پردھان منتری آواس یوجنا-گرامین: چھتیس گڑھ میں 6 لاکھ مکانات مکمل، ملک میں نیا ریکارڈ قائم کرنے کا دعویٰ
رائے پور، 3 نومبر (ہ س)۔ چھتیس گڑھ نے پردھان منتری آواس یوجنا-گرامین کے تحت مالی سال 2025-26 میں سب سے زیادہ مکانات مکمل کرکے ملک میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ریاستی حکومت کے مطابق اس وقت ریاست میں روزانہ اوسطاً 1500 سے 1600 سے زائد مکانات کی تع
پردھان منتری آواس یوجنا-گرامین: چھتیس گڑھ میں 6 لاکھ مکانات مکمل، ملک میں نیا ریکارڈ قائم کرنے کا دعویٰ


رائے پور، 3 نومبر (ہ س)۔ چھتیس گڑھ نے پردھان منتری آواس یوجنا-گرامین کے تحت مالی سال 2025-26 میں سب سے زیادہ مکانات مکمل کرکے ملک میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ریاستی حکومت کے مطابق اس وقت ریاست میں روزانہ اوسطاً 1500 سے 1600 سے زائد مکانات کی تعمیر مکمل کی جا رہی ہے۔پردھان منتری آواس یوجنا-گرامین کا مقصد دیہی علاقوں میں رہنے والے بے گھر اور کچے مکانوں میں مقیم مستحق خاندانوں کو باورچی خانے اور بیت الخلا سمیت پکے مکانات فراہم کرنا ہے۔ یہ مرکزی حکومت کی معاونت سے چلنے والی اسکیم ہے، جس میں مرکزی حکومت 60 فیصد اور ریاستی حکومت 40 فیصد مالی تعاون فراہم کرتی ہے۔ اسکیم کے تحت اہداف اور فنڈز کا تعین مرکزی حکومت کرتی ہے۔

ریاستی حکومت کے مطابق چھتیس گڑھ میں یکم اپریل 2016 سے اس اسکیم پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت سماجی و اقتصادی مردم شماری 2011 کی مستقل انتظار فہرست اور 2018 کی آواس پلس فہرست میں شامل اہل خاندانوں کو پکے مکانات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ریاست کو 2016 سے 2026 کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے 26 لاکھ 27 ہزار 223 مکانات کا ہدف دیا گیا، جن میں سے 24 لاکھ 38 ہزار 926 مکانات منظور کیے گئے۔ مالی سال 2026-27 کے لیے ریاست کو 3 لاکھ 65 ہزار 179 مکانات کا ہدف ملا ہے۔

مکانات کی تعمیر میں تیزی برقرار رکھنے کے لیے ریاستی حکومت نے اضلاع کو 2677.15 کروڑ روپے سے زائد کی رقم جاری کی ہے۔ میدانی علاقوں میں مستحق خاندانوں کو 1.20 لاکھ روپے اور پہاڑی و دشوار گزار علاقوں میں 1.30 لاکھ روپے کی بنیادی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بیت الخلا کی تعمیر کے لیے سوچھ بھارت مشن کے تحت 12 ہزار روپے اور منریگا کے تحت 90 سے 95 دن کی مزدوری کا بھی انتظام ہے۔

ریاست کے نکسل متاثرہ علاقوں میں خودسپردگی کرنے والے نکسلائٹس اور نکسل تشدد سے متاثرہ اہل خاندانوں کے لیے خصوصی منصوبے کے تحت 15 ہزار مکانات کا ہدف ملا ہے۔ ان میں سے 3391 خاندانوں کے مکانات منظور کرکے تعمیر شروع کی گئی، جبکہ 56 مکانات مکمل ہو چکے ہیں۔

اسکیم کے نفاذ میں بلودابازار-بھٹاپارا ضلع نے مالی سال 2025-26 کے اہداف، مکانات کی منظوری اور تعمیر شروع کرنے کے معاملے میں ریاست میں پہلا مقام حاصل کیا۔ ضلع میں 26 ہزار سے زائد مکانات منظور کرکے تعمیراتی کام شروع کرایا گیا۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق سورج پور ضلع بھی اسکیم کے مؤثر نفاذ میں ریاست میں سرفہرست رہا، جبکہ بلود ضلع نے تیسرا مقام حاصل کیا۔ بلود میں منظور شدہ 54,151 مکانات میں سے 50,668 مکانات مکمل کیے جا چکے ہیں۔ بلاس پور میں 50 ہزار سے زائد دیہی خاندانوں کو پکے مکانات فراہم کیے گئے اور 768 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے۔ کوربا ضلع میں 2016 سے اب تک ایک لاکھ 13 ہزار سے زائد مکانات مکمل کیے گئے ہیں۔مکانات کی تکمیل کے معاملے میں بلاس پور، مہاسمنڈ، بلرام پور اور کوربا جیسے اضلاع نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ مجموعی تکمیل کی شرح اور کارکردگی کے جائزے میں درگ ضلع کو ریاست میں اول مقام حاصل ہونے کی اطلاع ہے۔

اسکیم کے نفاذ میں کچھ خامیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ کے مطابق اہلیت کے ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے سالانہ تین لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی والے بعض نااہل افراد کو بھی مکانات کی سہولت فراہم کی گئی، جن میں سرکاری ملازمین اور افسران شامل ہیں۔ کبیر دھام ضلع میں پی ایم جن من آواس یوجنا کے تحت بیگا قبائلی مستحقین سے رقم لینے کے باوجود مکانات تعمیر نہ کرنے اور ادھوری تعمیر کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ اس سلسلے میں ٹھیکیداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

پردھان منتری آواس یوجنا کے اعداد و شمار، مرکز اور ریاست کے مالی تعاون اور غریب خاندانوں تک مکانات پہنچانے کی رفتار کو لے کر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان مسلسل سیاسی الزام تراشی ہوتی رہی ہے۔ ستمبر 2026 میں سابق وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے بی جے پی حکومت پر غریبوں کو مکانات فراہم کرنے کے معاملے میں جھوٹے دعوے اور اعداد و شمار کی بازی گری کرنے کا الزام لگایا تھا۔ دوسری جانب نائب وزیر اعلیٰ وجے شرما نے سابق کانگریس حکومت پر غریب خاندانوں کو مکانات سے محروم رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔

نائب وزیر اعلیٰ اور پنچایت و دیہی ترقیات کے وزیر وجے شرما نے کہا کہ ہر مستحق کو مقررہ وقت پر معیاری مکان ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاست میں شفافیت کے ساتھ بڑے پیمانے پر پکے مکانات تعمیر کیے جا رہے ہیں اور اب تک 11 لاکھ سے زائد پردھان منتری آواس-گرامین مکمل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سائے حکومت کے قیام کے فوراً بعد پہلی کابینہ میں 18 لاکھ پکے مکانات منظور کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا گیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande