بنفشی کھیت، روشن امیدیں : پانپور میں زعفران کے پھول چننے کا آغاز
بنفشی کھیت، روشن امیدیں : پانپور میں زعفران کے پھول چننے کا آغازاز: ظہور حسین بٹ سری نگر، 30 اکتوبر (ہ س)۔ وادی کشمیر میں مشہور فصل زعفران کے پھول چننے کا موسم شروع ہو گیا ہے اور وقت۔وقت پر ہونے والی بارش کے پیش نظر کاشتکار امسال گزشتہ برسوں کے مق
Saffron Harvesting


بنفشی کھیت، روشن امیدیں : پانپور میں زعفران کے پھول چننے کا آغازاز: ظہور حسین بٹ

سری نگر، 30 اکتوبر (ہ س)۔ وادی کشمیر میں مشہور فصل زعفران کے پھول چننے کا موسم شروع ہو گیا ہے اور وقت۔وقت پر ہونے والی بارش کے پیش نظر کاشتکار امسال گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہتر پیداوار کی توقع کر رہے ہیں۔ زعفران کی پیداوار کے لیے مشہور جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے قصبہ پانپور کے کھیتوں میں زعفران کے پھول کھل رہے ہیں۔ جہاں جہاں نمی ہے، وہاں کاشتکار پھول چننے میں مصروف دیکھے جا رہے ہیں اور آنے والے وقت میں اس کام میں تیزی آئے گی۔

وادی میں زعفران کے پھول چننے کا کام اکتوبر کے آخری ہفتے سے شروع ہو کر نومبر کے اواخر تک جاری رہتا ہے اور یہ سیزن ایک تہوار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ ایران، اسپین اور افغانستان جیسے ممالک میں بھی زعفران کی فصل اگائی جاتی ہے، لیکن کشمیر میں تیار ہونے والی زعفران سب سے زیادہ معیاری مانی جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے اس کی مانگ اور قیمت نسبتاً زیادہ رہتی ہے۔ کشمیری زعفران کو جہاں ’سرخ سونا‘ کہا جاتا ہے، وہیں یہ دنیا کے مہنگے ترین مسالوں میں بھی شمار کی جاتی ہے۔

ستمبر اور اکتوبر میں وادی میں ہوئی بارش کے بعد اس فصل سے وابستہ کاشتکاروں کو بہتر پیداوار کی امید ہے۔ جے اینڈ کے سیفرن گروورز ایسوسی ایشن سے وابستہ پانپور کے سامبورہ سے تعلق رکھنے والے کاشتکار جاوید احمد گنائی نے ہندوستھان سماچار کو بتایا: ’’امسال وقتاً فوقتاً بارش ہوئی، جس کی وجہ سے بہتر پیداوار کی امید ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران وقت پر بارش نہ ہونے کے باعث پیداوار میں کمی ہوئی تھی۔‘‘

ان کا کہنا ہے: ’’موسمیاتی تبدیلی سے اس فصل پر زبردست منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پانپور میں تقریباً 3,200 ہیکٹیئر اراضی پر زعفران اگائی جاتی ہے، لیکن اس میں سے بیشتر حصہ بیج سے خالی ہے کیونکہ ناسازگار موسمی حالات کی وجہ سے گزشتہ چار برسوں سے بیج نے نشوونما نہیں کی۔ جب کافی زمین بیج سے خالی ہے تو ظاہر ہے پیداوار کم ہی ہوگی، لیکن جس زمین پر بیج موجود ہے وہاں بہتر پیداوار کی امید ہے۔‘‘

جاوید احمد گنائی نے کہا کہ اس وقت زعفران کی قیمت بھی گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کافی اچھی ہے اور 10 گرام زعفران 3 ہزار روپے میں فروخت ہو رہی ہے، جو ایک اچھا بھاؤ ہے۔ انہوں نے کہا: ’’زعفران کی فصل کو دیگر فصلوں کے مقابلے میں پانی کی کم ضرورت ہوتی ہے، لیکن بروقت بارش نہ ہونے پر پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ زمین کی نمی بیج کی نشوونما کے لیے بہت ضروری ہے۔‘‘

وادی میں زعفران کی فصل جہاں کاشتکاروں کے لیے ذریعۂ معاش ہے، وہیں اس کے کھیت یہاں آنے والے غیر مقامی سیاحوں کے لیے تفریح کا سامان بھی ہیں۔ تاہم کھیتوں پر تعمیراتی ڈھانچے کھڑے ہونے، مٹی کی بے دریغ کٹائی اور کچھ اراضی پر ہائی ڈینسٹی سیب کے باغات لگائے جانے کی وجہ سے یہ کھیت ہر گزرتے سال کے ساتھ سکڑ رہے ہیں۔

جاوید احمد نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’زعفران ہماری پہچان ہے۔ یہ ہمارے بزرگوں کی میراث ہے، اسے زندہ رکھنا اور اس کے تحفظ کو یقینی بنانا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ کشمیری زعفران دنیا بھر میں مشہور ہے اور اس کی وجہ سے کشمیر ہی نہیں، بلکہ ہمارا ملک بھی دنیا میں جانا جاتا ہے۔ ہمیں اپنے اسلاف کی سینکڑوں برس پرانی اس فصل سے منہ نہیں موڑنا چاہیے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجوں کے مطابق وسائل پیدا کر کے اس فصل کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا: ’’ہم سرکار کے ساتھ تعاون کر کے جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور آبپاشی کے مصنوعی وسائل پیدا کر سکتے ہیں، جس سے آبپاشی کے لیے بارشوں پر انحصار بڑی حد تک کم ہو سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے سرکار بالخصوص متعلقہ محکمے سے اپیل کی کہ وہ اس فصل کی بقا اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جدید خطوط پر اقدامات کرے۔

پانپور ہی کے ایک اور کاشتکار ارشاد احمد ڈار نے بھی امسال بہتر فصل کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے کہا: ’’گزشتہ برس بارش نہ ہونے کی وجہ سے پیداوار میں تقریباً 80 فیصد کمی واقع ہوئی لیکن امسال وقت وقت پر بارشیں ہوئیں، جس کی وجہ سے بہتر پیداوار کی امید ہے۔‘‘

ان کے مطابق، پھول چننے کا کام شروع ہو چکا ہے اور فی الحال چھوٹے پیمانے پر ہو رہا ہے، لیکن آنے والے وقت میں اس میں اضافہ ہوگا۔ زعفران کی اراضی سکڑنے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’زعفران کی زمین پر تعمیراتی ڈھانچے کھڑے ہو رہے ہیں اور مٹی کی بے دریغ کٹائی ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے یہ زمین سکڑ رہی ہے، اور یہ اس فصل کے لیے اچھی بات نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’دوسری بات یہ ہے کہ کاشتکار باہر کے لوگوں کو بیج فروخت کرتے ہیں، جس سے انہیں اچھا پیسہ ملتا ہے لیکن اس عمل سے بھی اس فصل پر برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے سرکار سے اپیل کی کہ وہ اس فصل کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / ظہور حسین بٹ


 rajesh pande