برسوں شہر میں گزارے، گاؤں واپس آکر روزگار کھڑا کیا
پوڑی گڑھوال، 4 اکتوبر (ہ س):۔ پہاڑی علاقوں سے روزگار کی تلاش میں شہروں کی جانب نقل مکانی کی کہانیاں عام ہیں، لیکن کوٹ بلاک کے کاندئی گاؤں کے رہنے والے سنجیو بچھیتی نے اس کے برعکس راستہ اختیار کیا۔ دہلی-این سی آر میں 26 سال گزارنے کے بعد وہ کورون
برسوں شہر میں گزارے، گاؤں واپس آکر روزگار کھڑا کیا


پوڑی گڑھوال، 4 اکتوبر (ہ س):۔

پہاڑی علاقوں سے روزگار کی تلاش میں شہروں کی جانب نقل مکانی کی کہانیاں عام ہیں، لیکن کوٹ بلاک کے کاندئی گاؤں کے رہنے والے سنجیو بچھیتی نے اس کے برعکس راستہ اختیار کیا۔ دہلی-این سی آر میں 26 سال گزارنے کے بعد وہ کورونا وبا کے دوران 2020 میں گاؤں واپس آئے اور دوبارہ شہر جانے کے بجائے وہیں روزگار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہلدی، مرچ اور دھنیا سے شروع ہونے والا ان کا کاروبار آج ’مانجی مصالحے‘ کے نام سے اپنی شناخت بنا چکا ہے۔

وزیر اعظم روزگار اسکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سنجیو نے گاؤں میں مصالحہ یونٹ قائم کیا۔ ابتدا میں محدود مصنوعات سے شروع ہونے والا کاروبار رفتہ رفتہ وسعت اختیار کرتا گیا۔ اس وقت یونٹ میں ہلدی، مرچ، دھنیا، سبز اور بڑی الائچی، تیز پات کے علاوہ منڈوا، جھنگورا اور مختلف پہاڑی دالوں سے تیار ہونے والی مصنوعات بھی بنائی جارہی ہیں۔ آس پاس کے گاو¿ں سے خام مال حاصل کرکے اس کی صفائی، پسائی اور پیکنگ کا کام بھی اسی یونٹ میں کیا جاتا ہے۔

سنجیو نے کاروبار کو صرف اپنے خاندان تک محدود نہیں رکھا۔ یونٹ میں چار خواتین پیداوار اور مارکیٹنگ سے وابستہ ہیں، جبکہ مصنوعات کی سپلائی اور دیگر کاموں میں تین افراد تعاون کر رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ اور بڑا بیٹا بھی کاروبار میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس طرح تقریباً آٹھ افراد براہِ راست اس خود روزگار سرگرمی سے وابستہ ہیں۔

یونٹ میں کام کرنے والی کویتا دیوی اور دیپتی دیوی گزشتہ تقریباً چار برس سے اس کام سے وابستہ ہیں۔ گھریلو ذمہ داریاں نبھانے کے بعد دونوں گاؤں کے قریب واقع یونٹ میں کام کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گھر کے قریب روزگار ملنے سے وہ گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ خاندان کی آمدنی میں بھی تعاون کر پا رہی ہیں۔

سنجیو کے بڑے بیٹے اکشت بچھیتی نے دہلی-این سی آر میں بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے شہر میں ملازمت تلاش کرنے کے بجائے گاؤں میں رہ کر والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹانے کا فیصلہ کیا۔ اکشت کا کہنا ہے کہ والدین کے ساتھ گاؤں میں رہ کر کام کرنے میں انہیں خوشی ملتی ہے۔ نوجوانوں کو ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنے گاؤں میں موجود خود روزگار کے امکانات پر بھی غور کرنا چاہیے۔

چیف ڈیولپمنٹ آفیسر اشوک جوشی نے بتایا کہ سنجیو بچھیتی نے وزیر اعظم روزگار اسکیم کے تحت مصالحہ یونٹ قائم کرنے کے لیے قرض لیا تھا اور انہیں 35 فیصد سبسڈی کا فائدہ ملا۔ اس وقت یونٹ بہتر طریقے سے چل رہا ہے اور اس کی مصنوعات کی مانگ پوری کے علاوہ ٹہری، دہرادون اور دیگر علاقوں میں بھی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے انہیں ضروری تعاون فراہم کیا جارہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande