

جدیدیت اور بدلتے بازار کے نظام نے آبائی کاروبار کی رونق چھین لی، معاشی تنگی سے دوچار مٹی کے کاریگروں کے سامنے وجود کا بحران
کھونٹی، 02 نومبر (ہ س)۔
دیوالی کا تہوار ہو یا کوئی دوسرا خوشی اور مسرت کا موقع، جب گھروں اور صحنوں کو روشن کرنے کے لیے مٹی کے دیے جلائے جاتے ہیں تو ان کی لو میں صرف تیل اور بتی ہی نہیں جلتی، بلکہ صدیوں پرانی روایت، کمہاروں کی مہارت اور ان کی سخت محنت کی داستان بھی جھلکتی ہے۔ مٹی کے ایک معمولی ڈھیلے کو اپنے ہاتھوں سے خوبصورت اور کارآمد شکل دینے والے کاریگر ہندوستانی لوک ثقافت کے اہم امین رہے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ دوسروں کے گھروں میں روشنی پھیلانے والے ان کاریگروں کے اپنے گھر آج معاشی تنگی اور عدم توجہی کے اندھیروں میں گھرے ہوئے ہیں۔ جدیدیت، بدلتے طرز زندگی اور بازار کی مسابقت نے ان کے آبائی کاروبار کے سامنے سنگین بحران کھڑا کردیا ہے۔
جھارکھنڈ کے ضلع کھونٹی میں بھی کاریگروں کی صورت حال کم و بیش یہی ہے۔ تورپا کمہار ٹولی کے رہنے والے رام آشییش مہتو اور کرشنا مہتو کی پریشانی اس روایتی پیشے سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کی حالت بیان کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کبھی گاو¿ں کی پہچان سمجھے جانے والے کمہاروں کے چاک کی رفتار اب مسلسل سست ہوتی جارہی ہے۔ جس چاک کی گردش سے مٹی کے دیے، گھڑے، صراحیاں، گلک، کھلونے اور پوجا پاٹھ کے برتن تیار ہوتے تھے، آج اسی چاک کو چلانے والے ہاتھوں میں پہلے جیسا جوش و جذبہ باقی نہیں رہا۔ نسل در نسل اس فن کو زندہ رکھنے والے کاریگر اب اپنے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کاریگروں کے لیے مٹی محض روزی روٹی کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ یہ ان کی ثقافت، خاندانی وراثت اور سماجی شناخت کا لازمی حصہ ہے۔ ان کے بزرگوں نے جس فن کو نسل در نسل آگے بڑھایا، اسی کے سہارے خاندانوں کی کفالت ہوتی رہی۔ وقت کے ساتھ اس پیشے نے دیہی معیشت اور سماجی زندگی میں بھی اہم مقام حاصل کیا۔ پیدائش، شادی بیاہ، مذہبی رسومات اور تہواروں میں مٹی کے برتنوں کا خصوصی استعمال ہوتا رہا ہے۔ لیکن اب یہی روایتی فن جدید بازار کی بدلتی ضروریات اور صارفین کی پسند کے درمیان اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کررہا ہے۔
بازار میں مصنوعی اشیا نے مسابقت بڑھا دی
بدلتے طرز زندگی نے مٹی کی مصنوعات کی مانگ کو کافی متاثر کیا ہے۔ پہلے دیوالی کے موقع پر ہر گھر میں مٹی کے دیے جلانے کی روایت تھی۔ پوجا پاٹھ اور گھریلو استعمال کے لیے بھی مٹی کے برتنوں کو ترجیح دی جاتی تھی۔ لیکن اب ان کی جگہ آہستہ آہستہ پلاسٹک، اسٹیل، چینی مٹی اور بجلی سے چلنے والی آرائشی اشیاء نے لے لی ہے۔ بازار میں کم قیمت پر دلکش ڈیزائن والی مصنوعی مصنوعات آسانی سے دستیاب ہیں۔ بجلی سے جگمگاتی رنگ برنگی جھالروں اور آرائشی لائٹوں کے بڑھتے ہوئے رواج نے بھی روایتی مٹی کے دیوں کی مانگ کو متاثر کیا ہے۔
اس مسابقت میں مقامی کمہاروں کے لیے اپنی مصنوعات فروخت کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ایک طرف انہیں خام مال جمع کرنے اور اشیاء تیار کرنے میں کافی محنت کرنی پڑتی ہے تو دوسری طرف بازار میں مناسب قیمت نہیں مل پاتی۔ پیداواری لاگت بڑھنے کے باوجود تیار شدہ اشیاء کی قیمت محدود رہتی ہے۔ کئی مرتبہ سامان تیار کرنے میں صرف ہونے والے وقت اور محنت کے مقابلے میں آمدنی اتنی کم ہوتی ہے کہ خاندان کا خرچ چلانا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مٹی کو خوبصورت شکل دینے والے کاریگر آہستہ آہستہ اپنے آبائی پیشے سے دور ہونے لگے ہیں۔
مٹی، ایندھن اور بھٹی کا انتظام بھی بڑا چیلنج
کھونٹی کے پیپرا ٹولی کے رہنے والے بدھو مہتو بتاتے ہیں کہ کمہاروں کے مسائل صرف مصنوعات کی فروخت تک محدود نہیں ہیں۔ انہیں اچھی مٹی کی دستیابی سے لے کر تیار شدہ سامان بازار تک پہنچانے تک کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا ہے۔ پہلے آس پاس کے علاقوں میں آسانی سے مٹی مل جاتی تھی، لیکن اب مناسب مٹی حاصل کرنا بھی ایک چیلنج بنتا جارہا ہے۔ مٹی لانے میں نقل و حمل کا خرچ بڑھ گیا ہے۔ اس کے علاوہ برتن پکانے کے لیے ایندھن کی بڑھتی قیمت اور بھٹیوں کے انتظام پر بھی کاریگروں کو اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
تہواروں کے موقع پر ہی کچھ راحت ملتی ہے
کاریگروں کے لیے دیوالی اور دیگر تہوار آمدنی کے اعتبار سے سب سے اہم مواقع ہوتے ہیں۔ ان دنوں مٹی کے دیوں، کلش اور پوجا میں استعمال ہونے والے دیگر برتنوں کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ تاہم تہواروں کے دوران ہونے والی یہ آمدنی پورے سال خاندان کا خرچ چلانے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ سال کے باقی دنوں میں کام اور فروخت کا کوئی مستقل ذریعہ نہ ہونے کے باعث ان کی معاشی حالت غیر مستحکم رہتی ہے۔
نئی نسل کا روایتی فن سے رشتہ ٹوٹ رہا ہے
مٹی کے برتن بنانے والے کاریگروں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج نئی نسل کو اس پیشے سے وابستہ رکھنا ہے۔ کاریگروں کے بچے اپنے والدین کو صبح سے شام تک مٹی گوندھتے، چاک چلاتے، سامان سکھاتے اور پھر اسے فروخت کرنے کے لیے بازار میں جدوجہد کرتے دیکھتے ہیں۔ ایسے میں انہیں اس کام میں مستقبل کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔ وہ تعلیم حاصل کرکے ملازمت یا دوسرے کاروبار میں اپنا مستقبل تلاش کرنا چاہتے ہیں۔
اگر وقت رہتے اس سمت میں ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے تو آنے والے برسوں میں مٹی کو خوبصورت شکل دینے کا یہ روایتی فن آہستہ آہستہ ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔ چاک کی جگہ جدید مشینیں اور مٹی کی مصنوعات کی جگہ مصنوعی اشیاء لیتی جارہی ہیں۔ اس کا اثر صرف کمہار خاندانوں کی روزی روٹی پر ہی نہیں بلکہ ہماری لوک ثقافت اور روایتی دستکاری پر بھی پڑ رہا ہے۔
سرکاری مدد اور بہتر بازار فراہم کرنے کی ضرورت
ماہرین کا کہنا ہے کہ کاریگروں کی معاشی حالت بہتر بنانے اور روایتی فن کے تحفظ کے لیے سرکاری سطح پر مو¿ثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ کاریگروں کو سستے داموں اچھی کوالٹی کی مٹی اور دیگر خام مال فراہم کیا جانا چاہیے۔ جدید چاک، بہتر بھٹیاں اور تکنیکی تربیت دے کر ان کی مصنوعات کے معیار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تیار شدہ مصنوعات کی فروخت کے لیے مقامی سطح پر مستقل بازار اور مناسب قیمت کا انتظام بھی ضروری ہے۔
اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ اور سماج کا بھی اہم کردار ہوسکتا ہے۔ دیوالی اور دیگر تہواروں کے موقع پر مٹی کے دیوں اور روایتی مصنوعات کو ترجیح دینے کے لیے لوگوں میں بیداری پیدا کی جانی چاہیے۔ مقامی بازاروں میں کمہاروں کے لیے خصوصی اسٹال اور فروخت کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔
دوسروں کے گھروں کو روشن کرنے والے کاریگروں کے گھروں میں بھی خوشحالی کی روشنی پہنچانے کے لیے سماج، انتظامیہ اور حکومت کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔ جب ان کے ہنر کو عزت، محنت کو مناسب معاوضہ اور کاروبار کو بہتر مواقع حاصل ہوں گے، تبھی آنے والی نسلیں اس روایتی فن کو اپنانے کے لیے راغب ہوں گی۔ بصورت دیگر جس چاک کی گردش کبھی گاو¿ں کی پہچان ہوا کرتی تھی، وہ آنے والے وقت میں محض یادوں کا حصہ بن کر رہ جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ