
سری نگر، 28 اکتوبر (ہ س) ۔
شہرہ آفاق ڈل جھیل کے کنارے اور زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع باغ گل داؤد ان دنوں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ باغ کے دلکش نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے مقامی اور غیر مقامی سیاحوں کی بھیڑ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
ملک کے مختلف حصوں سے کشمیر آنے والے سیاح دیگر سیاحتی مقامات کا رخ کرنے سے پہلے اس باغ کی سیر ضرور کر رہے ہیں۔
سیاحوں کے ایک گروپ نے باغ کی خوبصورتی سے مبہوت ہو کر بتایا: ’’یہاں پہنچ کر ہمیں ایسا لگا جیسے ہم جموں و کشمیر میں نہیں ہوں۔ یہ باغ بہت خوبصورت ہے، کشمیر سچ مچ جنت ہے۔‘‘مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سیاح نے کہا کہ کشمیر پہنچتے ہی خوبصورت پھولوں نے ان کا استقبال کیا۔ ان کا کہنا تھا: ’’میں دو دنوں سے کشمیر میں ہوں اور پہلی بار یہاں آئی ہوں۔ جیسے پھول میں نے اس باغ میں دیکھے، ایسے زندگی میں پہلی بار دیکھے ہیں۔ میں نے یہاں خزاں کے موسم میں بھی تر و تازہ پھول دیکھے۔‘‘
چنئی سے آئے ایک سیاح نے کہا: ’’زندگی میں پہلی بار ایسے پھول دیکھ رہا ہوں۔ بہت ہی خوبصورت باغ ہے، یہاں بہت مزہ آیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کے باغات ہی نہیں بلکہ یہاں کے لوگ بھی بہت اچھے ہیں۔
ایک سو کنال اراضی پر پھیلے نہرو میموریل بوٹینیکل گارڈن میں قائم باغ گل داؤد (کرسنتھیمم گارڈن) کو گزشتہ سال تیار کر کے عوام کے لیے وقف کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق اسے ایک مخصوص تھیم کے تحت بنایا گیا ہے، جہاں سیاحوں کو خزاں کے موسم کے پھول دیکھنے کو ملتے ہیں اور ان میں نمایاں طور پر کرسنتھیمم کی رنگا رنگی بکھری نظر آتی ہے۔ خزاں کے رنگوں کو مزید نکھارنے کے لیے میپل، جنکگو اور دیگر اقسام کے درخت بھی لگائے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 23 اکتوبر کو اس باغ کو اس سیزن کے لیے سیاحوں کے لیے کھول دیا تھا۔ اس موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا: ’’ہم نے دیکھا کہ موسم بہار میں باغ گل لالہ کھلنے پر یہاں بڑی تعداد میں سیاح آتے تھے، لیکن موسم خزاں میں ہمارے پاس ایسا کوئی باغ نہیں تھا۔ لہٰذا ہم نے باغ گل داؤد تیار کیا تاکہ اس موسم میں بھی سیاحوں کو کچھ ایسا خاص دیکھنے کو ملے جو انہیں کہیں اور نہ مل سکے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ باغ گل لالہ کے لیے ہر سال باہر سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، جبکہ باغ گل داؤد کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے پودے مقامی سطح پر ہی تیار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ باغ کو مزید پرکشش بنانے کے لیے ہر سال نئی خصوصیات شامل کی جاتی رہیں گی۔
محکمہ فلوریکلچر، گارڈنز اینڈ پارکس کشمیر کی ناظم متھورا معصوم کے مطابق اس سال باغ میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد پودے لگائے گئے ہیں، جن پر ایک کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ پھول کھلنے کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پھول کم از کم ڈیڑھ ماہ تک کھلے رہیں گے اور باغ کی رونق 5 یا 6 دسمبر تک برقرار رہ سکتی ہے۔ ان کے مطابق، کرسنتھیمم کے پھول ہلکی برف باری بھی برداشت کر لیتے ہیں، اسی لیے یہ ٹیولپ کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک کھلے رہتے ہیں۔
متھورا نے بتایا کہ محکمے نے اس سال پھولوں کی کیاریوں کا رقبہ نمایاں طور پر بڑھایا ہے اور باغ میں رنگ برنگے پھولوں سے سجا ایک پلازا، پانی کی آرائشی تنصیب، پرگولاز (سایہ دار ڈھانچے)، سیلفی پوائنٹس اور راستوں کی بہتر ترتیب جیسی نئی خصوصیات شامل کی گئی ہیں۔
متھورا معصوم نے کہا: ’’دوسری جگہوں پر صرف خزاں ہوتی ہے، لیکن کرسنتھیمم کے ذریعے ہم بہار لے آتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ کشمیر کا کوئی بھی موسم بے رونق گزرے۔ بہار ٹیولپ کے نام ہوتی ہے اور ان شاء اللہ خزاں کرسنتھیمم کے نام ہوگی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ خزاں میں اب تک چنار کے بدلتے رنگ ہی سیاحوں کو وادی کی طرف کھینچتے تھے، لیکن اب کرسنتھیمم کے پھول بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنیں گے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / ظہور حسین بٹ