تاریخ کے آئینے میں 2 نومبر: رومانس سے ایکشن تک— ہر کردار میں چھائے رہے 'کنگ خان'
ہندوستانی سنیما کے سپر اسٹار شاہ رخ خان 2 نومبر کو اپنی سالگرہ منا رہے ہیں۔ 2 نومبر 1965 کو نئی دہلی میں پیدا ہونے والے شاہ رخ نے اپنے اداکاری کے سفر کا آغاز چھوٹے پردے (ٹیلی ویژن) سے کیا اور اپنی محنت، صلاحیت اور منفرد اندازِ اداکاری کی بدولت عالم
تاریخ کے آئینے میں 2 نومبر


ہندوستانی سنیما کے سپر اسٹار شاہ رخ خان 2 نومبر کو اپنی سالگرہ منا رہے ہیں۔ 2 نومبر 1965 کو نئی دہلی میں پیدا ہونے والے شاہ رخ نے اپنے اداکاری کے سفر کا آغاز چھوٹے پردے (ٹیلی ویژن) سے کیا اور اپنی محنت، صلاحیت اور منفرد اندازِ اداکاری کی بدولت عالمی سطح پر پہچان بنائی۔ مداح انہیں محبت سے 'کنگ خان' اور 'بالی وڈ کا رومانس کنگ' کہتے ہیں۔

شاہ رخ نے اپنے اداکاری کے کیریئر کا آغاز ٹیلی ویژن سیریلز سے کیا۔ 'فوجی' اور 'سرکس' جیسے ڈراموں نے انہیں گھر گھر میں مقبول کر دیا۔ اس کے بعد 1992 میں انہوں نے فلم 'دیوانہ' کے ذریعے بڑے پردے پر قدم رکھا اور اپنی پہلی ہی فلم سے ناظرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی۔

اپنے کیریئر کے ابتدائی سالوں میں، شاہ رخ نے 'بازیگر'، 'ڈر' اور 'انجام' جیسی فلموں میں منفی کردار ادا کر کے اپنی اداکاری کی وسعت کا ثبوت دیا۔ تاہم، جلد ہی وہ 'رومانوی ہیرو' کی پہچان بن گئے۔ 'دل والے دلہنیا لے جائیں گے'، 'دل تو پاگل ہے'، 'کچھ کچھ ہوتا ہے'، 'دیوداس'، 'کل ہو نہ ہو' اور 'ویر زارا' جیسی فلموں نے انہیں رومانوی سنیما کے سب سے بڑے ستاروں میں سے ایک کے طور پر مستحکم کر دیا۔

شاہ رخ نے اپنی شبیہ کو صرف رومانوی کرداروں تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے 'سودیس'، 'چک دے! انڈیا' اور 'مائی نیم اِز خان' جیسی فلموں میں سنجیدہ اور حساس کردار ادا کر کے ناظرین کو متاثر کیا۔ اسی دوران، 'ڈان' اور 'رئیس' جیسی فلموں میں ان کے منفرد انداز کو بھی بے حد سراہا گیا۔

تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنے کیریئر میں، شاہ رخ نے نہ صرف ایک اداکار بلکہ ایک پروڈیوسر کے طور پر بھی اپنی چھاپ چھوڑی ہے۔ ان کی مقبولیت بھارت کی سرحدوں سے نکل کر دنیا کے کئی ممالک تک پہنچی ہے۔ ان کی فلموں، مشہور مکالموں اور یادگار کرداروں نے بین الاقوامی سطح پر بھارتی سنیما کی شناخت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اہم واقعات

1774 – برطانوی ہند کے کمانڈر ان چیف، رابرٹ کلائیو نے انگلینڈ میں خودکشی کر لی۔

1834 – 'ایٹلس' نامی ایک جہاز ہندوستانی مزدوروں کو لے کر ماریشس پہنچا؛ اس واقعے کو وہاں 'یومِ آمد' (یا 'یومِ مہاجرین') کے طور پر منایا جاتا ہے۔

1835 – فلوریڈا میں دوسری سیمینول جنگ کا آغاز ہوا، جس میں مقامی امریکیوں کے مختلف گروہ شامل تھے؛ اس تنازعے کو 'فلوریڈا جنگ' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

1917 – برطانیہ نے 'بالفور اعلامیہ' جاری کیا، جس میں فلسطین میں یہودی قوم کے لیے ایک وطن کے قیام کی حمایت کی گئی تھی۔

1936 – بی بی سی نے اپنا پہلا ٹیلی ویژن چینل شروع کیا۔

1950 – جارج برنارڈ شا 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

1951 – برطانیہ کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو دبانے کے لیے تقریباً 6,000 برطانوی فوجی مصر پہنچے۔

2007 – خلائی شٹل 'ڈسکوری' کا عملہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر خراب سولر پینلز کی مرمت کے بعد بحفاظت زمین پر واپس آگیا۔

2008 – مرکزی حکومت نے ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کھاتوں سے رقم نکلوانے کی سہولت ختم کر دی۔

2020 – پرینکا رادھا کرشنن نیوزی لینڈ میں ہندوستانی نژاد پہلی وزیر بنیں۔

پیدائش

1534 – گرو رام داس – سکھوں کے چوتھے گرو۔

1897 – سہراب مودی – مشہور ہندوستانی اداکار، فلم پروڈیوسر اور ہدایت کار۔

1929 – رام موہن – معروف ہندوستانی کردار نگار اداکار ۔

1941 – ارون شوری – صحافی، دانشور، ممتاز مصنف اور سیاست دان، جو اپنی بے باک نڈر پن کے لیے جانے جاتے ہیں۔

1960 – انو ملک – ہندی فلموں کے موسیقار اور گلوکار۔

1965 – شاہ رخ خان – ہندی فلموں کے اداکار۔

1969 – سنجیو بجاج – 'بجاج فن سرو' کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر۔

1982 – یوگیشور دت – مشہور ہندوستانی پہلوان۔

وفات

1885 – انا صاحب کرلوشکر – ایک مشہور ڈرامہ نگار جنہوں نے مراٹھی تھیٹر میں انقلاب برپا کیا۔

1965 – رسونا سعید – ان بہادر خواتین میں سے ایک جو دوسری جنگ عظیم کے دوران سرگرم تھیں۔

1990 - بھال چندر دگمبر گاروارے - ایک ممتاز ہندوستانی تاجر اور گاروارے گروپ کے بانی۔

2012 - شری رام شنکر ابھینکر - ایک ہندوستانی نژاد امریکی ریاضی دان۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande