بھاگلپور میں گنگا ندی پر چکوا پرندوں کا بسیرا، حیاتیاتی تنوع کا دلکش منظر
بھاگلپور، 7 اکتوبر (ہ س)۔ سردی کی آمد کے ساتھ ہی وکرم شلا گنگا ڈولفن پناہ گاہ کے ریتلے کنارے اور گنگا کی پُرسکون لہریں مہاجر پرندوں کی چہچہاہٹ سے گونجنے لگی ہیں۔ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی تبت اور وسط ایشیا کے سرد علاقوں سے ہزاروں میل کا سفر طے ک
بھاگلپور کی گنگا پر ’’ چکوا‘‘ پرندوں کا بسیرا، حیاتیاتی تنوع کا دلکش منظر


بھاگلپور کی گنگا پر ’’ چکوا‘‘ پرندوں کا بسیرا، حیاتیاتی تنوع کا دلکش منظر


بھاگلپور، 7 اکتوبر (ہ س)۔ سردی کی آمد کے ساتھ ہی وکرم شلا گنگا ڈولفن پناہ گاہ کے ریتلے کنارے اور گنگا کی پُرسکون لہریں مہاجر پرندوں کی چہچہاہٹ سے گونجنے لگی ہیں۔ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی تبت اور وسط ایشیا کے سرد علاقوں سے ہزاروں میل کا سفر طے کرکے چکوا بڑی تعداد میں بھاگلپور پہنچ گئے ہیں۔ گنگا کی لہروں پر ان کی اٹھکیلیاں اور ریتلے کنارے پر ان کے جھنڈ مقامی لوگوں اور پرندوں سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک دلکش اور پُرسکون منظر پیش کر رہے ہیں۔

ماہر ماحولیات اور پرندوں کے ماہر دیپک کمار جھنّو کے مطابق چکوا محض ایک مہاجر پرندہ نہیں بلکہ بھاگلپور کی گنگا اور یہاں کے مالامال پرندوں کے مسکن کی ایک اہم شناخت بن چکا ہے۔ ان کے مطابق ہر سال ہجرت کے موسم میں وکرم شیلا گنگا ڈولفن پناہ گاہ کے گنگائی علاقے میں چکوا کی بڑی تعداد نظر آتی ہے۔ گنگا کا پُرسکون پانی اور محفوظ ریتلے کنارے ان پرندوں کے لیے نہایت موزوں ماحول فراہم کرتے ہیں۔ ان کی موجودگی علاقے کے مضبوط اور متنوع ماحولیاتی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔

سائنسی طور پر روڈی شیلڈک کے نام سے جانے والے چکوا کا قدرتی مسکن وسطی ایشیا، تبت اور لداخ کے بلند و سرد علاقے ہیں۔ سردیوں میں ان علاقوں میں شدید برف باری اور خوراک کی قلت کے باعث یہ پرندے ہمالیہ کو عبور کرکے ہندوستان کے میدانی علاقوں، خصوصاً گنگا کے بیسن کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ بھاگلپور کی گنگا میں پائے جانے والے چھوٹے گھونگے، آبی پودے اور مختلف کیڑے مکوڑے ان کے لیے وافر خوراک فراہم کرتے ہیں۔

گنگا میں گنگا ڈولفن کے ساتھ چکوا جیسے خوبصورت مہاجر پرندوں کی آمد اس بات کی علامت ہے کہ یہاں کا ماحولیاتی نظام اب بھی مختلف آبی اور پرندوں کی انواع کے لیے سازگار ہے۔ صبح اور شام کے وقت جب سورج کی سنہری کرنوں کے درمیان چکوا کے جھنڈ ایک ساتھ پرواز کرتے ہیں تو گنگا کا منظر اور بھی دلکش ہوجاتا ہے۔ یہ خوبصورت نظارہ نہ صرف فطرت کے شائقین کو اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے بلکہ بھاگلپور میں ماحولیاتی سیاحت (ایکو ٹورزم) کے امکانات کو بھی فروغ دے رہا ہے۔

مقامی ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ ان مہاجر پرندوں کی حفاظت اور گنگا کے قدرتی مسکن کو محفوظ رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، تاکہ ہر سال یہ علاقہ اسی طرح پرندوں کی آوازوں سے آباد رہے۔

مہاجر چکوا اور دیگر آبی جانداروں کے تحفظ کے لیے بھاگلپور محکمہ جنگلات نے بھی نگرانی سخت کردی ہے۔ وکرم شیلا گنگا ڈولفن پناہ گاہ کے علاقے میں خصوصی گشت کیا جا رہا ہے۔ دریائی کچھوؤں اور پرندوں کے تحفظ سے وابستہ ٹیمیں گنگا کی دھاروں اور ریتلے کناروں پر مسلسل نظر رکھ رہی ہیں، تاکہ شکار یا کسی دوسری سرگرمی کے ذریعے ان مہاجر پرندوں کو نقصان نہ پہنچایا جا سکے۔

سردیوں کے دوران مہاجر پرندوں کے غیر قانونی شکار کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی کے پیش نظر ضلع انتظامیہ اور محکمہ جنگلات نے سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق گنگا کے دیارا اور ساحلی علاقوں میں جال بچھانے یا پرندوں کا شکار کرنے والوں کے خلاف جنگلی حیات کے تحفظ کے قانون کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اس سلسلے میں مقامی ماہی گیروں اور کشتی بانوں کے ساتھ بھی میٹنگ کرکے انہیں مہاجر پرندوں کے تحفظ کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا ہے۔

پرندوں کو دیکھنے کے لیے آنے والے سیاحوں اور فطرت کے شائقین کی بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے گنگا کے کناروں پر برڈ واچنگ کے لیے رہنما اصول بھی جاری کیے ہیں۔ لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرندوں کے جھنڈ کے قریب نہ جائیں اور لاؤڈ اسپیکر، پٹاخوں یا کسی بھی طرح کے تیز شور سے گریز کریں، کیونکہ اس سے مہاجر پرندوں کی نقل مکانی اور قدرتی سرگرمی متاثر ہوسکتی ہے۔

ساحلی گاؤں میں مقامی لوگوں کو شامل کرکے ’پکشِی متر‘ (پرندوں کے دوست) بھی بنائے جا رہے ہیں۔ ان کے ذریعے پرندوں کے تحفظ اور غیر قانونی شکار کی روک تھام کے لیے بیداری مہم چلائی جا رہی ہے۔

بھاگلپور کی گنگا میں ہر سال آنے والے یہ مہاجر پرندے نہ صرف قدرت کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ گنگا کے صحت مند ماحولیاتی نظام کی بھی گواہی دیتے ہیں۔ ان کی حفاظت دراصل گنگا اور اس سے وابستہ پوری حیاتیاتی دنیا کے تحفظ کی کوشش ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande