معاشی تنگی بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ نہیں بنے گی، آر ٹی ای کے ذریعے غریب خاندانوں کے بچے نجی اسکولوں تک پہنچ رہے ہیں
بھوپال، 2 نومبر(ہ س)۔ کسی بچے کی آنکھوں میں بہتر مستقبل کے خواب ہوں، لیکن خاندان کی مالی حالت اسے اچھے اسکول میں تعلیم دلانے کی اجازت نہ دے تو اکثر اس کے خواب حالات کے آگے دم توڑ دیتے ہیں۔ تاہم مدھیہ پردیش میں حقِ تعلیم قانون (آر ٹی ای) کے تحت چلائ
معاشی تنگی بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ نہیں بنے گی، آر ٹی ای کے ذریعے غریب خاندانوں کے بچے نجی اسکولوں تک پہنچ رہے ہیں


بھوپال، 2 نومبر(ہ س)۔ کسی بچے کی آنکھوں میں بہتر مستقبل کے خواب ہوں، لیکن خاندان کی مالی حالت اسے اچھے اسکول میں تعلیم دلانے کی اجازت نہ دے تو اکثر اس کے خواب حالات کے آگے دم توڑ دیتے ہیں۔ تاہم مدھیہ پردیش میں حقِ تعلیم قانون (آر ٹی ای) کے تحت چلائی جانے والی فیس کی ادائیگی کی اسکیم اس رکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے اب تک 16.85 لاکھ سے زیادہ طلبہ کو فائدہ پہنچایا جا چکا ہے۔اس اسکیم کا مقصد معاشی طور پر کمزور اور محروم طبقوں کے بچوں کو بھی نجی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے، تاکہ فیس کی پریشانی ان کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ حکومت کی اس سہولت کے تحت اہل بچوں کو نجی اسکولوں میں پہلی سے آٹھویں جماعت تک مفت تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔مدھیہ پردیش میں سال 2011 سے اب تک آر ٹی ای کے تحت 16.85 لاکھ سے زیادہ طلبہ کی فیس کی ادائیگی کے لیے 3600 کروڑ روپے سے زائد کی رقم جاری کی جا چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ اسکیم طویل عرصے سے معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے بچوں کو نجی اسکولوں میں تعلیم کا موقع فراہم کرنے کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔مقررہ ضابطوں کے مطابق بچوں کی فیس کی رقم براہ راست متعلقہ اسکولوں کو ادا کی جاتی ہے۔ اس سے خاندانوں کو اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے میں مالی مدد ملتی ہے اور ان کے سامنے آگے بڑھنے کے نئے راستے کھلتے ہیں۔ تعلیم محض اسکول میں داخلے تک محدود نہیں، بلکہ یہ بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور مستقبل کے بہتر مواقع تک پہنچنے کی بنیاد بھی بنتی ہے۔اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے 11 اکتوبر 2026 کو نرسنگھ پور میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران تعلیمی سیشن 2024-25 کے لیے فیس کی ادائیگی کے طور پر 502 کروڑ روپے جاری کیے۔ اس سے ریاست کے 20,456 غیر سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم 8.19 لاکھ سے زیادہ طلبہ کو فائدہ پہنچا۔اس سے پہلے تعلیمی سیشن 2023-24 کے لیے 489 کروڑ روپے جاری کیے گئے تھے۔ اس رقم سے 20,652 نجی اسکولوں میں زیر تعلیم 8.45 لاکھ سے زیادہ طلبہ کی فیس ادا کی گئی۔ اس طرح دو تعلیمی سیشنوں کے دوران مجموعی طور پر 991 کروڑ روپے فیس کی ادائیگی کے لیے جاری کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس اسکیم کا دائرہ ہزاروں اسکولوں اور لاکھوں طلبہ تک پھیل چکا ہے۔حقِ تعلیم قانون 2009 کی دفعہ 12(1)(ج) کے تحت غیر امدادی نجی اسکولوں میں داخلے کی سطح پر کم از کم 25 فیصد نشستیں معاشی طور پر کمزور اور محروم طبقوں کے اہل بچوں کے لیے مختص رکھنے کا انتظام ہے۔ مدھیہ پردیش میں اسی ضابطے کے تحت اہل بچوں کو نجی اسکولوں میں مفت داخلہ دیا جاتا ہے اور مقررہ اصولوں کے مطابق ان کی فیس کی ادائیگی کی جاتی ہے۔اس انتظام کی اہمیت صرف اس بات تک محدود نہیں کہ کسی بچے کی فیس حکومت ادا کرتی ہے، بلکہ اس کا وسیع مقصد یہ ہے کہ معاشی حالات کی وجہ سے بچوں کے تعلیمی مواقع محدود نہ ہوں۔ جب کسی خاندان کو بچے کی فیس کی فکر سے راحت ملتی ہے تو اس کے لیے بچے کی تعلیم جاری رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ تعلیم کے ذریعے بچوں کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرنا سماجی برابری کی سمت میں بھی ایک اہم قدم ہے۔آر ٹی ای کے تحت ہر سال بڑی تعداد میں خاندان اپنے بچوں کے داخلے کے لیے درخواستیں دیتے ہیں۔ تعلیمی سیشن 2023-24 میں ریاست میں 1,80,679 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 1,16,412 بچوں کو داخلہ دیا گیا۔ اسی طرح سیشن 2024-25 میں 1,24,386 درخواستیں موصول ہوئیں اور 84,795 بچوں کو داخلہ ملا۔ جبکہ سیشن 2025-26 میں 1,66,751 درخواستیں موصول ہوئیں اور 78,673 بچوں کے داخلے درج کیے گئے۔یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بڑی تعداد میں خاندان اس اسکیم کے ذریعے نجی اسکولوں میں اپنے بچوں کو پڑھانے کی امید رکھتے ہیں۔ تاہم درخواستوں اور داخلوں کی تعداد میں فرق سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اہلیت کی جانچ، دستیاب نشستوں کی معلومات اور داخلے کے عمل کو آسان بنانا مسلسل اہم ہے۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت تعلیم کے شعبے میں تمام طبقات کے بچوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ آر ٹی ای کے ذریعے حکومت ہر چوتھے بچے کی نجی اسکول میں تعلیم کی فیس ادا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد ہے کہ معاشی حالات کسی بھی اہل بچے کی تعلیم میں رکاوٹ نہ بنیں اور اسے معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے۔ریاست کے وزیر تعلیم ادے پرتاپ سنگھ نے کہا کہ آر ٹی ای کے تحت نجی اسکولوں میں داخلہ پانے والے اہل بچوں کی فیس کی ادائیگی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس کے لیے عمل کو مزید منظم اور وقت کے پابند بنانے پر کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ آئندہ ہر سال کی فیس اسی سال ادا کر دی جائے، تاکہ نجی اسکولوں کو وقت پر رقم مل سکے اور اسکیم کے نفاذ میں بھی آسانی ہو۔ حکومت چاہتی ہے کہ آر ٹی ای کے تحت اہل بچوں کو مفت تعلیم کی سہولت مسلسل ملتی رہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande