والد کے کرکٹ بلوں کو نام دینے نکل پڑے کشمیر کے ثقلین یوسف
از: ظہور حسین بٹ
Saqlain Yousuf


از: ظہور حسین بٹ

سری نگر، 26 اکتوبر (ہ س) بنگلور کی کارپوریٹ دنیا کی چمک دمک اور ایک اچھی تنخواہ والی نوکری کو خیرباد کہہ کر ایک کشمیری سافٹ ویئر انجینئر اپنے والد کے کرکٹ بلے بنانے کے ہنر کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اسے ایک برانڈ کی صورت میں دنیا کے سامنے لانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔

یہ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے سنگم علاقے سے تعلق رکھنے والے ثقلین یوسف ہیں، جنہوں نے کئی برس جموں و کشمیر سے باہر مختلف کمپنیوں میں کام کیا۔ پنجاب ٹیکنیکل یونیورسٹی سے بی ٹیک کرنے والے ثقلین سافٹ ویئر انجینئر ہونے کے ساتھ ساتھ ’کنٹینٹ کریئیٹر‘ بھی ہیں، جبکہ ان کے والد تقریباً تین دہائیوں سے کرکٹ بلے بنانے کے کام سے وابستہ ہیں۔

ہندوستھان سماچار سے گفتگو میں ثقلین نے بتایا کہ وہ کئی برس تک بنگلور میں ملازمت کرتے رہے، لیکن والد کی محنت اور حوصلے سے متاثر ہو کر ان کے کام کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی فکر انہیں ہمیشہ لاحق رہتی تھی۔ انہوں نے کہا: ’’میں نے چھ ماہ قبل اس نوکری کو چھوڑ کر اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا عزم کیا۔ اب میں والد کے بلے بنانے کے کام کو نئے انداز سے آگے بڑھا کر دنیا تک پہنچانے کی جدوجہد میں مصروف ہوں۔‘‘

اپنے ایک سوشل میڈیا ویڈیو میں انہوں نے کہا ہے کہ بنگلور میں انہیں اچھی نوکری، مستحکم آمدنی اور آرام دہ زندگی میسر تھی، لیکن دل میں سکون نہیں تھا، کیونکہ ذہن میں چوبیس گھنٹے یہی خیال رہتا تھا کہ انہیں اپنے منصوبوں پر خود عمل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، انہیں نوکری چھوڑنے کا کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔

ایک اور ویڈیو میں ثقلین نے اپنے والد کے ہنر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بچپن سے انہیں ولو کی لکڑی کے ساتھ کام کرتے دیکھتے آئے ہیں، اور بلا ہاتھ میں لیتے ہی وہ بتا دیتے ہیں کہ اس میں جان ہے یا یہ محض ایک شکل دی ہوئی لکڑی ہے۔ ان کے بقول، یہ تیس برس کا ہنر اور تیس برس کا علم ہے، لیکن یہ کبھی والد کے اپنے نام سے دنیا کے سامنے نہیں آیا، کیونکہ وہ اپنا برانڈ نہیں بنا سکے۔ ایک دن بنگلور میں دفتر سے لوٹتے ہوئے ثقلین نے سوچا کہ اگر والد کے پاس تیس برس کا تجربہ ہے اور ان کے پاس انٹرنیٹ کی سمجھ، تو کیوں نہ والد کے کام کو ایک نام دیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ کشمیر کے کارخانوں سے تقریباً 80 فیصد مال میرٹھ، لدھیانہ اور ملک کے دیگر حصوں میں بغیر کسی لیبل کے جاتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ان کرکٹ بلوں پر کوئی برانڈ یا لیبل چسپاں نہیں ہوتا، وہ سادہ ہوتے ہیں۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے نوکری چھوڑنے کا مشکل فیصلہ لیا اور ’آؤٹ پلے‘ کے نام سے اپنا اسٹارٹ اپ شروع کیا۔‘‘

ثقلین کا دعویٰ ہے کہ کشمیری ولو سے بنے بلے انگلینڈ کی ولو سے بنے بلوں کے مقابلے میں زیادہ معیاری اور سستے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’دنیا میں جو کرکٹ بلے استعمال ہوتے ہیں، وہ یا تو انگلینڈ کی بید کی لکڑی کے ہوتے ہیں یا کشمیر کی۔ کشمیری بلے زیادہ معیاری بھی ہیں اور سستے بھی، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہماری مصنوعات کو وہ مارکیٹنگ اور تشہیر نہیں ملتی جس کی یہ مستحق ہیں۔‘‘

برانڈ کے نام کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’آؤٹ پلے‘ اس لیے رکھا گیا ہے کہ مقابلے میں سب سے آگے نکلنا ہے، اور ان کے لیے یہ محض ایک اسٹارٹ اپ نہیں بلکہ والد کے کام کو نام دینے اور ان کے علم کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔ ان کے برانڈ کا نعرہ ’پلے اینی وے‘ ہے۔

برانڈ کے موجودہ مرحلے کے بارے میں ثقلین نے کہا: ’’ہمارا برانڈ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ہمارا کوئی ڈسٹری بیوٹر ہے نہ ڈیلر اور نہ ہی کہیں شو روم۔ ہمارا مال صرف ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہوگا اور گاہک کے ساتھ ہمارا براہ راست رابطہ ہوگا۔ بیچ میں کوئی ڈسٹری بیوٹر یا ڈیلر نہیں ہوگا، جس سے گاہک کو فائدہ پہنچے گا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ برانڈ ابھی لانچ نہیں ہوا، لیکن عنقریب ہوگا اور وہ گزشتہ چھ سات ماہ سے مسلسل اس پر کام کر رہے ہیں۔

ان کی ویب سائٹ کے مطابق، ’آؤٹ پلے‘ کا پہلا بلا ’زیرو‘ ہارڈ ٹینس کرکٹ، یعنی ٹینس کی سخت گیند سے کھیلی جانے والی کرکٹ، کے لیے ہے۔ یہ کشمیری ولو سے بنایا جا رہا ہے اور اس کی ساخت ’ڈبل بلیڈ اسکوپ‘ ہے۔ ویب سائٹ پر پہلے لانچ کی اطلاع کے لیے واٹس ایپ اور ای میل کے ذریعے رجسٹریشن کی سہولت بھی موجود ہے۔ ثقلین نے اپنے ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ ان کے پاس بڑی ٹیم یا فنڈنگ نہیں ہے اور بہت کچھ ہونا باقی ہے، اس لیے وہ ’آؤٹ پلے‘ کو عوام کے سامنے بنائیں گے۔ وہ پروڈکٹ، پیکیجنگ، ٹیسٹنگ اور مارکیٹنگ کا ہر مرحلہ سوشل میڈیا پر دکھائیں گے اور ناظرین کے سوالات اور رائے اس سفر کو شکل دیں گے۔

ثقلین کا ماننا ہے کہ کشمیر وسائل سے مالا مال ہے، لیکن انہیں جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال کر دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ چونکہ وہ خود سافٹ ویئر انجینئر ہیں، اس لیے وہ اپنی صلاحیتوں اور تجربے کو بروئے کار لا کر اس کام کو ٹیکنالوجی کے جدید خطوط پر استوار کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس نئے کام میں دشواریاں ضرور آئیں گی، لیکن کچھ حاصل کرنے کے لیے مشکل حالات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

واضح رہے کہ وادی کشمیر میں اننت ناگ کے سنگم اور بجبہاڑہ علاقوں میں کرکٹ بلے بنانے کے کارخانے ہیں، اور یہاں تیار ہونے والے بلے معیار کے لحاظ سے مشہور ہیں۔ ماہرین کے مطابق، وادی کے کارخانوں میں سالانہ تقریباً 3 ملین کرکٹ بلے تیار ہوتے ہیں، جن سے تقریباً 300 کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی ہے، لیکن خام مال کے لیے بید کے درخت نایاب ہوتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس صنعت کو بقا کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / ظہور حسین بٹ


 rajesh pande