مدھیہ پردیش میں ترقی کی رفتار بڑھانے پر فوکس، رواں سال ترقیاتی کاموں پر ایک لاکھ کروڑ سے زائد خرچ ہوں گے
87 ہزار کروڑ کی قرض حد، ستمبر تک 37,400 کروڑ روپے حاصل کیے، سڑک اور ڈیم سے لے کر بجلی اور آبپاشی تک بڑے منصوبے بھوپال، 04 اکتوبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل جمع کرنے کی حکمت عملی تیار
سڑک کی تعمیر و ترقی کی علامتی تصویر اور وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی فائل فوٹو


87 ہزار کروڑ کی قرض حد، ستمبر تک 37,400 کروڑ روپے حاصل کیے، سڑک اور ڈیم سے لے کر بجلی اور آبپاشی تک بڑے منصوبے

بھوپال، 04 اکتوبر (ہ س)۔

مدھیہ پردیش حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل جمع کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ مالی سال 27-2026 میں مرکز کی جانب سے مقرر کردہ تقریباً 87 ہزار کروڑ روپے کی قرض حد کے تحت ستمبر تک آر بی آئی کے ذریعے 37,400 کروڑ روپے اکٹھے کیے جا چکے ہیں، جبکہ سڑک، آبپاشی، بجلی، ڈیم، نہروں، ایکسپریس وے، میڈیکل کالجوں اور دیگر کیپٹل پروجیکٹس پر رواں سال ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد خرچ کرنے کا ہدف ہے۔

محکمہ رابطہ عامہ کے افسر سنتوش مشرا نے اتوار کو بتایا کہ مدھیہ پردیش حکومت مضبوط مالیاتی انتظام کے ساتھ سڑک، ایکسپریس وے، آبپاشی، ڈیم، نہروں، بجلی، میڈیکل کالجوں، اسکول و کالجوں اور دیگر بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام کر رہی ہے۔ ان منصوبوں کے لیے درکار فنڈز کے انتظام کی خاطر ریاستی حکومت مالیاتی ذمہ داری اور بجٹ مینجمنٹ (ایف آر بی ایم) ایکٹ اور مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ قرض کی حد کے تحت ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے توسط سے قرض لیتی ہے۔ حکومت کا واضح موقف ہے کہ قرض کا استعمال تعمیر و ترقی اور کیپٹل اثاثوں کی تخلیق کے لیے کیا جائے، نہ کہ روزمرہ کے محصولات کے اخراجات (ریونیو ایکسپینڈیچر) کے لیے۔

انہوں نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبے وقت سے پہلے مکمل ہونے سے سماج کو دور رس فائدے حاصل ہوتے ہیں اور معیشت پر بھی اس کا مثبت اثر پڑتا ہے۔ ریاستی حکومتیں مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ قرض کی حد کے اندر ضرورت کے مطابق وقتاً فوقتاً آر بی آئی کے ذریعے قرض لیتی ہیں اور وقتاً فوقتاً اس کی واپسی کی ادائیگی بھی کرتی ہیں۔ اس نظام کے تحت آر بی آئی ہر منگل کو نیلامی کرتی ہے، جس میں ریاستی حکومتیں اپنی ضرورت کے مطابق ماہانہ دو بار شرکت کرتی ہیں۔

محکمہ رابطہ عامہ کے افسر نے بتایا کہ مالی سال 27-2026 کے لیے حکومتِ ہند نے مدھیہ پردیش کے لیے قرض کی حد تقریباً 87 ہزار کروڑ روپے مقرر کی ہے۔ ریاستی حکومت اس حد کے تحت لیے گئے قرض کو ترقیاتی کاموں میں استعمال کرتی ہے، جس سے آبپاشی، سڑک اور بجلی کے کیپٹل منصوبوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ریاستی حکومت نے ستمبر 2026 تک آر بی آئی کے ذریعے 37 ہزار 400 کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جب ریاستی حکومت ڈیم، نہروں، سڑکوں، ایکسپریس ویز اور بجلی جیسے منصوبوں پر سرگرمی سے کام کرتی ہے تو ان کے لیے اضافی مالی وسائل کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پروجیکٹ پر مبنی کیپٹل اخراجات کے لیے وقتاً فوقتاً قرض لینا ایک مثبت قدم ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاستی حکومت مختلف ترقیاتی کاموں پر تیز رفتاری کے ساتھ عمل پیرا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آر بی آئی کے ای-کبیر پلیٹ فارم کے ذریعے اسٹیٹ ڈیولپمنٹ لون (ایس ڈی ایل) کے لیے مسابقتی بولیاں حاصل کی جاتی ہیں۔ اس کے تحت آر بی آئی کے ذریعے مارکیٹ سے کم سے کم اور موافق شرحِ سود پر قرض حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مدھیہ پردیش کا مالیاتی نظم و نسق انتہائی مضبوط ہے اور اسی بنا پر گزشتہ برسوں میں لیے گئے قرضوں کی سو فیصد واپسی وقت پر ہو رہی ہے۔ مدھیہ پردیش نے واپسی کی اس مالیاتی ذمہ داری کو پورا کرنے میں کبھی بھی ڈیفالٹ نہیں کیا ہے۔

محکمہ رابطہ عامہ کے افسر نے بتایا کہ مدھیہ پردیش میں آر بی آئی کے ذریعے حاصل ہونے والا قرض ہمیشہ کیپٹل اخراجات، یعنی سڑک، بجلی اور آبپاشی جیسے ترقیاتی کاموں کے لیے ہی لیا جاتا ہے۔ تنخواہوں اور لاڈلی بہنا جیسی سماجی بہبود کی اسکیموں کے روزمرہ اخراجات کے لیے حکومت کی جانب سے الگ سے کوئی قرض نہیں لیا جاتا۔ ترقیاتی کاموں کے لیے وسائل جمع کرنے کی خاطر ریاستی حکومت نے کسی بھی ٹیکس میں غیر معمولی اضافہ نہیں کیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار رقم کا انتظام بڑھتے ہوئے جی ایس ڈی پی کے تناسب سے مقررہ قرض حد اور ریاست کے اپنے وسائل سے کیا جا رہا ہے، جس کے باعث عام عوام پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ نہیں ڈالا گیا ہے۔

اس سلسلے میں ریاستی حکومت کے چند اہم حقائق اور اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

دستورِ ہند کی دفعہ 293(3) کے تحت ریاستی حکومتیں مرکزی حکومت کی منظوری سے قرض لیتی ہیں، جس کی سالانہ حد عموماً مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی) کا زیادہ سے زیادہ 3 فیصد ہوتی ہے۔ جی ایس ڈی پی میں اضافہ ہونے سے ریاستی حکومتوں کی قرض لینے کی صلاحیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ سڑک، بجلی، ڈیم اور نہروں جیسے ترقیاتی منصوبوں سے جی ایس ڈی پی میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے ریاستی حکومت کے لیے مزید قرض حاصل کرنے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔

اس مالی سال میں مدھیہ پردیش حکومت کا ہدف اپنی ذاتی آمدنی، مختلف کارپوریشنوں اور آر بی آئی کے ذریعے حاصل شدہ قرض سے ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد رقم سڑک، ڈیم، بجلی اور نہروں کی تعمیر جیسے کاموں پر خرچ کرنے کا ہے۔ اس ہدف کے حصول پر یہ مدھیہ پردیش حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ ریاست میں ہزاروں کروڑ روپے کے سڑک منصوبے، کین-بیتوا اور پاروتی-کالی سندھ-چمبل ندی جوڑو منصوبے اور ان سے متعلق ڈیم و نہروں کی تعمیر کے بڑے پروجیکٹس دیگر کاموں کے ساتھ تیزی سے جاری ہیں۔

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش حکومت نہ صرف سڑکوں کی تعمیر، کین-بیتوا پروجیکٹ، پاروتی-کالی سندھ-چمبل ندی جوڑو پروجیکٹ، ڈیم، نہروں اور بجلی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، بلکہ عام شہریوں کے لیے اسکول و کالجوں کی تعمیر، یونیورسٹیوں کی توسیع، میڈیکل کالجوں اور عوام کے تحفظ کے لیے محکمہ پولیس کے تحت ہونے والی تعمیرات جیسے دیگر ترقیاتی کام بھی انجام دے رہی ہے۔ ہزاروں کروڑ روپے کے ان تمام ترقیاتی کاموں پر رواں سال تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کا خرچ متوقع ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے اتنی بڑی رقم کی گنجائش اسی لیے ممکن ہو سکی ہے، کیونکہ مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی) میں ہر سال مسلسل اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔ جی ایس ڈی پی میں اضافے سے اس کی 3 فیصد کی حد تک قرض حاصل کرنے کی اہلیت بھی بڑھتی ہے، جس کا فائدہ مدھیہ پردیش حکومت مندرجہ بالا ترقیاتی منصوبوں میں حاصل کر رہی ہے۔

مالیاتی نظم و نسق کے ایک انتہائی اہم معیار ”قرض بمقابلہ جی ایس ڈی پی تناسب“ کے تناظر میں مدھیہ پردیش کا تناسب 32.53 فیصد ہے، جو مروجہ معیارات کے عین مطابق ہے۔ مالیاتی نظم و نسق کا ایک اور پیمانہ، یعنی سود کی ادائیگی اور محصولات کی وصولی کا تناسب، بھی محض 11-10 فیصد پر برقرار ہے، جو کہ ایک انتہائی محفوظ ترین سطح ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande