حوثی باغیوں کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل اور خودکش ڈرون سے حملہ
صنعا، 7 اکتوبر(ہ س)۔ ایران نواز حوثی باغیوں نے یمن کے بندرگاہی شہر عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائل اور خودکش ڈرون سے نشانہ بنایا، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ اس حملے کے بعد سعودی قیادت وا
حوثی باغیوں کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل اور خودکش ڈرون سے حملہ


صنعا، 7 اکتوبر(ہ س)۔

ایران نواز حوثی باغیوں نے یمن کے بندرگاہی شہر عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائل اور خودکش ڈرون سے نشانہ بنایا، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ اس حملے کے بعد سعودی قیادت والے اتحاد کے لیے یمن میں سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ اتحاد نے ریاض کے شمال میں ایک میزائل کو بھی روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔

یمن کی شہری ہوابازی کی وزارت نے عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’خوفناک حملہ‘‘ قرار دیا۔ وزارت کے مطابق حملے سے مسافروں، ایئرپورٹ ملازمین اور طیارے کے عملے کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا، تاہم ابتدائی رپورٹوں کے مطابق کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی وزارتِ انسانی حقوق نے بتایا کہ ایک میزائل ایئرپورٹ کے رن وے کے قریب گرا۔ حملے کے وقت قاہرہ سے آنے والی یمنیا ایئر ویز کی پرواز 603 کو مسافروں سمیت ایئرپورٹ پر اترنا تھا۔ حملے کے باعث جدہ جانے والی پرواز کے منتظر مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔وزارت نے حملے کو بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے شہریوں کی زندگی، سلامتی اور نقل و حرکت کی آزادی کو خطرہ لاحق ہوا۔ وزارت نے بین الاقوامی برادری اور شہری ہوابازی سے متعلق اداروں سے حملے کی مذمت اور شہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی حوثیوں پر ایسے حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی اپیل کی گئی ہے۔

دوسری جانب سعودی حمایت یافتہ یمنی سرکاری فوج نے بتایا کہ ’’ڈان آف یمن‘‘ آپریشن کے تحت تعز کے جبل حبشی ضلع کی بلند ترین چوٹی پر دوبارہ کنٹرول مضبوط کرلیا گیا ہے۔ سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے زیر قبضہ صنعا، صعدہ اور عمران صوبے سعودی عرب پر ہونے والے میزائل حملوں کے اہم مراکز ہیں۔اقوام متحدہ کی ہجرت سے متعلق ایجنسی کے مطابق اگست سے یمنی سرکاری فوج اور حوثیوں کے درمیان جاری لڑائی میں تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ حوثیوں نے 2014 میں صنعا پر قبضہ کرنے کے بعد اپنی حکومت قائم کرلی تھی۔

ادھر یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ نے واشنگٹن کا دورہ مکمل کرلیا ہے۔ اس دوران انہوں نے امریکی محکمہ خارجہ، قومی سلامتی کونسل اور پینٹاگون کے اعلیٰ حکام کے علاوہ امریکا اور یمن کے ماہرین سے ملاقاتیں کرکے یمن کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande