
وارانسی، 7 اکتوبر (ہ س)۔
وارانسی کے سگرا واقع رودراکش بین الاقوامی تعاون و کانفرنس سینٹر میں جاپان کے سابق وزیر اعظم آنجہانی شنزو آبے کی یاد میں تعمیر کیے گئے ’آبے میموریل کوریڈور‘ کا افتتاح وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور شنزو آبے کی اہلیہ آکیے آبے نے مشترکہ طور پر کیا۔ یہ یادگاری راہداری شنزو آبے کے دسمبر 2015 کے تاریخی کاشی دورے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات کی نایاب تصاویر کو محفوظ کیے ہوئے ہے۔
بدھ کو منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھارت اور جاپان کے تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے جاپان کو بھارت کا سچا اور قابلِ اعتماد دوست قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ رودراکش کنونشن سینٹر بھارت اور جاپان کی دوستی کی علامت ہے اور اسی احاطے میں شنزو آبے کی یادوں کو محفوظ کرنا دونوں ممالک کے گہرے تعلقات کا احترام ہے۔
یوگی نے کہا کہ یہ یادگاری راہداری شنزو آبے کو اتر پردیش کے 25 کروڑ عوام کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی اور 140 کروڑ ہندوستانیوں کی ایک عاجزانہ خراجِ عقیدت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان نے کاشی کو رودراکش دیا اور آج کاشی اسی رودراکش میں اس دوستی کی علامت جاپان کے سابق وزیر اعظم آنجہانی شنزو آبے کی یاد کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بھارت اور جاپان کے اقتصادی و صنعتی تعلقات کے ایک نئے دور کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تقریباً 1400 جاپانی کمپنیاں بھارت میں کام کر رہی ہیں۔ اب یہ شراکت داری صرف بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں رہی بلکہ سیمی کنڈکٹر، مصنوعی ذہانت، گرین ہائیڈروجن اور اہم معدنیات جیسے جدید شعبوں تک پھیل چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاپان کے پاس اعلیٰ ٹیکنالوجی اور تجربہ ہے، جبکہ بھارت کے پاس باصلاحیت نوجوانوں کی توانائی اور دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ جب دو عظیم رہنماو¿ں کی دوستی دو ملکوں کے تعلقات کی بنیاد بن جاتی ہے تو تاریخ رقم ہوتی ہے۔
اپنے حالیہ دورہ جاپان کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا کہ فروری میں انہیں جاپان جانے کا موقع ملا تھا۔ ٹوکیو اور یاماناشی میں جاپانی کمپنیوں کے ساتھ ہزاروں کروڑ روپے کے سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ 500 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار والی میگ لیو ٹرین میں سفر کرکے انہوں نے جاپان کی باریک انجینئرنگ کا قریب سے مشاہدہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ جس یاماناشی میں وزیر اعظم نریندر مودی کا استقبال کیا گیا تھا، وہی یاماناشی اب اتر پردیش کا ’گرین ہائیڈروجن انرجی پارٹنر‘ ہے۔ اگست میں یاماناشی کے گورنر نوریکوتسوگو ناگاساکی 200 سے زائد سرمایہ کاروں کے ساتھ اتر پردیش آئے تھے۔
اتر پردیش میں جاپانی سرمایہ کاری کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ نوئیڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ (جیور) کے قریب گریٹر نوئیڈا/ایٹا علاقے میں 500 ایکڑ رقبے پر ایک شاندار ’جاپانی سٹی‘ تیار کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ’انویسٹ یوپی‘ میں ایک مخصوص ’یاماناشی ڈیسک‘ بھی قائم کی گئی ہے۔
تقریب میں ریاستی وزیر (آزادانہ چارج) رویندر جیسوال، میئر اشوک کمار تیواری، ضلع پنچایت صدر پونم موریہ، کینٹ کے رکن اسمبلی سوربھ شریواستو سمیت جاپان سے آئے اعلیٰ سطحی وفد کے ارکان بھی موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ