
اسلام آباد، 7 اکتوبر (ہ س)۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخواہ (کے پی) اور بلوچستان میں الگ الگ مقابلوں میں 18 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ دعوی کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کا تعلق فتنہ الخوارج اور فتنہ ال ہندوستان سے ہے۔ ان دونوں تنظیموں پر پاکستان میں پابندی عائد ہے۔
ڈان اخبار نے اطلاع دی ہے کہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام پاکستان ٹی وی نے بدھ کو نشر ہونے والی رپورٹ میں کہا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں سیکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف شروع کی گئی ایک انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی میں شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے 13 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ اس کے علاوہ، پاکستان ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ بلوچستان کے مستونگ ضلع میں حفاظتی دستوں کے ہاتھوں فتنہ ال ہندوستان سے تعلق رکھنے والے پانچ عسکریت پسند مارے گئے۔ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ برآمد ہوا ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عسکریت پسندوں کے لیے فتنہ الخوارج کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔ حکومت نے بلوچستان میں مقیم عسکریت پسند گروہوں کو فتنہ ال ہندوستان کا نام دیا ہے۔ اس کا مقصد بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی اور عدم استحکام کو ہوا دینے کا الزام لگانا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی