
نئی دہلی، 4 اکتوبر(ہ س )۔
انڈیا گیٹ پر بی جے پی کی دہلی پولیس نے ایک بار پھر بربریت کی تمام حدیں پار کردیں۔ گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے جنتر منتر سے پیدل مارچ کرکے انڈیا گیٹ پہنچنے والے عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنماوں سمیت طلبہ ونگ اے سیپ کے کارکنان کے ساتھ پولیس نے جم کر بدسلوکی کی۔ دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج، رکن اسمبلی سنجیو جھا، کلدیپ کمار سمیت دیگر رہنماوں کو پولیس نے حراست میں لے کر انتہائی بے رحمی سے بس میں ٹھونس دیا۔ اس دوران سوربھ بھاردواج کو کچھ پولیس اہلکاروں نے ٹانگوں سے پکڑ کر اوپر اٹھا لیا، جس سے ان کا منہ نیچے کی طرف ہوگیا اور انہیں سانس لینے میں دشواری ہونے لگی، تب انہیں چھوڑا گیا۔ پولیس کی اس بربریت پر آپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی بربریت بالکل چونکا دینے والی ہے۔ مودی جی نے ہٹلر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔دوسری جانب حراست میں لیے جانے کے بعد آپ کے ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ پولیس مجھے اس طرح اٹھا کر پھینک رہی ہے جیسے میں کوئی فٹ بال ہوں۔ پولیس نے مجھے ٹانگیں اوپر اور سر نیچے کرکے اٹھا کر لے گئی۔ سب نے دیکھا کہ یہ لوگ ہمارے ساتھ کس قدر بدتمیزی کر رہے ہیں۔ اتنی بڑی پولیس فورس ہونے کے باوجود یہ اپنے اے سی پی کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کر رہے ہیں اور نہ ہی اسے گرفتار کر رہے ہیں۔ جو لوگ اس لڑکی کے حق میں یہاں پُرامن طریقے سے کھڑے ہیں، پولیس ان کے ساتھ اس طرح کی بدتمیزی کر رہی ہے۔ یہ پولیس والے عام آدمی کو کیا سمجھتے ہیں؟ جب یہ رہنماوں اور صحافیوں کے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ہیں تو عام عوام کے ساتھ کیسا برتا وکرتے ہوں گے؟ دہلی پولیس نے بربریت کی انتہا کردی ہے۔ مرکز کی بی جے پی حکومت کو اب جانا ہی ہوگا۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ انڈیا گیٹ آئیں اور اس ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔اس دوران براڑی سے آپ کے رکن اسمبلی سنجیو جھا نے کہا کہ اقتدار چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ عوام کے سوالات سے فرار نہیں ہوسکتا۔ ووٹ ہمارا ہے، آئین ہمارا ہے اور جمہوریت بھی ہماری ہے۔ انتخابی عمل اور ووٹ کے حق سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا جواب خاموشی، دباو یا پولیس کارروائی سے نہیں بلکہ شفافیت اور حقائق کے ذریعے دینا ہوگا۔ نہ سوال دبیں گے، نہ آواز رکے گی، نہ کسی کو جواب دہی سے بھاگنے دیا جائے گا اور نہ ہی جمہوری حقوق پر کوئی سمجھوتہ ہوگا۔ سنجیو جھا نے مزید کہا کہ ہم انڈیا گیٹ سے جنتر منتر تک مارچ کرنے آئے تھے، لیکن پولیس فورس گیانیش کمار جیسے غداروں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ گیانیش کمار نے اس ملک کے ساتھ غداری کی ہے، چوری سے بی جے پی کی حکومت بنوائی ہے اور لوگوں کے ووٹ دینے کا حق چھینا ہے۔ جب تک گیانیش کمار کو ہٹایا نہیں جاتا، ہمارا یہ احتجاج جاری رہے گا۔ ایک طرف حکومت کی آمریت ہے اور دوسری طرف ہماری جدوجہد ہے۔ ہم اپنی جان کی بازی لگا کر اس ملک کی جمہوریت کی حفاظت کریں گے اور گیانیش کمار کا استعفیٰ لے کر ہی رہیں گے۔دوسری جانب کونڈلی سے رکن اسمبلی کلدیپ کمار نے کہا کہ ملک کے غدار گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا ہی پڑے گا۔ گیانیش کمار ووٹ چور ہیں اور انہوں نے غریبوں کے ووٹ کاٹے ہیں۔ امت شاہ اور مودی انہیں بچانا چاہتے ہیں، لیکن گیانیش کمار اب نہیں بچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار جیسے غدار کو اس عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے لوگوں کے ووٹ دینے کا حق چھینا ہے اور چوری سے بی جے پی کی حکومت بنوائی ہے۔ جب تک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے نہیں ہٹایا جاتا اور ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے، تب تک سڑک سے لے کر ایوان تک، جہاں ضرورت پڑے گی، ہماری یہ تحریک جاری رہے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais