
رانچی، 4 اکتوبر (ہ س)۔ پولیس نے ہفتے کی رات رانچی میں ہوٹلوں اور بارز کی آڑ میں چلنے والے جسم فروشی کے ایک مبینہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) راکیش رنجن کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، پولیس کی خصوصی ٹیموں نے کوتوالی اور لال پور علاقوں میں چھ سے زائد ہوٹلوں اور بارز پر چھاپے مارے۔
اس کارروائی کے دوران، کچہری چوک کے قریب واقع ایک ہوٹل (کورنتھیا سویٹس اینڈ ہاسپیٹیلیٹی) میں جسم فروشی کے ایک مبینہ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا۔ پولیس نے ہوٹل کے کمروں سے چھ سے زائد نوجوان خواتین کو حراست میں لیا، جبکہ کئی نوجوان مردوں کو بھی پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا۔
پولیس کے مطابق، انہیں اطلاع ملی تھی کہ ہوٹل میں بک کیے گئے کمروں میں غیر اخلاقی سرگرمیاں کی جا رہی ہیں۔ معلومات کی تصدیق کے بعد پولیس ٹیم نے اچانک چھاپہ مارا۔ ٹیم نے استقبالیہ (ریسیپشن) سے لے کر مہمانوں کے کمروں تک عمارت کا معائنہ کیا اور ہوٹل کے مہمانوں کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی۔ کارروائی کے دوران کئی اہم شواہد برآمد ہوئے۔
پولیس نے فورنسک جانچ کے لیے جائے وقوعہ سے ملنے والے موبائل فونز اور دیگر اشیاء کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ اس تفتیش کے ذریعے وہ یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خواتین کو ہوٹل کون لایا تھا، گاہکوں سے رابطہ کیسے قائم کیا جاتا تھا اور مالی لین دین کیسے ہوتا تھا۔ پولیس کو اس پورے معاملے میں دلالوں (بروکرز) کے ملوث ہونے کا بھی شبہ ہے۔
کوتوالی کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) نکھل رائے نے اتوار کو بتایا کہ تفتیش جاری ہے۔ حکام ہوٹل کی دستاویزات، کمروں کی بکنگ کے ریکارڈ اور ضبط شدہ موبائل فونز سے حاصل کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مخصوص ہوٹل کے خلاف کارروائی کے بعد، پولیس نے شہر بھر کے دیگر ہوٹلوں اور بارز میں بھی جانچ پڑتال کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ لال پور علاقے میں کئی بارز کا بھی معائنہ کیا گیا اور مشکوک افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔
پولیس حکام نے کہا کہ اس مہم کا مقصد ہوٹلوں اور بارز کی آڑ میں ہونے والی مشکوک سرگرمیوں کی روک تھام کرنا ہے۔ مبینہ نیٹ ورک میں ملوث افراد اور ان کے کردار کے بارے میں واضح تصویر تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ اس معاملے کی تفتیش جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی