
نئی دہلی،04اکتوبر(ہ س )۔
عام آدمی پارٹی نے تلک نگر میں نو تعمیر شدہ سڑک کی تعمیر میں ہوئی مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں اے سی بی سے رجوع کیا ہے۔ منگل کو پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج اور تلک نگر کے رکن اسمبلی جرنیل سنگھ اے سی بی دفتر پہنچے اور تحریری شکایت دے کر وزیر پرویش ورما کے پی ڈبلیو ڈی محکمہ میں 23 کروڑ روپے کے ٹینڈر میں ہوئی مبینہ بدعنوانی کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کرکے جانچ کا مطالبہ کیا۔ اس سلسلے میں سوربھ بھاردواج نے کہا کہ وزیر نے نوجوان کا فون چھین کر بدعنوانی اور اپنے رویے کے ثبوت مٹانے کی کوشش کی۔ الزام ہے کہ مقررہ وضاحتوں کے مطابق سڑک تعمیر نہیں کی گئی اور جب ایک نوجوان اس کی ویڈیو ریکارڈ کر رہا تھا تو وزیر نے اس کے ساتھ مارپیٹ کی۔ پرویش ورما نے بدعنوانی کی جانچ کرانے اور جواب دہی طے کرنے کے بجائے افسران کا دفاع کیا۔ ضرورت پڑی تو ہم عدالت کا رخ بھی کریں گے۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اے سی بی کے ڈی سی پی پیوش جین کو دی گئی تحریری شکایت میں کہا گیا ہے کہ پی ڈبلیو ڈی کا 23 کروڑ روپے کا ایک ٹینڈر ہوا تھا، جس میں وضاحت کے مطابق موٹی سڑک تعمیر کی جانی تھی۔ لیکن یہ صاف نظر آ رہا ہے اور سب نے دیکھا ہے کہ سڑک مقررہ معیار کے مطابق نہیں بنی، اسی لیے وہ ہاتھوں سے اکھڑ رہی ہے۔ یہ واضح ہے کہ اس کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر کروڑوں روپے کی بدعنوانی ہوئی ہے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ جب صاحب سنگھ نامی 22 سالہ نوجوان فون پر اس بدعنوانی کی ویڈیو بنا رہا تھا تو محکمہ کے وزیر پرویش ورما کو جانچ کرانے اور افسران کی جواب دہی طے کرنے کی بات کہنی چاہیے تھی۔ لیکن اس کے بجائے وہ افسران کا دفاع کرتے ہوئے خراب سڑک کو اچھی سڑک قرار دے رہے تھے اور نوجوان یہ سب ریکارڈ کر رہا تھا۔ اس بدعنوانی اور وزیر کے طرزِ عمل کے تمام ثبوت اس فون میں ریکارڈ ہو رہے تھے، جسے پرویش ورما نے جھپٹ کر نوجوان کے ہاتھ سے چھین لیا اور اسے تھپڑ مارا۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ پرویش ورما کے خلاف بدعنوانی کے معاملے میں ثبوت مٹانے، بدعنوانی کو بے نقاب کرنے والے شخص پر جسمانی حملہ کرنے اور مجرمانہ دھمکی دینے کے معاملات بنتے ہیں۔ دہلی پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا، اس لیے ہم اے سی بی کے پاس آئے ہیں تاکہ بدعنوانی کے پہلو سے ان کے خلاف مقدمہ درج ہو سکے۔ اگر پولیس مقدمہ درج نہیں کرے گی تو ہم عدالت جائیں گے۔ ہم خاموشی سے گھر بیٹھنے والے نہیں ہیں اور اس معاملے کو اس کے منطقی انجام تک لے کر جائیں گے۔ وہیں، تلک نگر کے رکن اسمبلی جرنیل سنگھ نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا جو سڑک گھوٹالہ آج کل زیرِ بحث ہے اور جس کے نتیجے میں تھپڑ کا واقعہ پیش آیا، اس کی شکایت آج دہلی اے سی بی کو دی گئی ہے۔ ڈی سی پی پیوش جین سے ملاقات کرکے رکن اسمبلی کلدیپ کمار، سنجیو جھا اور پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے انہیں تفصیل سے پورا معاملہ سمجھایا۔ ڈی سی پی نے تمام باتیں سنیں، معاملے کو سمجھا اور ہمیں یقین دلایا کہ اس معاملے میں جلد ہی سخت اور مناسب کارروائی کی جائے گی۔جرنیل سنگھ نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی تقریباً 40 دن قبل، 21 اگست کو سوربھ بھاردواج اور رکن اسمبلی سنجیو جھا کی جانب سے کی گئی سائیکل گھوٹالے کی شکایت کے بارے میں بھی اے سی بی سے تفصیلات طلب کی گئیں۔ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اے سی بی اس معاملے میں کوئی معلومات نہیں دے سکی اور یہ تک نہیں بتا سکی کہ اس معاملے میں کون سا تفتیشی افسر (آئی او) مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم، اے سی بی نے ایک بار پھر یقین دلایا ہے کہ کارروائی جاری ہے اور بہت جلد اس پر بھی اقدامات کیے جائیں گے۔جرنیل سنگھ نے کہا کہ اب یہ دیکھنا ہے کہ اے سی بی کی کارروائی کتنے دنوں میں شروع ہوتی ہے، کیا اس بار وزیر کے خلاف کارروائی ہوتی ہے اور ایف آئی آر کب درج ہوتی ہے۔ گھوٹالے سب کے سامنے آ چکے ہیں، لیکن محکمہ کا کارروائی کرنے کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے۔ ایسے میں ہمیں امید ہے کہ دہلی کی اے سی بی جلد از جلد اپنا کام کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais