مدھیہ پردیش ملک کا نیا ’اسپورٹس ہب‘ بننے کی راہ پر، کھیلوں میں سرفہرست تین ریاستوں میں شامل
بھوپال، 26 اکتوبر(ہ س)۔ کبھی کھیلوں کے میدان میں ملک کی 16ویں یا 17ویں پوزیشن پر رہنے والا مدھیہ پردیش اب سرفہرست تین ریاستوں میں اپنی جگہ بنانے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع، جدید تربیتی سہولیات اور
مدھیہ پردیش ملک کا نیا ’اسپورٹس ہب‘ بننے کی راہ پر، کھیلوں میں سرفہرست تین ریاستوں میں شامل


بھوپال، 26 اکتوبر(ہ س)۔ کبھی کھیلوں کے میدان میں ملک کی 16ویں یا 17ویں پوزیشن پر رہنے والا مدھیہ پردیش اب سرفہرست تین ریاستوں میں اپنی جگہ بنانے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع، جدید تربیتی سہولیات اور کھلاڑیوں کی عمدہ کارکردگی کے باعث ریاست نے کھیلوں کی دنیا میں اپنی شناخت مضبوط کی ہے۔ ریاستی حکومت کی مختلف اسکیموں اور کھلاڑیوں کی محنت سے مدھیہ پردیش ملک کے نئے ’اسپورٹس ہب‘ کے طور پر ابھر رہا ہے۔

وزیرِاعظم نریندر مودی کے وژن، وزیرِاعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت اور کھیل و تعاون کے وزیر وشواس کیلاش سارنگ کی رہنمائی میں ریاست میں کھیلوں کی سہولیات بڑھانے اور نئی صلاحیتوں کو آگے لانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ فی الحال ریاست میں 18 کھیلوں کی 11 بہترین اکیڈمیاں چل رہی ہیں، جہاں کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ’سی ایم اسپورٹس کمپلیکس اسکیم‘ کے تحت تمام 230 اسمبلی حلقوں میں جدید کھیل کمپلیکس تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

مدھیہ پردیش کے کھلاڑیوں نے قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایشیائی کھیلوں میں ریاستی شوٹنگ اکیڈمی کی کھلاڑی نیرو ڈھانڈا نے خواتین کے ٹریپ انفرادی اور مکسڈ ٹیم مقابلوں میں سونے کے تمغے، جبکہ خواتین کے ٹریپ ٹیم مقابلے میں چاندی کا تمغہ جیتا۔ اس طرح انہوں نے مجموعی طور پر تین تمغے حاصل کیے۔

اس کے علاوہ منیشا کیر، ایشوریہ پرتاپ سنگھ، آشی چوکسی، وویک ساگر، ایشیکا چودھری، کرانتی گوڑ، جے مینا اور ہرشیتا تومر جیسے کھلاڑیوں نے بھی مختلف مقابلوں میں تمغے جیت کر ریاست کا نام روشن کیا۔گلاسگو، اسکاٹ لینڈ میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز 2026 میں ریاست کی جوڈو کھلاڑی یامنی موریا اور ویٹ لفٹر اجے بابو نے چاندی کے تمغے حاصل کیے۔ ریاستی حکومت نے دونوں کھلاڑیوں کو 25-25 لاکھ روپے انعام اور سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کیا۔ وہیں جاپان کے آئچی ناگویا میں منعقدہ ایشیائی پیرا گیمز 2026 میں پیرا جوڈو کھلاڑی کپل پرمار نے مردوں کے جے ون، 70 کلوگرام زمرے میں کانسے کا تمغہ جیتا۔

ریاستی حکومت کھیلوں کی سہولیات کو نچلی سطح تک پہنچانے کے لیے جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر زور دے رہی ہے۔ مرکزی حکومت کی نئی ’کھیلو انڈیا اسکیم‘ کے تحت مالی سال 2026-27 سے 2030-31 کے لیے 36,441 کروڑ روپے کے منظور شدہ منصوبے سے ریاست میں کھیلوں کی سہولیات میں توسیع کے امکانات بڑھے ہیں۔ اسکیم کے تحت ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں، کھیلو انڈیا فیڈر اسکولوں اور ضلع سطح پر قائم 52 کھیلو انڈیا مراکز کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق تعلیم کے ساتھ کھیلوں کو جوڑ کر طلبہ کی جسمانی اور ہمہ جہت ترقی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ بھوپال کے ناتھو برکھیڑا میں تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے بین الاقوامی کھیل کمپلیکس بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد بھوپال بین الاقوامی کھیل مقابلوں کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرے گا۔ریاستی حکومت کھلاڑیوں کو بہتر مستقبل اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں پولیس محکمہ میں بہترین کھلاڑیوں کی براہِ راست بھرتی کا عمل دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔ کھیل کوٹے کے تحت 10 سب انسپکٹر اور 50 کانسٹیبل کی آسامیاں مختص کی گئی ہیں۔

’کھیلے گا ایم پی اور بڑھے گا ایم پی‘ کے جذبے کے تحت منعقد ہونے والے کھیلو ایم پی یوتھ گیمز میں بلاک سے ریاستی سطح تک تقریباً ایک لاکھ نوجوان حصہ لیتے ہیں۔ ان مقابلوں کے ذریعے منتخب ہونے والے باصلاحیت کھلاڑیوں کو کھیل اکیڈمیوں میں مفت تربیت اور اعلیٰ تعلیم کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

وزیرِاعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں روایتی اور جدید، دونوں طرح کے کھیلوں کی شاندار روایت رہی ہے۔ کھیل صرف مقابلے کا ذریعہ نہیں بلکہ نوجوانوں کے روشن مستقبل اور ملک کی ترقی کی بنیاد بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی کھلاڑی میدان میں پسینہ بہاتا ہے تو وہاں صرف ایک کھلاڑی نہیں بلکہ ملک کا روشن مستقبل بھی تشکیل پاتا ہے۔ریاست کے وزیرِ کھیل و تعاون وشواس کیلاش سارنگ نے کہا کہ وزیرِاعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں کھیلوں، کھلاڑیوں اور میدانوں کی ترقی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ حکومت کا مقصد نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنا، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور جدید سہولیات فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام اسمبلی حلقوں میں کھیل کمپلیکس کی تعمیر سے دیہی اور شہری علاقوں کے باصلاحیت نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مزید مواقع ملیں گے۔

ریاستی حکومت کو امید ہے کہ جدید کھیل سہولیات، تربیتی نظام، ٹیلنٹ سرچ پروگراموں اور روزگار کے مواقع کے ذریعے مدھیہ پردیش قومی اور بین الاقوامی کھیلوں میں اپنی موجودگی مزید مضبوط کر سکے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande