
سری نگر، یکم نومبر (ہ س) روشنیوں کا تہوار دیوالی تقریباً ایک ہفتہ دور ہے، اور یہاں تاریخی لال چوک سے تقریباً 12 کلومیٹر دور اشبر نشاط کے ایک کارخانے میں مٹی دیوں کا روپ دھار رہی ہے۔ محمد عمر کمہار کا خاندان رات دن کام کر کے ہزاروں دیے تیار کرنے میں مصروف ہے، جو دیوالی کی رات شمالی ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں ہزاروں گھروں کو روشن کریں گے۔ ان دیوں کو ڈھالنے والے ہاتھ ایک مسلمان خاندان کے ہیں۔
یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے، مگر ہر سال اس کا دائرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ محمد عمر نے بتایا کہ ان کے ہاں دیے بنانے کا کام سن 2000 میں شروع ہوا تھا۔ ان کے الفاظ ہیں: ’’پہلے ہمیں ایک چھوٹا آرڈر ملا، اور ہر گزرتے سال کے ساتھ اس میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا۔‘‘ ان کے مطابق، آغاز درجنوں دیوں سے ہوا تھا، اور آج یہ تعداد ہزاروں، بلکہ دسیوں ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
محمد عمر کے لیے دیوالی کا موسم روزی روٹی کا ذریعہ تو ہے ہی، اس سے ایک اور طرح کی خوشی بھی جڑی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’ہم خوش ہیں کہ دیوالی جیسے عظیم تہوار سے ہمیں بھی روزی روٹی میسر ہو رہی ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا: ’’مٹی کے برتن بنانا تو ہمارا کام ہے، لیکن جب یہ چیزیں کسی تہوار میں استعمال ہوتی ہیں تو زیادہ خوشی ملتی ہے۔‘‘
دیوالی سے تقریباً 20 دن پہلے ہی ان کے ہاں دیے بنانے کا کام شروع ہو جاتا ہے، اور جوں جوں تہوار قریب آتا ہے، کام کی رفتار بڑھتی جاتی ہے۔ کارخانے میں اس وقت چھ لوگ کام کر رہے ہیں، اور آرڈر پورے کرنے کے لیے دو شفٹوں میں کام ہو رہا ہے۔ جہاں پہلے آٹھ گھنٹے کام ہوتا تھا، وہاں اب 16 گھنٹے کام ہو رہا ہے۔ محمد عمر کے مطابق، اب تک تقریباً 10 ہزار دیے بک چکے ہیں اور مزید 10 ہزار پر کام جاری ہے۔
محمد عمر ایک کامرس گریجویٹ ہیں۔ گریجویشن کے بعد انہوں نے کوئی دوسری نوکری اختیار کرنے کے بجائے اپنے خاندانی کاروبار کو آگے بڑھانے کا بیڑا اٹھایا۔ ان کا خاندان کئی نسلوں سے مٹی کے برتن بنانے کے پیشے سے وابستہ ہے۔
ان کے خریدار کئی طرح کے ہیں۔ محمد عمر نے بتایا کہ آرڈر آن لائن بھی ملتے ہیں، اور بیوپاری خود آ کر بھی بتا جاتے ہیں کہ انہیں کتنے دیے چاہئیں۔ انہوں نے کہا: ’’ہر بیوپاری ہزاروں دیے خریدتا ہے۔‘‘ یہ دیے جموں اور شمالی ہندوستان کے مختلف حصوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ مقامی سطح پر بھی کشمیری پنڈت اور ہندو بھائی خود یہاں آ کر دیے خریدتے ہیں، اور فوجی جوان بھی ان کے گاہکوں میں شامل ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جموں یا دوسری جگہوں سے بھی دیے مل سکتے ہیں، تو لوگ ان کے پاس کیوں آتے ہیں۔ محمد عمر اس کی دو وجوہات بتاتے ہیں: ایک تو ان کے دیے ہاتھ سے بنتے ہیں، اور دوسرے ان میں قدرتی چیزیں استعمال کی جاتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’’ہینڈ میڈ دیے لوگوں کی پہلی ترجیح ہوتے ہیں۔‘‘
اس کام میں وہ اکیلے نہیں ہیں۔ محمد عمر کے مطابق، دیے صرف ان کا خاندان ہی نہیں بنا رہا، بلکہ دوسرے کمہار بھی بنا رہے ہیں، اور یہ ایک اچھی بات ہے، کیونکہ مانگ اتنی زیادہ ہے کہ ایک یونٹ کے لیے اتنے دیے بنانا ممکن نہیں۔ جس بیوپاری کے پاس ہزاروں دیوں کا آرڈر ہوتا ہے، وہ اسے کئی کمہاروں میں بانٹ دیتا ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اشبر، جہاں یہ مسلم خاندان دیوالی کے لیے دیے تیار کرتا ہے، ہندو مذہبی روایات سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اشور آشرم ٹرسٹ کے مطابق، گاؤں میں گپت گنگا واقع ہے، جو ایک قدیم شیو مندر کمپلیکس ہے۔ یہیں کشمیر شیو مت کے معروف اسکالر سوامی لکشمن جو، جنہیں ’’لال صاحب‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 1934 میں آکر آباد ہوئے اور بعد میں اشور آشرم قائم کیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / ظہور حسین بٹ