقع دینا بھی ہے۔

محکمہ سماجی بہبود کے جوائنٹ ڈائریکٹر اور اسکیم افسر آر پی سنگھ کے مطابق، یہ اسکیم غریب خاندانوں کے لیے بڑی راحت ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاشی طور پر کمزور والدین کو بیٹیوں کی شادی کے لیے اضافی قرض لینے یا اپنی جمع پونجی خرچ کرنے کی فکر سے کافی حد تک نجات ملتی ہے۔

رواں مالی سال میں ریاست کے مختلف اضلاع سے مجموعی طور پر 1,15,658 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے 34,654 درخواستوں کو جانچ کے بعد منظوری دی گئی ہے، جبکہ 11,540 درخواستیں نااہل پائی گئی ہیں۔ دیگر درخواستوں کی اہلیت کے مطابق جانچ کی جا رہی ہے۔

ایک سال میں ایک لاکھ سے زائد جوڑوں کی شادی کا ریکارڈ

اسکیم کے آغاز سے اب تک کے اعداد و شمار اس کے بڑھتے ہوئے دائرے کی عکاسی کرتے ہیں۔ سال 2017تا2018 میں 14,580 جوڑوں کی شادیاں کرائی گئی تھیں۔ اگلے دو مالی برسوں میں یہ تعداد بڑھ کر بالترتیب 42,317 اور 47,097 ہو گئی۔ سال 2020تا2021 میں کورونا وبا کے دوران 22,780 شادیاں ہوئیں۔ اس کے بعد 2021تا2022 میں 49,644 جوڑوں نے اس اسکیم کا فائدہ اٹھایا۔

مالی سال 2022تا2023 میں پہلی مرتبہ ایک لاکھ سے زیادہ یعنی 1,00,874 جوڑوں کی شادیاں کرائی گئیں۔ سال 2023تا2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 1,04,940 تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد 2024تا2025 میں 95,448 اور 2025تا2026 میں 76,522 جوڑوں کی شادیاں مکمل ہوئیں۔ رواں مالی سال میں 27 اکتوبر تک 34,491 جوڑوں کی شادیاں کرائی جا چکی ہیں۔ حکومت نے پورے سال کے لیے 72,540 شادیوں کا ہدف مقرر کیا ہے۔

نوبیاہتا جوڑوں کو ملتی ہے ایک لاکھ روپے کی مالی امداد

اسکیم کے تحت ہر اہل جوڑے کی شادی پر مجموعی طور پر ایک لاکھ روپے کی امداد مقرر کی گئی ہے۔ اس میں سے 64 ہزار روپے لڑکی کے بینک اکاؤنٹ میں گھریلو زندگی شروع کرنے کے لیے منتقل کیے جاتے ہیں۔ 21 ہزار روپے شادی کے تحائف اور ضروری سامان پر خرچ ہوتے ہیں، جبکہ 15 ہزار روپے شادی کی تقریب کے انتظامات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

اس طرح مالی امداد براہ راست مستفید ہونے والوں تک پہنچانے کے ساتھ نوبیاہتا جوڑوں کو ضروری گھریلو سامان فراہم کرنے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

درخواست سے ادائیگی تک آن لائن نگرانی کا نظام

مستفید ہونے والوں کے انتخاب میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے محکمہ نے تصدیق کے عمل کو ٹیکنالوجی سے جوڑ دیا ہے۔ درخواست دہندگان کی ای-کے وائی سی کرائی جاتی ہے اور ای-ڈسٹرکٹ پورٹل کے ذریعے آمدنی اور ذات کے سرٹیفکیٹس کی تصدیق کی جاتی ہے۔ اس کے بعد آدھار پر مبنی ادائیگی کے نظام کے ذریعے مقررہ رقم مستفید ہونے والوں کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جاتی ہے۔

درخواستوں کی جانچ اور ڈیجیٹل تصدیق کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سرکاری امداد کا فائدہ صرف مقررہ اہلیت پوری کرنے والے خاندانوں کو ہی ملے۔

ہردوئی اور سیتاپور میں سب سے زیادہ اجتماعی شادیاں

ضلع وار اعداد و شمار کے مطابق، ہردوئی میں سب سے زیادہ شادیاں درج کی گئی ہیں۔ یہاں رواں مالی سال میں اب تک 1,385 جوڑوں کی شادیاں کرائی جا چکی ہیں۔ 1,335 جوڑوں کے ساتھ سیتاپور دوسرے مقام پر ہے۔ پیلی بھیت میں 1,271 اور اعظم گڑھ میں 1,242 جوڑوں کی شادیاں کرائی گئی ہیں۔

تقریباً چھ لاکھ جوڑوں کی شادیوں اور 3,471 کروڑ روپے سے زائد کے سرکاری اخراجات کے ساتھ وزیر اعلیٰ اجتماعی شادی اسکیم ریاست کی اہم سماجی امدادی اسکیموں میں شامل ہو گئی ہے۔ رواں مالی سال میں مقررہ ہدف حاصل کرنے کے لیے ابھی مزید اجتماعی شادی کی تقریبات منعقد کی جانی ہیں۔

حکومت کی اس پہل کا بنیادی مقصد معاشی طور پر کمزور خاندانوں کو بیٹیوں کی شادی کی ذمہ داری نبھانے میں مدد فراہم کرنا اور انہیں غیر ضروری مالی دباؤ کے بغیر نئی خاندانی زندگی شروع کرنے کا موقع دینا ہے۔

مستفید ہونے والوں کی زبانی اسکیم کی کہانی

اتر پردیش کے دیوریا ضلع کے رہنے والے درگیش چورسیا کی بیٹی نیہا کی شادی بھی ’وزیر اعلیٰ اجتماعی شادی اسکیم‘ کے تحت ہوئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ بیٹی کی شادی کو لے کر وہ کافی پریشان رہتے تھے۔ انہیں ہمیشہ یہ فکر ستاتی تھی کہ آخر ان کی بیٹی کی شادی کیسے ہوگی۔ لیکن یوگی حکومت کی جانب سے چلائی جا رہی اس اسکیم کے ذریعے ان کی بیٹی کی شادی کا خواب پورا ہو گیا اور انہیں نہ تو کسی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا اور نہ ہی قرض لینے کی ضرورت پیش آئی۔ اس اسکیم کی مدد سے ان کی بیٹی خوشی خوشی اپنے سسرال روانہ ہو گئی۔

اجتماعی شادی میں شامل ہونے والی مستفید خاتون شہناز خاتون کا کہنا ہے کہ یوگی حکومت کی جانب سے چلائی جا رہی یہ اسکیم قابل تعریف ہے۔ حکومت کسی ایک مذہب کو نہیں بلکہ تمام مذاہب کو یکساں نظر سے دیکھ رہی ہے اور سبھی کو اس اسکیم کا فائدہ دیا جا رہا ہے۔ غریب خاندانوں کو اس سے مدد مل رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے شادی کے اخراجات برداشت کرنے کے ساتھ اس سے متعلق ضروری سامان بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ شہناز نے اس اسکیم کو جاری رکھنے کے لیے حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

اسی طرح رام اوادھ چوہان نے بھی اپنی بیٹی ریشما کی شادی اس اسکیم کے تحت کی تھی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande