
ایوت محل میں شادی کا جھانسہ دے کر لڑکی کا مذہب تبدیل کرانے کا الزام، شیخ سمیر سمیت 3 افراد کے خلاف مقدمہ درج
ایوت محل، 28 اکتوبر (ہ س)۔ مہاراشٹر کے ایوت محل ضلع کی دگرس تحصیل میں ایک نوجوان لڑکی کو شادی کا جھانسہ دے کر اس کا مذہب تبدیل کرانے کے الزام میں پولیس نے 3 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ متاثرہ لڑکی کی والدہ کی شکایت پر دگرس پولیس اسٹیشن میں مہاراشٹر مذہبی آزادی قانون اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ ملزمین میں شیخ سمیر، اس کے والد اور ان کا دوست شیخ بلال شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی ایک صبح کالج کا ہال ٹکٹ لینے کے لیے گھر سے نکلی تھی، لیکن کافی وقت گزرنے کے باوجود واپس نہیں آئی۔ اس کے لاپتہ ہونے پر اہل خانہ نے اگلے روز دگرس پولیس اسٹیشن پہنچ کر شکایت درج کرائی۔ بعد میں لڑکی کی والدہ کو اطلاع ملی کہ 8 اکتوبر کو شیخ سمیر نے ان کی بیٹی کا مذہب تبدیل کرانے کے بعد اس سے شادی کرلی ہے۔ والدہ نے اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ شادی کا لالچ دے کر لڑکی کا مذہب تبدیل کرایا گیا۔
اس شکایت کی بنیاد پر پولیس نے 30 سالہ شیخ سمیر، اس کے والد اور شیخ بلال کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق معاملے میں مرکزی ملزم کے ساتھ اس کے اہل خانہ اور دوست کے مبینہ کردار کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ مقدمے کی مزید تفتیش ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اشوک تھورات کی نگرانی میں جاری ہے۔ تاہم مذہب کی تبدیلی کے حالات، شادی سے متعلق الزامات اور ملزمین کے کردار کی حتمی قانونی حیثیت تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی واضح ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستھان سماچار / جاوید این اے