
کوئٹہ(بلوچستان)، پاکستان، 4 اکتوبر (ہ س)۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کی خواتین شاخ کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن اور ہراول دستے کی قربان یونٹ نے یکم اکتوبر کو مشترکہ طور پر واشک کے مشکِل گُرِندر علاقے میں فرنٹیئر کور (ایف سی)کی 58ویں ونگ کے مرکزی فوجی کیمپ پر حملہ کر کے اسے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حملے میں کیمپ کے 18 اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی بات کہی گئی ہے۔
’دی بلوچستان پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق بی ایل ایف کے ترجمان میجر غورم بلوچ نے دعویٰ کیا کہ کیمپ کو گھیر کر راکٹ، گرینیڈ لانچر اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔ ان کے مطابق حملے میں پاکستانی فوج کے 18 اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ اس دوران فوج کے کئی اہلکار کیمپ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ فوج کی مدد کے لیے پہنچنے والی اضافی نفری کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں کئی اہلکار ہلاک ہوئے اور اضافی فورس کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔
بلوچ نے کہا کہ فوج ہلاکتوں کی تعداد چھپا رہی ہے، تاہم بعد میں لاشیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پنجگور پہنچائی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس لڑائی میں تنظیم کے دو کمانڈروں، شہید ساجد عرف مہران اور عبدالخالق عرف نوٹک، کی بھی موت ہوئی۔
بیان میں کہا گیا کہ اس حملے میں کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن کا اہم کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ نیشنل موومنٹ میں خواتین اب صرف سیاسی یا نظریاتی سرگرمیوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ مبینہ طور پر حکومتی پالیسیوں کے خلاف مسلح جدوجہد میں بھی شامل ہو رہی ہیں۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
دوسری جانب ’دی بلوچستان پوسٹ‘ کی ایک اور رپورٹ کے مطابق پنجگور ضلع کے جائین علاقے کے پروم کے رہائشی محمود ہاشم کو پاکستانی فوج نے ایک بار پھر حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔ ہاشم کو اس سے قبل 16 مارچ اور 3 جون 2021 کو حراست میں لینے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ ان کے رشتہ داروں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے محمود ہاشم کی تلاش میں مدد کی اپیل کی ہے۔
ادھر کیچ ضلع کی تحصیل بلیدہ کے جریدان علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ مقتول کی شناخت حامد اولد سید کے طور پر ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کے لیے مخبری کرتا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan