حوثی باغیوں کے خلاف یمن میں بڑے فوجی آپریشن کا اعلان، صدر نے کہا: قبضے والے علاقے واپس لیں گے
صنعا، 4 اکتوبر (ہ س):۔ یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف جاری تنازع ایک بار پھر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے صدر رشاد العلیمی نے حوثیوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو واپس لینے کے لیے بڑے فو
حوثی باغیوں کے خلاف یمن میں بڑے فوجی آپریشن کا اعلان، صدر نے کہا: قبضے والے علاقے واپس لیں گے


صنعا، 4 اکتوبر (ہ س):۔

یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف جاری تنازع ایک بار پھر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے صدر رشاد العلیمی نے حوثیوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو واپس لینے کے لیے بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کا مقصد ملک کے پورے علاقے میں حکومت اور ریاستی اداروں کی عمل داری بحال کرنا ہے۔

ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے العلیمی نے کہا کہ حکومت ملک کے باقی ماندہ علاقوں کو واپس لینے اور پورے قومی خطے میں ریاست کا کنٹرول قائم کرنے کے لیے فوجی آپریشن شروع کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مہم کا مقصد ملک کے تمام علاقوں میں حکومت اور اس کے اداروں کی عمل داری یقینی بنانا ہے۔

علاقائی اور مغربی حکام کے مطابق سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمنی دستے طویل عرصے سے حوثیوں کے خلاف بڑے جوابی آپریشن کی تیاری کر رہے تھے۔ مجوزہ حکمت عملی میں سعودی عرب کی جانب سے فضائی حملے اور یمنی اتحادی افواج کی جانب سے زمینی کارروائی شامل ہونے کی بات کہی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حوثی باغیوں نے انتہائی اہم باب المندب آبنائے پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کرلیا ہے۔ بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع یہ آبی گزرگاہ بحیرہ روم اور ایشیا کے درمیان اہم سمندری تجارتی راستوں میں شامل ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز میں آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ دوسری جانب گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران حوثیوں نے تعز کے آس پاس واقع اہم پہاڑی علاقوں میں بھی پیش قدمی حاصل کی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande