(انٹرویو) ہردوئی کے نوجوان صنعت کار آدی تیواری پرالی اور گوبر سے گیس بنا کر ملک کوبنارہے ہیں خود کفیل
(انٹرویو) ہردوئی کے نوجوان صنعت کار آدی تیواری پرالی اور گوبر سے گیس بنا کر ملک کوبنارہے ہیں خود کفیللکھنؤ/نئی دہلی، 28 اکتوبر(ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان اترپردیش کے ضلع ہردوئی کے گاؤں بھیلامئو سے تعلق رکھنے والے نوجوان صنعت کار آد
(انٹرویو) ہردوئی کے نوجوان صنعت کار آدی تیواری پرالی اور گوبر سے گیس بنا کر ملک کوبنارہے ہیں خود کفیل


(انٹرویو) ہردوئی کے نوجوان صنعت کار آدی تیواری پرالی اور گوبر سے گیس بنا کر ملک کوبنارہے ہیں خود کفیل


(انٹرویو) ہردوئی کے نوجوان صنعت کار آدی تیواری پرالی اور گوبر سے گیس بنا کر ملک کوبنارہے ہیں خود کفیللکھنؤ/نئی دہلی، 28 اکتوبر(ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان اترپردیش کے ضلع ہردوئی کے گاؤں بھیلامئو سے تعلق رکھنے والے نوجوان صنعت کار آدی اوپیندر تیواری پرالی اور گوبر سے گیس تیار کرکے ملک کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ برطانیہ کی لیورپول یونیورسٹی سے ایم بی اے کرنے کے بعد آدی تیواری نے ہردوئی میں ’یو ٹی ایم انرجی‘ کے تحت کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) کا پلانٹ قائم کیا۔ اس پلانٹ میں پرالی، گنے کی کھوئی، شوگر ملوں سے نکلنے والی گندگی اور گوبر سے گیس تیار کی جاتی ہے۔پلانٹ کی موجودہ پیداواری صلاحیت روزانہ 3 سے 3.5 ٹن ہے، جسے بڑھا کر 12 ٹن یومیہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے سے 62 افراد کو براہ راست اور 1230 سے زیادہ لوگوں کو بالواسطہ روزگار ملا ہے۔ مغربی ایشیا کے بحران، توانائی کے شعبے میں خود کفالت اور دیہی معیشت پر اس پلانٹ کے اثرات کے حوالے سے آدی تیواری سے ’ہندوستھان سماچار‘ نے تفصیلی گفتگو کی۔ پیش ہیں انٹرویو کے اہم اقتباسات:

سوال: آبنائے ہرمز کے بحران کے باعث جب عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، تو ہردوئی کا یہ پلانٹ ملک کی معاشی سلامتی میں کس طرح کردار ادا کر رہا ہے؟

آدی تیواری: یہ معاملہ براہ راست ملک کی خودمختاری اور معاشی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ بھارت اپنی ضرورت کا زیادہ تر خام تیل اور قدرتی گیس بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے۔ ہماری درآمدات کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے تنگ سمندری راستے سے گزرتا ہے۔ خلیجی ممالک میں کشیدگی بڑھنے یا بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے پر عالمی بازار میں گیس کی قیمتیں غیر متوقع طور پر بڑھ جاتی ہیں اور ملک کا قیمتی زرمبادلہ بیرون ملک چلا جاتا ہے۔

ہمارا پلانٹ اسی غیر ملکی انحصار کو کم کرنے کی سمت میں کام کر رہا ہے۔ ہم درآمد شدہ گیس کا مکمل طور پر دیسی متبادل فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہاں تیار ہونے والی کمپریسڈ بایو گیس گاڑیوں کے ایندھن اور گھریلو گیس کے متبادل کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔ جب ہم اپنی زمین، پرالی اور گوبر سے توانائی تیار کرتے ہیں تو ملک کا سرمایہ ملک کے اندر رہتا ہے، کسانوں تک پہنچتا ہے اور ہمیں بیرونی راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پیدا ہونے والے بحران کا کم سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سوال: اس وقت پلانٹ میں روزانہ تین ٹن سے زیادہ گیس تیار ہو رہی ہے اور ہدف 12 ٹن کا ہے۔ اس سے درآمدی اخراجات اور غیر ملکی زرمبادلہ کی کتنی بچت ہو رہی ہے؟

آدی تیواری: اگر اعداد و شمار کی بنیاد پر دیکھا جائے تو یہ ایک اہم تعاون ہے۔ پلانٹ کی بنیادی پیداواری صلاحیت 2.4 ٹن یومیہ ہے، لیکن فی الحال ہم روزانہ 3 سے 3.5 ٹن گیس تیار کر رہے ہیں۔ ایک ٹن بایو گیس کی تیاری کا مطلب یہ ہے کہ ہم عالمی بازار سے درآمد کی جانے والی اتنی ہی مقدار میں گیس کا متبادل فراہم کر رہے ہیں۔موجودہ پیداوار کی بنیاد پر ہم ہر سال 1200 ٹن سے زیادہ درآمدی ایندھن کی ضرورت کم کرنے میں مدد دے رہے ہیں، جس سے ملک کے کروڑوں روپے کا زرمبادلہ بچ رہا ہے۔ جب پلانٹ کی توسیع کرکے اسے روزانہ 12 ٹن کی مکمل صلاحیت تک پہنچا دیا جائے گا تو سالانہ 4300 ٹن سے زیادہ گیس تیار کی جا سکے گی۔ اس سے ہر سال ملک کے درآمدی اخراجات میں 50 سے 60 کروڑ روپے کے مساوی زرمبادلہ کی بچت کا امکان ہے۔

جب ایک چھوٹے سے گاؤں کا پلانٹ اتنی بڑی بچت میں تعاون کر سکتا ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک بھر میں ایسے ہزاروں پلانٹ قائم ہونے سے کتنی بڑی رقم بچائی جا سکتی ہے۔ یہ ملک کی خدمت اور معاشی خود انحصاری کی ایک کوشش ہے۔

سوال: عالمی بازار میں غیر یقینی صورت حال کے دوران کیا دیہی بایو گیس پلانٹ قیمتوں میں اضافے کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں؟

آدی تیواری: یقینا، ایسے پلانٹ قیمتوں میں اچانک اضافے کے اثرات کو کم کرنے میں مضبوط حفاظتی حصار کا کام کر سکتے ہیں۔ عالمی بازار میں گیس مہنگی ہونے سے عام لوگوں پر مہنگائی کا بوجھ بڑھتا ہے۔ ہمارے پلانٹ میں پرالی، گوبر اور شوگر ملوں سے نکلنے والے فضلے سے گیس تیار ہوتی ہے، اس لیے اس کی لاگت عالمی بازار کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں سے اسی طرح متاثر نہیں ہوتی جس طرح درآمدی گیس ہوتی ہے۔

ہم سرکاری تیل کمپنیوں کو مقررہ نرخ پر گیس فراہم کرتے ہیں۔ ایسے پلانٹ گھریلو ایندھن کی ضروریات پوری کرنے اور بین الاقوامی بازار میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

سوال: لیورپول یونیورسٹی سے ایم بی اے کرنے کے بعد آرام کی زندگی چھوڑ کر ہردوئی کے دیہی علاقے میں گوبر اور پرالی کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

آدی تیواری: سال 2022 میں لیورپول یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد میرے پاس بیرون ملک میں کسی بڑی کمپنی میں کام کرنے کا موقع تھا، لیکن میں نے ملک واپس آکر کچھ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہردوئی میں گوبر، پرالی اور شوگر ملوں کے فضلے سے کام شروع کرنے کے فیصلے پر بہت سے لوگوں کو حیرت ہوئی۔

میرا ماننا تھا کہ جس چیز کو ہم کچرا سمجھتے ہیں، اس سے بھی مفید مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔ میں چاہتا تھا کہ گاؤں کے لوگوں کو توانائی کی پیداوار سے جوڑا جائے اور مقامی وسائل کو استعمال کرکے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔

سوال: بیرون ملک حاصل کیے گئے نظریاتی علم اور دیہی حقیقتوں کے درمیان پہلی عملی دشواری کیا پیش آئی؟

آدی تیواری: کلاس روم میں ہر چیز اعداد و شمار اور دستاویزات کی بنیاد پر آسان دکھائی دیتی ہے، لیکن دیہی علاقوں میں زمینی حقیقتیں مختلف ہوتی ہیں۔ سال 2024 میں پلانٹ شروع کرتے وقت سب سے بڑا چیلنج کسانوں اور گاؤں کے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا تھا۔ انہیں سمجھانا پڑا کہ پرالی اور گوبر سے بھی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گیس تیار کی جا سکتی ہے۔ہم نے کسانوں سے براہ راست رابطہ قائم کیا اور انہیں وقت پر ادائیگی کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ابتدا میں شک کرنے والے کسان بھی اب ہمارے ساتھ جڑ گئے ہیں۔

سوال: جس پرالی کو جلانے پر کسانوں کے خلاف کارروائی کی جاتی تھی، اسے آمدنی کا ذریعہ بنانے کے لیے آپ نے انہیں کیسے آمادہ کیا؟

آدی تیواری: برسوں سے کسان اگلی فصل کی تیاری کے دباؤ میں پرالی جلانے پر مجبور تھے۔ حکومت کی جانب سے پابندیاں اور جرمانے عائد کیے جاتے تھے، لیکن کسانوں کے پاس فصلوں کی باقیات کو ٹھکانے لگانے کا کوئی آسان متبادل موجود نہیں تھا۔

ہم نے کسانوں سے پرالی دو روپے فی کلو اور گوبر 85 روپے فی کوئنٹل کے حساب سے خریدنا شروع کیا۔ اس طرح کسانوں کو پرالی جلانے کے بجائے اسے فروخت کرکے آمدنی حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اب کسان پرالی جلانے کے بجائے اسے جمع کرکے ہمارے پلانٹ تک پہنچاتے ہیں۔ اس سے پرالی جلانے کے نتیجے میں ہونے والی فضائی آلودگی کو کم کرنے میں بھی مدد مل رہی ہے۔

سوال: پلانٹ کو مسلسل چلانے کے لیے خام مال درکار ہوتا ہے، جبکہ فصلوں کی کٹائی کا موسم محدود ہے۔ باقی مہینوں کے لیے خام مال کا انتظام کیسے کیا جاتا ہے؟

آدی تیواری: ہم نے پلانٹ کے احاطے میں تقریباً تین ایکڑ زمین پر ذخیرہ اندوزی کامرکز بنایا ہے۔ فصلوں کی کٹائی کے دو سے تین ماہ کے دوران ہم پورے سال کے لیے پرالی اور دیگر خام مال جمع کر لیتے ہیں۔

آگ لگنے کے خطرے سے بچاؤ کے لیے آگ بجھانے کے آلات، پانی کے چھڑکاؤ اور نگرانی کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس طرح فصلوں کی کٹائی کے بعد کے آٹھ سے نو ماہ میں بھی پلانٹ کو بغیر کسی رکاوٹ کے چلایا جا سکتا ہے۔

سوال: 62 افراد کو براہ راست اور 1230 سے زیادہ لوگوں کو بالواسطہ روزگار مل رہا ہے۔ کیا یہ پلانٹ دیہی معیشت کا نیا مرکز بن چکا ہے؟

آدی تیواری: بالکل، یہ صرف ایک صنعتی یونٹ نہیں بلکہ خود کفیل دیہی معیشت کی ایک عملی مثال ہے۔ ہمارے پلانٹ میں مقامی 62 نوجوانوں کو براہ راست روزگار ملا ہے، جبکہ 1230 سے زیادہ افراد بالواسطہ طور پر اس سے وابستہ ہیں۔

آس پاس کے گاؤں کے لوگ ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعے خام مال کی نقل و حمل کرتے ہیں۔ شوگر ملوں سے گندگی لانے پر انہیں فی چکر 3000 روپے ملتے ہیں۔ کئی دیہی باشندے گوبر جمع کرکے پلانٹ تک پہنچانے کا کام بھی کرتے ہیں۔ اس طرح مقامی کسانوں، گاڑی چلانے والوں اور مویشی پالنے والوں کو آمدنی کا ایک نیا ذریعہ ملا ہے۔

سوال: سرکاری تیل کمپنیوں سے ادائیگی کی صورت حال کیا ہے؟ کیا پلانٹ چلانا معاشی طور پر فائدہ مند ہے؟

آدی تیواری: مرکزی حکومت نے اس نظام کے لیے گیس کے ایک اہم ادارے کو رابطہ کار ایجنسی بنایا ہے۔ پلانٹ میں تیار ہونے والی گیس کو تقریباً 250 بارکے دباؤ پر خصوصی سلنڈروں میں بھرا جاتا ہے اور شاہجہاں پور کے پپرولا میں واقع تقسیم مرکز اور آس پاس کے پمپوں تک پہنچایا جاتا ہے۔قرض کی قسطیں ادا کرنے کے بعد بھی مناسب منافع حاصل ہو رہا ہے۔

سوال: کیا پلانٹ میں تیار ہونے والی گیس کو براہ راست مرکزی پائپ لائن نیٹ ورک سے جوڑنے کا انتظام عملی طور پر شروع ہو چکا ہے؟

آدی تیواری: پلانٹ میں تیار ہونے والی گیس کو زیادہ دباؤ پر سلنڈروں میں بھر کر شاہجہاں پور کے پپرولا میں واقع تقسیم مرکز تک پہنچایا جاتا ہے۔ وہاں گیس کے دباؤ کو متوازن کرنے کے بعد اسے شہری گیس تقسیم نظام کی مرکزی پائپ لائن میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ گیس مختلف اضلاع میں صنعتی اکائیوں، گاڑیوں اور گھریلو استعمال کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔

سوال: کیمیائی کھادوں پر سرکاری رعایت دستیاب ہونے کے باوجود کسان پلانٹ سے تیار ہونے والی نامیاتی کھاد کیوں اپنا رہے ہیں؟

آدی تیواری: یہ ہمارے پلانٹ کا سب سے اہم اور فائدہ مند پہلو ہے۔ گیس کی تیاری کے بعد اعلیٰ معیار کی نامیاتی کھاد اور قدرتی گندھک حاصل ہوتی ہے۔ اس کھاد کے استعمال سے فصلوں کے معیار اور پیداوار میں بہتری آنے کے ساتھ کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔اس سے زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے اور حکومت پر کھاد کی سبسڈی کا بوجھ کم کرنے میں بھی تعاون مل سکتا ہے۔ اب کسان خود کھاد خریدنے کے لیے پلانٹ پہنچ رہے ہیں۔

سوال: مرکزی حکومت کی ’ستت‘ اسکیم اور اترپردیش کی بایو انرجی پالیسی کے نفاذ کا زمینی تجربہ کیسا رہا؟

آدی تیواری: مرکزی حکومت کی ’ستت‘ اور ’گووردھن‘ اسکیموں کے ساتھ اترپردیش حکومت کی بایو انرجی پالیسی نے اس شعبے کو فروغ دینے میں مدد کی ہے۔ ابتدا میں نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے ضروری اجازت نامے حاصل کرنے میں وقت لگا، لیکن اب طریقہ کار آسان ہوا ہے اور نئے صنعت کاروں کو تعاون مل رہا ہے۔

سوال: روزانہ تین ٹن سے پیداوار بڑھا کر 12 ٹن تک پہنچانے میں سب سے بڑا چیلنج کیا ہے، سرمایہ یا خام مال؟

آدی تیواری: پلانٹ کی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں سب سے بڑا چیلنج خام مال کی مسلسل دستیابی ہے۔ مالی وسائل کے معاملے میں کوئی بڑی دشواری نہیں ہے۔ ہماری توجہ کسانوں اور شوگر ملوں کے ساتھ سپلائی کے نظام کو مضبوط بنانے پر ہے، تاکہ روزانہ 12 ٹن پیداوار کے ہدف تک پہنچنے کے بعد بھی خام مال کی کمی نہ ہو۔ہمارے عملی تجربے کے مطابق اس شعبے میں سب سے اہم مسئلہ خام مال کی آسان اور مسلسل دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande