
لکھنؤ، 27 اکتوبر (ہ س): اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے سعادت گنج تھانہ علاقے میں پیر کو پارکنگ کے تنازعے پر ہوئی فائرنگ میں تین افراد کی جان چلی گئی تھی۔ اس معاملے میں منگل کو مشتعل اہل خانہ نے لاشیں گھر کے باہر رکھ کر احتجاج شروع کر دیا۔ متاثرہ خاندان نائب وزیر اعلیٰ اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) کو موقع پر بلانے کے مطالبے پر بضد ہے۔ پولیس افسران اہل خانہ کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہیں، پولیس کمشنر ترون گابا نے اس معاملے میں لاپروائی برتنے کے الزام میں تھانہ انچارج سنتوش کمار آریہ اور کشمیری محلہ چوکی انچارج اجے کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق، پیر کی صبح تقریباً ساڑھے 10 بجے سعادت گنج تھانہ علاقے کے برہمنی ٹولہ، نوابستہ میں برگد کے درخت کے قریب خالی زمین پر کار کھڑی کرنے کو لے کر دو فریقوں کے درمیان تنازعہ ہو گیا۔ اس دوران دوسرے فریق کے لوگوں پر رشبھ شکلا نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ گولی لگنے سے شیواجی تیواری (65) اور ان کے بھائی شیویندر تیواری (55) کی موقع پر ہی موت ہو گئی، جبکہ شیواجی کے بیٹے سویش تیواری نے اسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ دیا۔
پوسٹ مارٹم کے بعد جب تینوں لاشیں منگل کو گھر پہنچیں تو محلے کے لوگوں اور اہل خانہ نے مشتعل ہو کر لاشیں رکھ کر احتجاج شروع کر دیا۔
اس دوران بی جے پی کے ریاستی جنرل سکریٹری ابھیجات مشرا اور آر ایس ایس کے سینئر عہدیدار بھی موجود ہیں۔ وہ متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے اور ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اہل خانہ نائب وزیر اعلیٰ اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو موقع پر بلانے پر بضد ہیں۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ قتل کے ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ملزم کے گھر کو بلڈوزر سے منہدم کیا جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ قاتل کا انکاؤنٹر کیا جائے۔ پولیس افسران اہل خانہ کو سمجھانے اور احتجاج ختم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پولیس کمشنر ترون گابا نے اس معاملے میں تھانہ انچارج سنتوش کمار آریہ اور کشمیری محلہ چوکی انچارج اجے کو بھی معطل کر دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / عبدالواحد