
کے بی آر پارک فلائی اوور منصوبہ منسوخحیدرآباد ،06 اکتوبر(ہ س)۔ کے بی آرپارک کےاطراف مجوزہ فلائی اووراورانڈرپاس منصوبے کومنسوخ کیے جانے کے بعد تلنگانہ حکومت کوماحولیاتی کارکنوں اوراپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین نے منصوبے کے سلسلے میں تقریباً 3 ہزاردرختوں کی مبینہ کٹائی اورتقریباً 300 کروڑ روپے کے اخراجات پرسوالات اٹھائے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فلائی اووراورانڈرپاس کی تعمیر کے لیے مختلف کاموں پر تقریباً 300 کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے تھے۔ منصوبہ اچانک منسوخ کیے جانے کے بعد ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی رقم کے استعمال اورمنصوبہ بندی کے عمل پروضاحت دی جانی چاہیے۔ ماحولیاتی کارکنوں نے درختوں کی کٹائی پربھی سخت تشویش کا اظہارکیاہے۔ ان کاکہنا ہے کہ کے بی آرپارک کے اطراف بڑے پیمانے پردرختوں کی کٹائی سے ماحول اورشہر کے سبزے کونقصان پہنچا ہے۔ کارکنوں نے سوال اٹھایا کہ منصوبہ منسوخ ہونے کے بعد کیا ان درختوں کو دوبارہ اگایاجاسکتا ہے؟
یہ منصوبہ حیدرآباد میں ٹریفک کے دباؤ کوکم کرنے کے مقصد سے کے بی آرپارک کے اطراف مختلف مقامات پر فلائی اووراورانڈر پاس تعمیرکرنے کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ تاہم اب حکومت کی جانب سے اسے ترک کیے جانے کے بعد منصوبے کی ضرورت، لاگت اورماحولیاتی اثرات پر بحث تیزہوگئی ہے۔
اپوزیشن اورحکومت کے ناقدین نے وزیراعلی اے ریونت ریڈی کی قیادت والی کانگریس حکومت پر جلد بازی میں فیصلے کرنے اور عوامی رقم ضائع کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر منصوبہ منسوخ ہی کیا جانا تھا تو اس پر بھاری رقم خرچ کرنے اور درختوں کی کٹائی کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
اس معاملے نے 2016 کے واقعات کو بھی دوبارہ بحث میں لا دیا ہے۔ اس وقت سابق بی آرایس حکومت نے کے بی آر پارک کے اطراف فلائی اووراورانڈرپاس تعمیرکرنے کی تجویزپرغورکیا تھا، لیکن ماحولیاتی کارکنوں کے اعتراضات اور تجاویز کے بعد مبینہ طور پر درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی کیے بغیر منصوبے سے دستبرداری اختیار کرلی گئی تھی۔
بعد ازاں موجودہ منصوبے کے خلاف ماحولیاتی کارکنوں نے ’سیو کے بی آر‘ (Save KBR) مہم کے تحت احتجاج کیا اور درختوں اور پارک کے ماحول کو نقصان پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے۔
اب منصوبہ منسوخ کیے جانے کے بعد ماحولیاتی کارکنوں اور عوام کی جانب سے سوال اٹھایا جارہا ہے کہ ہزاروں درختوں کی کٹائی اور کروڑوں روپے کے اخراجات کے بعد منصوبے کو ترک کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
اس معاملے نے حیدرآباد میں شہری ترقی، ماحولیاتی تحفظ، درختوں کی کٹائی اور عوامی فنڈز کے مؤثر استعمال سے متعلق ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
۔ ۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق