
ممبئی، 5 اکتوبر (ہ س)۔ اداکار سنجے دت اپنے حالیہ بیان کو لے کر تنازعہ میں گھر گئے ہیں۔ شیکھر سمن کے شو ’شیکھر ٹونائٹ‘ میں گفتگو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ اب انہیں ہندوستان میں پہلے جیسا سکون محسوس نہیں ہوتا۔ ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ بڑھتے ہوئے تنازعے کے درمیان اداکار نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کا اشتراک کرکے اپنے بیان پر وضاحت دی ہے۔
سنجے دت نے کہا کہ ان کا مقصد کسی فرد، برادری یا ادارے کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا، ان کی توہین کرنا یا بے ادبی کرنا ہرگز نہیں تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا تبصرہ پہلے سے طے شدہ گفتگو کا حصہ تھا، جس کا مقصد ماحول کو ہلکا پھلکا اور مزاحیہ بنانا تھا۔ اداکار نے اپنے بیان کو ’منا بھائی‘ جیسی فلموں میں پیش کیے گئے مزاح اور طنز سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ان کا اشارہ ’گاندھی گیری‘ کی اس سوچ کی طرف تھا، جو محبت، اپنائیت، اتحاد اور خیرسگالی کا پیغام دیتی ہے۔
دراصل شو کے دوران سنجے دت نے کہا تھا کہ ہندوستان کے لوگ بہت پیارے ہیں اور ملک میں امن و سکون کا ماحول ہونا چاہیے۔ اسی دوران انہوں نے کہا، ”مجھے اب اپنے ملک میں وہ سکون محسوس نہیں ہوتا۔“ ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر مختلف طرح کے ردعمل سامنے آئے۔ اب اداکار نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے الفاظ کو اس تناظر سے الگ کرکے سمجھا گیا، جس میں انہوں نے یہ بات کہی تھی۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ان کی نیت کسی کے جذبات کو مجروح کرنا نہیں تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد