ہینڈ لوم اور دستکاری کی شاندار روایت مدھیہ پردیش کو نئی بلندیوں تک پہنچا رہی ہے
امید سنگھ راوت بھوپال، 2 نومبر (ہ س)۔ ہندوستان کا دل کہلانے والا مدھیہ پردیش قدرتی خوبصورتی، تاریخی ورثے اور قبائلی ثقافت کے علاوہ ہینڈلوم اور دستکاری کے شعبے میں بھی ملک بھر میں اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں پروان چڑھنے وال
MP-TRADITION-HANDLOOMS-AND-HANDICRAFTS-TO-NEW-HEIG


امید سنگھ راوت

بھوپال، 2 نومبر (ہ س)۔ ہندوستان کا دل کہلانے والا مدھیہ پردیش قدرتی خوبصورتی، تاریخی ورثے اور قبائلی ثقافت کے علاوہ ہینڈلوم اور دستکاری کے شعبے میں بھی ملک بھر میں اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں پروان چڑھنے والی بنائی کی متنوع روایات ہندوستانی ہینڈلوم صنعت کو نئی بلندیوں تک پہنچا رہی ہیں۔ ریاست میں ہینڈلوم سے وابستہ 18 روایتی مراکز کو مرکزی حکومت نے، جب کہ 105 کلسٹرز کو ریاستی حکومت کی اسکیموں کے تحت فہرست میں شامل کیا ہے۔ مرکزی حکومت کی ’اسفورتی‘ اسکیم کے تحت ریاست میں چلنے والے کلسٹرز میں مجموعی طور پر 24,878 کاریگر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گوالیار میں بھی بڑے پیمانے پر کرگھے موجود ہیں، جن سے تقریباً 1500 بُنکروں کو روزگار مل رہا ہے۔

مدھیہ پردیش میں ہینڈلوم اور دستکاری کے شعبے کے کاروبار سے متعلق سال26-2025 کے بعض اعداد و شمار ایک اہم تصویر پیش کرتے ہیں۔ ریاست میں ہینڈلوم مصنوعات کی فروخت تقریباً 45 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس میں سے تقریباً 25 کروڑ روپے بُنکروں کو حاصل ہوئے۔ چندیری ساڑیوں کی فروخت تقریباً 25 کروڑ روپے رہی، جب کہ مہیشوری ساڑیوں اور ڈریس میٹریل کا کاروبار تقریباً 12 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق، پانچ سال پہلے ریاست میں ہینڈلوم مصنوعات کی فروخت تقریباً 17 کروڑ روپے تھی۔ اس طرح گزشتہ پانچ برسوں میں ان مصنوعات کی فروخت میں نمایاں اضافہ درج کیا گیا ہے۔

مدھیہ پردیش میں ہینڈلوم کی ایک شاندار روایت موجود ہے۔ یہاں کے کرگھوں پر تیار ہونے والے کپڑے محض ملبوسات نہیں، بلکہ ریاست کی ثقافت، عوامی زندگی اور روایتی دستکاری کے جیتے جاگتے نمونے ہیں۔ مہیشوری اور چندیری ساڑیوں سے لے کر باگ پرنٹ، گونڈ پینٹنگ اور دھات کی دستکاری تک، ریاست کے روایتی فنون کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر نئی شناخت مل رہی ہے۔ ریاست میں ہینڈلوم سے وابستہ 18 روایتی مراکز کو مرکزی حکومت نے، جب کہ 105 کلسٹرز کو ریاستی حکومت کی اسکیموں کے تحت فہرست میں شامل کیا ہے۔

ان میں اشوک نگر ضلع کا چندیری اپنی باریک سوتی اور ریشمی ساڑیوں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ہلکی اور شفاف بنائی کی خصوصیت رکھنے والی چندیری ساڑیوں کو جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ بھی حاصل ہے۔ چندیری سے کچھ فاصلے پر واقع پران پور گاو¿ں کو ملک کا پہلا ’بہترین سیاحتی گاؤں‘ قرار دیا گیا ہے۔ یہاں تقریباً 450 بنکر خاندان روایتی گڑھے والے کرگھوں کے ذریعے اس فن کو نسل در نسل آگے بڑھا رہے ہیں۔

اسی طرح کھرگون ضلع کا مہیشور ہینڈلوم کی روایت کا ایک اہم مرکز ہے۔ لوک ماتا دیوی اہلیہ بائی ہولکر کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی مہیشوری ساڑیاں اپنی ہلکی بنائی، خوبصورت زری بارڈر اور دونوں جانب سے یکساں طور پر پہنے جانے کی خصوصیت کے لیے مشہور ہیں۔ وہیں راج گڑھ ضلع کا سارنگ پور اعلیٰ معیار کی روایتی کوٹا مسوریا ساڑیوں اور کپڑوں کی تیاری کے لیے معروف ہے۔ اس کے علاوہ گوالیار، شہڈول اور منڈلا میں اونی قالین اور دری بننے کی روایت رائج ہے، جب کہ سونسر، وارسونی، برہان پور، بڑوانی اور دھار بھی ریاست کے اہم ہینڈلوم مراکز میں شامل ہیں۔

دوسری جانب دھار ضلع کا باگ پرنٹ قدرتی رنگوں اور ہاتھ سے تراشے گئے لکڑی کے بلاکس کے ذریعے چھپائی کے منفرد فن کی وجہ سے عالمی سطح پر مشہور ہے۔ ڈنڈوری اور منڈلا علاقے کی گونڈ پینٹنگ، بیتول کی ڈھوکرا دھات سازی اور جھابوا کی بٹو بائی گڑیا بھی ریاست کے شاندار دستکاری ورثے کو مزید تقویت دیتی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اپنے فن کا لوہا منوانے والے دھار کے باگ پرنٹ کے کاریگر محمد عارف کھتری کو سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں منعقد ہونے والے ’سیلون کرافٹ ویک 2026‘ میں شرکت کے لیے باضابطہ دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔

ہینڈلوم اور دستکاری کے شعبے سے 24,878 کاریگروں کو روزگار

مدھیہ پردیش میں ہینڈلوم اور دستکاری کا شعبہ روایتی فن اور ثقافت کے تحفظ کے ساتھ ہزاروں لوگوں کی روزی روٹی کا ذریعہ بھی بنا ہوا ہے۔ ریاست میں مرکزی حکومت کی ’اسفورتی‘ اسکیم کے تحت چلنے والے کلسٹرز میں مجموعی طور پر 24,878 کاریگر کام کر رہے ہیں۔ ان میں دستکاری کے شعبے سے وابستہ 7,892 اور ٹیکسٹائل صنعت سے جڑے 7,034 کاریگر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بانس کی دستکاری، زراعت پر مبنی سرگرمیوں اور کھادی سے وابستہ کاریگروں کو بھی ان کلسٹرز کے ذریعے روزگار مل رہا ہے۔

ریاستی حکومت کے محکمہ اقتصادیات و شماریات کی جانب سے جاری اقتصادی سروے 26-2025 کے مطابق، ریاست میں ہینڈلوم اور دستکاری کے شعبے کی مختلف اسکیموں کے تحت نومبر 2025 تک 354 مستفیدین کو 1.29 کروڑ روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی۔ اس دوران پانچ میلوں کے انعقاد کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن کے ذریعے کاریگروں اور بنکروں کو اپنی مصنوعات کی نمائش اور فروخت کے مواقع فراہم ہوئے۔

ہینڈلوم اور دستکاری کی صنعت لاکھوں خاندانوں کی روزی روٹی کا اہم ذریعہ ہے، جس میں تقریباً 70 فیصد افرادی قوت خواتین پر مشتمل ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال شہڈول ضلع کے چھتوئی گاؤں کی درگا سنگھ ہیں، جنہوں نے معاشی مشکلات اور محدود وسائل کے باوجود اپنی صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے لکڑی کی دستکاری اور گونڈی مصوری میں الگ شناخت قائم کی ہے۔ آج وہ دیگر خواتین کے لیے بھی باعث ترغیب بن چکی ہیں۔

قالین کی صنعت سے 15 ہزار بنکروں کو روزگار

ریاست کے گوالیار اور چمبل ڈویژن میں قالین سازی کا کام بھی بڑی تعداد میں لوگوں کی روزی روٹی سے وابستہ ہے۔ سروے کے مطابق، ان علاقوں میں تقریباً 5,000 کرگھوں پر قالین تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس سرگرمی سے تقریباً 15,000 بنکروں کو روزگار مل رہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

ہینڈلوم مصنوعات کو بازار فراہم کرنے کے لیے سرکاری محکموں میں بھی ان کی خریداری اور فراہمی کا انتظام کیا گیا ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق، مالی سال 25-2025 کے دوران سرکاری محکموں کو 12.72 کروڑ روپے کے ہینڈلوم کپڑے فراہم کیے گئے۔ اس کام سے 762 کرگھے وابستہ رہے اور تقریباً 2.14 لاکھ یومِ روزگار پیدا ہوئے۔ مالی سال 24-2023 میں یہ فراہمی 14.24 کروڑ روپے کی تھی۔

روایتی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے ’اسفورتی‘ اسکیم کے تحت دستکاری اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں بھی کلسٹرز تیار کیے جا رہے ہیں۔ سروے میں دستکاری کلسٹرز کی منظور شدہ منصوبہ جاتی لاگت 38.41 کروڑ روپے، جب کہ ٹیکسٹائل کلسٹرز کی لاگت 35.83 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ اس کے ذریعے کاریگروں کو منظم انداز میں پیداوار، ہنرمندی کی ترقی اور بازار سے جڑنے کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہینڈلوم مصنوعات کی فروخت 45 کروڑ روپے تک پہنچی

مدھیہ پردیش میں ہینڈلوم اور دستکاری کے شعبے کے کاروبار سے متعلق سال 26-2025 کے بعض اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ ریاست میں ہینڈلوم مصنوعات کی فروخت تقریباً 45 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس میں سے تقریباً 25 کروڑ روپے بنکروں کو حاصل ہوئے۔ چندیری ساڑیوں کی فروخت تقریباً 25 کروڑ روپے رہی، جب کہ مہیشوری ساڑیوں اور ڈریس میٹریل کا کاروبار تقریباً 12 کروڑ روپے درج کیا گیا۔

یہ اعداد و شمار کاٹیج اینڈ ولیج انڈسٹریز ڈپارٹمنٹ کے کمشنر مدن وبھیشن ناگروجے کے حوالے سے 6 اگست 2026 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، پانچ سال پہلے ریاست میں ہینڈلوم مصنوعات کی فروخت تقریباً 17 کروڑ روپے تھی۔ اس طرح پانچ برسوں کے دوران فروخت میں نمایاں اضافہ درج کیا گیا ہے۔

دستکاری کے شعبے میں باگ پرنٹ، گونڈ پینٹنگ، زری زردوزی، دھات کی دستکاری، پتھر کی نقش و نگاری اور دیگر روایتی مصنوعات شامل ہیں۔ فی الحال مالی سال 26-2025 کے لیے ان کی الگ الگ آمدنی کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے ہیں۔ وہیں ریاستی وزیر مملکت دلیپ جیسوال نے 25-2024 میں ہینڈلوم اور دستکاری ترقیاتی کارپوریشن کی مجموعی فروخت 20 کروڑ روپے بتائی تھی۔ مالی سال 26-2025 کے لیے 34.71 کروڑ روپے کی فروخت کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ یہ دونوں شعبوں کے مشترکہ کارپوریشن کے اعداد و شمار ہیں۔

ریاست بھر میں نمائشوں کا انعقاد

سنت روی داس مدھیہ پردیش ہست شلپ ایوم ہینڈلوم وکاس نگم کی جانب سے ’ووکل فار لوکل‘ مہم کو فروغ دینے کے لیے چھندواڑہ، گنا، وارسونی اور اجین میں ’کاریگری 2026‘ جیسی نمائشوں کا ریاست بھر میں مسلسل انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اجین میں زیر تعمیر ’یونٹی مال‘ کے ذریعے ملک بھر کی مصنوعات کے ساتھ مقامی دستکاری کو بھی ایک ہی چھت کے نیچے بڑا پلیٹ فارم ملنے جا رہا ہے۔ شفاف پالیسیاں، ڈیجیٹل ای پورٹل اور تربیت کے مضبوط نظام کی بدولت مدھیہ پردیش کی ہینڈلوم اور دستکاری کی روایت آج ملک اور دنیا میں اپنی منفرد اور دیرپا شناخت قائم کر رہی ہے۔

مصنوعات کی فروخت کے لیے نئے ای پورٹل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم

کاٹیج اینڈ ولیج انڈسٹریز ڈپارٹمنٹ کے تحت چلنے والے ادارے ’مرگ نینی‘ نے ملک کا پہلا ایسا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے، جو پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگ (پی ایس یو) کی ملکیت میں ہے اور ایک ضلع، ایک پروڈکٹ (او ڈی او پی) پر مرکوز ہے۔

اجین میں ’ہینڈ لوم سینٹر آف ایکسی لینس‘ کا افتتاح کیا گیا ہے، جہاں خواتین کو ہینڈلوم چلانے اور بنائی کی تربیت دے کر خود کفیل بنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت نے کاٹیج اور ولیج انڈسٹریز کی مصنوعات کی فروخت کے لیے نئے ای پورٹل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم شروع کیے ہیں، جہاں لیبلنگ اور کیو آر کوڈ کے ذریعے مصنوعات سے متعلق معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

دستکاری، پرنٹ اور جی آئی ٹیگ

سال 2026 میں مدھیہ پردیش کی دستکاری اور ہینڈلوم صنعت کے لیے ایک اور اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ریاست کی چار مخصوص مصنوعات کو باوقار جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ دیا گیا ہے۔

ان میں بھوپال کا ’بھپالی بٹوا‘ اور زری کرافٹ شامل ہیں، جو زری زردوزی کی باریک کاریگری اور نوابی نفاست کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔ وہیں چھتر پور کا ’کھجوراہو میٹل کرافٹ‘ پیتل اور دیگر دھاتوں پر کی جانے والی عمدہ دستکاری کی نمائندگی کرتا ہے۔ مالوہ علاقے کی روایتی لوک مصوری کو شناخت دلانے والی ’مالوہ پینٹنگ‘، جس کا اہم مرکز دھار ہے، کو بھی جی آئی ٹیگ ملا ہے۔ اس کے علاوہ راج گڑھ ضلع کی ’سارنگ پور ہینڈلوم ساڑی اور فیبرکس‘ کو بھی یہ باوقار شناخت دی گئی ہے۔ یہ چاروں مصنوعات ریاست کے روایتی فن، دستکاری کی مہارت اور ثقافتی ورثے کی منفرد علامت ہیں۔

تاریخی کامیابیاں اور قومی اعزازات

ریاست کے بُنکروں اور دستکاروں کی محنت کو قومی سطح پر مسلسل پہچان مل رہی ہے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے 12ویں قومی یومِ ہینڈلوم کے موقع پر کھرگون ضلع کے بُنکر کمل گوڑ کو مہیشوری ساڑی کی بنائی میں نمایاں خدمات کے لیے ’قومی ہینڈلوم ایوارڈ 2026‘ سے نوازا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے اسے مہیشور کی منفرد شناخت اور بُنکروں کی بہترین فنی مہارت کا اعزاز قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاستی حکومت مہیشور کو ’ٹیکسٹائل ٹورزم ولیج‘ کے طور پر ترقی دے رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ ریاست میں ہینڈلوم اور دستکاری کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاٹیج اینڈ ولیج انڈسٹریز ڈپارٹمنٹ کے ادارے مرگ نینی کے ذریعے ریاست کی مقامی مصنوعات کو ڈیجیٹل شناخت ملے گی اور کاریگروں، بنکروں، دستکاروں اور کاروباری افراد کو قومی و بین الاقوامی بازاروں تک رسائی کے نئے مواقع حاصل ہوں گے۔

کاٹیج اینڈ ولیج انڈسٹریز کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) دلیپ جیسوال کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی قیادت میں محکمہ وزیر اعظم نریندر مودی کے عزم کو پورا کرنے کی سمت کام کر رہا ہے۔ کاٹیج اور ولیج انڈسٹریز کی مصنوعات کی آن لائن فروخت کے لیے ای کامرس پورٹل شروع کیا گیا ہے۔ مصنوعات پر لیبلنگ اور کیو آر کوڈ کے ذریعے ان سے متعلق معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس سے ریاست کی مصنوعات کو ملک بھر کی منڈیوں تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande