
دبئی، 7 اکتوبر(ہ س)۔
دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کو مبینہ طور پر تباہ کرنے کی کوشش کے معاملے میں زیرِ حراست عمانی شریک پائلٹ حمام الحمامی نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا ہے کہ وہ غزہ میں جاری جنگ کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ملزم نے طیارے کو کسی تنصیب یا دوسرے طیارے سے ٹکرانے کا منصوبہ بنایا تھا۔
رپورٹس کے مطابق حمام الحمامی نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس کا منصوبہ پرواز کو معمول کے مطابق جاری رکھتے ہوئے ضروری لینڈنگ اجازت نامے حاصل کرنا اور بعد ازاں طیارے کو ہوائی اڈے کی کسی تنصیب یا وہاں کھڑے کسی طیارے سے ٹکرا دینا تھا۔ اس مقصد کے لیے وہ کپتان کو بے ہوش یا قابو کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق شریک پائلٹ نے طیارے کے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے تک انتظار کیا اور اس کے بعد کاک پٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ دورانِ پرواز اس نے بھارتی کپتان سمیت عملے کے ارکان پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئے، تاہم کپتان نے مزاحمت کرتے ہوئے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کرلی۔واقعے کے دوران طیارے میں موجود بعض مسافروں نے حملہ آور کو قابو کرلیا، جبکہ ایک مسافر نے طیارے کو مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کی۔ بعد ازاں دو آف ڈیوٹی پائلٹس نے طیارے کے کنٹرول سنبھال لیے اور صورتحال کو قابو میں کیا گیا۔
پرواز میں 170 سے زائد مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے، جن میں بڑی تعداد اسرائیلی شہریوں کی بتائی گئی ہے۔ واقعے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ مشتبہ شخص انتہا پسندانہ نظریات سے متاثر تھا اور اس نے طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔اسرائیلی حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں فلائی دبئی کے دیگر عملے کے ارکان کے مبینہ منصوبے میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔
رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ عمانی حکام نے گزشتہ برس حَمّام الحمّامی کو ملک کی قومی فضائی کمپنی میں پرواز کرنے سے روک دیا تھا۔ تفتیش کار اس کے مبینہ انتہا پسندانہ نظریات، ماضی میں شام میں قیام اور دیگر ممکنہ روابط کے بارے میں بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور حکام کی جانب سے ملزم کے مبینہ منصوبے، اس کے محرکات اور طیارے پر حملے سے متعلق دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan