روس سے بڑھتی کشیدگی کے دوران فرانس کا جدید جوہری میزائل ایم 51.3 کا تجربہ
پیرس، 7 اکتوبر(ہ س)۔ فرانس نے اپنی جوہری دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آبدوز سے داغے جانے والے جدید بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ایم 51.3 کا پہلی بار کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یورپ اور روس کے درمیان کشیدگی می
روس سے بڑھتی کشیدگی کے دوران فرانس کا جدید جوہری میزائل ایم 51.3 کا تجربہ


پیرس، 7 اکتوبر(ہ س)۔ فرانس نے اپنی جوہری دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آبدوز سے داغے جانے والے جدید بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ایم 51.3 کا پہلی بار کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یورپ اور روس کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔فرانسیسی حکام کے مطابق ایم 51.3 میزائل کو برٹنی کے ساحل کے قریب فرانسیسی جوہری آبدوز لے ویژی لان سے داغا گیا۔ حکام نے واضح کیا کہ تجربے کے دوران میزائل میں جوہری وار ہیڈ یا کسی بھی قسم کا جنگی مواد موجود نہیں تھا اور تجربہ فرانس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق نئے میزائل کی درست حدِ پرواز کو خفیہ رکھا گیا ہے، تاہم عوامی طور پر دستیاب اندازوں میں اس کی ممکنہ رینج تقریباً 9 ہزار کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ ایم 51.3 میں سابقہ ورژن کے مقابلے میں زیادہ طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت سمیت متعدد جدید خصوصیات شامل کی گئی ہیں۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے میزائل تجربے کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ فرانس آج پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ ان کے مطابق اس تجربے کے ذریعے فرانس کا پیغام ان لوگوں تک واضح طور پر پہنچ گیا ہے جن کے لیے یہ پیغام اہم ہے۔یہ تجربہ یورپ اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے کالینن گراڈ سمیت مختلف سکیورٹی معاملات پر انتباہات سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ یورپی ممالک روس کی جانب سے ممکنہ ہائبرڈ سرگرمیوں کے خطرات کے حوالے سے بھی خبردار کر رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق فرانس کے پاس دنیا کے بڑے جوہری ذخائر میں سے ایک موجود ہے، جس میں تقریباً 290 جوہری ہتھیار شامل ہیں۔ فرانس کی جوہری دفاعی حکمت عملی بنیادی طور پر چار بیلسٹک میزائل بردار جوہری آبدوزوں اور جنگی طیاروں سے داغے جانے والے جوہری ہتھیاروں پر مشتمل ہے۔دوسری جانب نیٹو کا کہنا ہے کہ اس کی فوجی مشقوں اور سرگرمیوں کا مقصد روسی سرزمین کے لیے خطرہ پیدا کرنا نہیں ہے۔ تاہم یورپی ممالک نے آنے والے مہینوں میں روس کی جانب سے ممکنہ سائبر حملوں، تخریبی کارروائیوں اور دیگر ہائبرڈ خطرات میں اضافے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ماسکو ان الزامات اور خدشات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ روسی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں اور وہ دیگر ممالک کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا خواہاں ہے۔فرانس کا تازہ میزائل تجربہ یورپ میں بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کے درمیان اس کی جوہری دفاعی حکمت عملی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیتوں کو جدید بنانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande