چھتیس گڑھ میں مکھانے کی کاشت سے کسانوں کو فی ایکڑ 70 ہزار روپے تک کا منافع
دھمتری، 29 اکتوبر (ہ س): چھتیس گڑھ میں مکھانے کی کاشت اب روایتی دھان کی کھیتی کے ساتھ ایک بڑے اور منافع بخش نقد آور متبادل کے طور پر تیزی سے ابھر رہی ہے۔ ریاست میں پہلے جہاں تقریباً 20 ہیکٹیئر رقبے پر مکھانے کی کاشت ہوتی تھی، وہیں اب یہ بڑھ کر مجمو
مکاھنہ


چھتیس گڑھ میں مکھانے کی کاشت سے کسانوں کو فی ایکڑ 70 ہزار روپے تک کا منافع


دھمتری، 29 اکتوبر (ہ س): چھتیس گڑھ میں مکھانے کی کاشت اب روایتی دھان کی کھیتی کے ساتھ ایک بڑے اور منافع بخش نقد آور متبادل کے طور پر تیزی سے ابھر رہی ہے۔ ریاست میں پہلے جہاں تقریباً 20 ہیکٹیئر رقبے پر مکھانے کی کاشت ہوتی تھی، وہیں اب یہ بڑھ کر مجموعی طور پر 133.862 ہیکٹیئر رقبے تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے کسانوں کو فی ایکڑ 64 ہزار سے 70 ہزار روپے تک کا خالص منافع حاصل ہو رہا ہے۔

چھتیس گڑھ کو بنیادی طور پر دھان کا کٹورا کہا جاتا ہے، لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست کو قومی مکھانا بورڈ میں شامل کیے جانے کے بعد یہاں مکھانے کی کاشت کو بڑے پیمانے پر فروغ مل رہا ہے۔ ریاست میں بنیادی طور پر رائے پور کے آرنگ علاقے کے لنگاڈیہ، دھمتری، مہاسمند، گریابند اور بالود اضلاع میں مکھانے کی کاشت کی جا رہی ہے۔ ’سینٹرل سیکٹر اسکیم فار ڈیولپمنٹ آف مکھانا‘ (مکھانا ترقیاتی منصوبہ) نافذ ہونے کے بعد مکھانے کی کاشت کرنے والے کسانوں کو لاگت پر بھاری سبسڈی اور تربیت کی سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ریاستی محکمۂ زراعت اور زمینی رپورٹوں کے مطابق، مکھانے کی کاشت روایتی فصلوں کے مقابلے میں انتہائی منافع بخش ثابت ہو رہی ہے۔

کاشت اور پروسیسنگ یونٹ کے لیے حکومت کی جانب سے سبسڈی

حکومت نے کاشت کے طریقے اور پروسیسنگ یونٹ (مشین) لگانے کی بنیاد پر مختلف سبسڈی مقرر کی ہے۔ تالاب میں مکھانے کی کاشت کے لیے فی ہیکٹیئر 1.79 لاکھ روپے کی لاگت مقرر کی گئی ہے، جس پر حکومت 40 فیصد یعنی 72 ہزار روپے کی سبسڈی دیتی ہے۔ نجی کھیتوں کی دلدلی زمین میں کاشت کے لیے فی ہیکٹیئر 1.32 لاکھ روپے کی لاگت مقرر ہے، جس پر 40 فیصد یعنی 53 ہزار روپے کی سبسڈی ملتی ہے۔

اگر کوئی کسان مکھانے کی کاشت کے لیے نیا تالاب کھودتا ہے تو 7 لاکھ روپے کی مقررہ لاگت پر 40 فیصد یعنی 2.80 لاکھ روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے۔

مائیکرو سطح کے چھوٹے پروسیسنگ یونٹ پر 10 لاکھ روپے کی لاگت کے مقابلے میں 35 فیصد سبسڈی دی جا رہی ہے۔ کسان پروڈیوسر تنظیموں کے لیے چھوٹے درجے کے یونٹ پر 39 لاکھ روپے کی لاگت کے مقابلے میں 50 فیصد سبسڈی، جبکہ نجی کاروبار کے لیے اسی لاگت پر 35 فیصد سبسڈی مقرر کی گئی ہے۔

سال 2025-26 میں اس منصوبے کے نفاذ کے لیے تقریباً 178 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم منظور کی گئی ہے اور مکھانا کلسٹر و سرکٹ تیار کیا جا رہا ہے۔ ریاست کا پہلا مکھانا پروسیسنگ مرکز لنگاڈیہ (آرنگ) میں قائم کیا گیا ہے، جہاں ’داؤ‘ برانڈ کے نام سے مکھانا تیار کرکے مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ خواتین کے سیلف ہیلپ گروپوں کو بھی اس سے جوڑا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق، مکھانے کی کاشت تالابوں کے علاوہ ڈیڑھ سے دو میٹر گہرے پانی یا دلدلی کھیتوں میں بھی کی جاتی ہے۔ اس کی کاشت اور بیج کی قطاریں تیار کرنے کے لیے بارش کا موسم موزوں سمجھا جاتا ہے۔ فی ہیکٹیئر تقریباً 80 سے 100 کلوگرام بیج درکار ہوتے ہیں۔ سائنسی طریقۂ کاشت اپنانے پر فی ہیکٹیئر تقریباً 20 سے 25 کوئنٹل پیداوار حاصل ہو سکتی ہے۔ خام بیج کے بجائے پروسیس شدہ مکھانا فروخت کرنے سے کسانوں کو فی ایکڑ تقریباً 70 ہزار روپے تک کا خالص منافع حاصل ہوتا ہے۔

دھمتری میں 63 سے زائد کسان مکھانے کی کاشت میں سرگرم

چھتیس گڑھ میں مکھانے کی کاشت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کے دائرے کو وسعت دی جا رہی ہے، لیکن کسانوں اور خواتین کے گروپوں میں اس کے تئیں دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار، حالیہ رپورٹوں اور وزیر اعلیٰ کے دفتر کے مطابق، ریاستی حکومت نے پہلے مرحلے میں چار اہم اضلاع دھمتری، بالود، مہاسمند اور گریابند میں اس کی بڑے پیمانے پر کاشت شروع کی ہے۔

صرف دھمتری ضلع میں 63 سے زائد ترقی پسند کسانوں نے مکھانے کی پیداوار میں براہِ راست دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان میں سے 43 کسان تقریباً 55 ایکڑ رقبے پر تالابوں میں بوائی کر چکے ہیں، جبکہ 20 کسان اپنی نجی زمین یا دلدلی کھیتوں میں اس کی کاشت شروع کر رہے ہیں۔

دیہی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے کئی خواتین کے خود امدادی گروپوں کو بھی اس کام سے جوڑا گیا ہے۔ دھمتری میں شیل پتری خود امدادی گروپ، نئی کرن خود امدادی گروپ اور جئے ماں نو جیوتی مہیلا خود امدادی گروپ اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

دھمتری ضلع میں زرعی تنوع اور دیہی روزگار کو نئی سمت دینے کی کوشش اب رنگ لانے لگی ہے۔ تالابوں میں مکھانے کی کاشت دیہی خواتین کے لیے روزگار اور خود کفالت کا نیا ذریعہ بن رہی ہے۔ گاؤں چھاتی اور ڈانڈیسرا میں خواتین کے خود امدادی گروپوں کی جانب سے 29 ایکڑ رقبے پر پیدا کیے گئے مکھانے کی جمع آوری شروع ہو گئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی خواتین کو مکھانے کی جمع آوری اور فصل کی کٹائی کے بعد اس کے انتظام و دیکھ بھال کی سائنسی تکنیکوں کی تربیت دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس سے پیداوار کا معیار برقرار رکھنے، بہتر پروسیسنگ اور بازار میں مناسب قیمت حاصل کرنے کے امکانات بڑھیں گے۔

دھمتری ضلع میں 105 ایکڑ رقبے پر مکھانے کی کاشت

مرکزی حکومت کی ’سینٹرل سیکٹر اسکیم فار ڈیولپمنٹ آف مکھانا‘ کے تحت سال 2025-26 میں دھمتری ضلع کو تالابوں میں مکھانے کی کاشت کے لیے 165 ایکڑ کا ہدف دیا گیا تھا۔ اس کے مقابلے میں ضلع انتظامیہ اور محکمۂ باغبانی کی تکنیکی رہنمائی میں 105 ایکڑ رقبے پر مکھانے کی کاشت شروع کی گئی۔

گاؤں راکھی، چھاتی، ڈانڈیسرا اور پیپرچھڑی کے علاوہ نگری ترقیاتی بلاک کے گاؤں سانکرا میں بھی مکھانے کی پیداوار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس پہل کا مقصد کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے ساتھ دیہی خواتین کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

سائنسی طریقے سے مکھانے کی کاشت کی ٹریننگ

کسانوں کو سائنسی طریقے سے مکھانا اگانے، بیج تیار کرنے اور پفنگ یعنی مکھانے کے دانوں کو پھوڑ کر تیار کرنے کی تربیت دینے کے لیے ریاست میں مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

رائے پور کی اندرا گاندھی زرعی یونیورسٹی کے احاطے میں مکھانے کی معیاری سائنسی کاشت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ یہاں کسانوں کے لیے باقاعدگی سے تربیتی اور مطالعاتی دوروں کے پروگرام بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح پٹن (درگ) میں واقع مہاتما گاندھی باغبانی و جنگلاتی یونیورسٹی میں بھی مکھانے کی پیداوار کی تکنیک اور کاشت کے رقبے میں توسیع کے لیے کسانوں کو تکنیکی تربیت دی جا رہی ہے۔

چھتیس گڑھ کے پہلے تسلیم شدہ نجی ادارے، اوجس فارم و مکھانا پروسیسنگ مرکز، لنگاڈیہ (آرنگ، رائے پور) میں کسانوں کو مفت تکنیکی معلومات، مکھانے کے بیج اور فصل کی کٹائی کے بعد پیداوار فروخت کرنے کے لیے بائی بیک کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

محکمۂ باغبانی کی ڈپٹی ڈائریکٹر پوجا کشیپ ساہو نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں خواتین کے خود امدادی گروپوں کو کرشی وگیان کیندر، دھمتری میں مکھانے کی جمع آوری کے بعد اس کے انتظام و دیکھ بھال کی تربیت دی جائے گی۔

اس تربیت میں پیداوار کی صفائی، مناسب رکھ رکھاؤ، پروسیسنگ اور معیار برقرار رکھنے کی سائنسی تکنیکوں کی معلومات دی جائیں گی۔ اس کا مقصد خواتین کو صرف پیداوار اور جمع آوری تک محدود رکھنے کے بجائے پروسیسنگ اور کاروبار سے بھی جوڑنا ہے، تاکہ وہ گروپوں کے ذریعے بہتر آمدنی حاصل کر سکیں۔

تین مرحلوں میں ہوتی ہے مکھانے کی کٹائی

مکھانے کی کٹائی بنیادی طور پر تین مرحلوں میں کی جاتی ہے۔ پہلی کٹائی کو ’لہسر‘ کہا جاتا ہے، جس میں تقریباً 70 فیصد مکھانا نکالا جاتا ہے۔ اس کام کے لیے مزدوروں کو عموماً فی کلوگرام کے حساب سے اجرت دی جاتی ہے۔ اس کے بعد دوسری اور تیسری کٹائی کو ’مرکٹ‘ اور ’کرکٹ‘ کہا جاتا ہے۔ ان مراحل میں باقی تقریباً 30 فیصد بیج نکالے جاتے ہیں۔ یہ عمل نسبتاً مشکل ہوتا ہے اور اس میں زیادہ وقت اور محنت درکار ہوتی ہے۔ تالاب سے مکھانے کے بیج نکالنے کے بعد ان کی اچھی طرح صفائی کی جاتی ہے۔ سیاہ بیجوں کو دھو کر تقریباً 2 سے 30 دن تک تیز دھوپ میں سکھایا جاتا ہے، تاکہ ان میں موجود نمی کم ہو سکے۔ اس کے بعد بیجوں کو بھٹی یا مٹی کی کڑاہی میں بھونا جاتا ہے۔

بھوننے کے بعد لکڑی کی تھاپی سے بیجوں کو پھوڑ کر ان کے اندر کا سفید اور خستہ حصہ نکالا جاتا ہے، جسے مقامی زبان میں ’لاوا‘ کہا جاتا ہے۔ جمع آوری کے بعد کے ان مراحل میں سائنسی تکنیکوں کا استعمال کرنے سے مصنوعات کا معیار بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

مکھانے کی کاشت خواتین کو خود کفیل بنانے کا مؤثر ذریعہ: ضلع کلکٹر

دھمتری کے کلکٹر ابیناش مشرا نے کہا کہ ضلع میں دستیاب قدرتی وسائل اور مقامی امکانات کے مطابق زراعت کی نئی سرگرمیوں کو فروغ دینا ضلع انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ مکھانے کی کاشت کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے ساتھ خواتین کے خود امدادی گروپوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے پیداوار کے ساتھ سائنسی تکنیک، پروسیسنگ، معیار اور بازار سے رابطے پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ ضلع انتظامیہ کی کوشش ہے کہ تکنیکی رہنمائی اور تربیت کے ذریعے دیہی خواتین کی شمولیت بڑھائی جائے اور وہ خود کفیل روزگار کی جانب آگے بڑھ سکیں۔ مکھانے کی پروسیسنگ اور پفنگ کے کام سے وابستہ دیہی خواتین کی یومیہ اور ماہانہ آمدنی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے وہ خود کفیل بن رہی ہیں۔ اس کامیابی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے 2 کروڑ روپے کے نئے ایکشن پلان کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے تحت مزید 105 ہیکٹیئر سے زیادہ رقبے پر مکھانے کی کاشت کا ہدف رکھا گیا ہے، تاکہ ہزاروں مزید کسان بھی اس منصوبے سے فائدہ اٹھا سکیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande