
کشن گنج، 25 اکتوبر(ہ س)۔ غربت اور بنیادی سہولیات کی کمی انسان کو کس حد تک مجبور کر سکتی ہے، اس کی دردناک مثال بہار کے کشن گنج ضلع کے ٹھاکر گنج بلاک کے بھنکر دواری گاؤں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہاں رہنے والی ٹلی دیوی اپنے چار رکنی خاندان کی کفالت کے لیے ہر روز اپنی جان خطرے میں ڈال کر مہانندا ندی پار کرنے پر مجبور ہیں۔
سر پر لکڑیوں کا بھاری گٹھا اٹھائے تقریباً 700 میٹر چوڑی ندی کے گہرے پانی سے گزرنا ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ خاندان کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے کی جدوجہد میں ان کی زندگی ہر روز خطرے سے دوچار رہتی ہے۔
روزگار کا کوئی دوسرا ذریعہ نہ ہونے کے باعث ٹلی دیوی پوٹھیا بلاک کی جانب ندی کے کنارے سے لکڑیاں، گھاس اور بانس جمع کرتی ہیں۔ اس کے بعد ان چیزوں کو سر پر لاد کر گہرے پانی اور تیز بہاؤ کے درمیان ندی پار کرکے اپنے گاؤں واپس لوٹتی ہیں۔ ان کے اس سفر میں ہر قدم پر خطرہ موجود رہتا ہے۔
جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ گہرے پانی میں اترتے وقت انہیں خوف محسوس نہیں ہوتا، تو ان کا جواب غربت کی تلخ حقیقت بیان کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ ڈر کر گھر بیٹھ جائیں گی تو بچوں کا پیٹ کیسے بھرے گا اور گھر میں کھانا کیسے پکے گا؟
بھنکر دواری گاؤں کے قریب مہانندا ندی پر پل نہ ہونے کی وجہ سے مقامی باشندوں کو آمدورفت میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کشن گنج شہر اور ایم جی ایم میڈیکل کالج پہنچنے کے لیے لوگوں کو ٹھاکر گنج یا پوآکھالی کی جانب سے طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔
اس وجہ سے ضلع ہیڈکوارٹر پہنچنے کے لیے تقریباً 70 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ندی پر پل تعمیر ہوجائے تو یہ فاصلہ گھٹ کر تقریباً 15 کلومیٹر رہ سکتا ہے، جس سے وقت اور اخراجات دونوں کی بچت ہوگی۔
دیہی باشندوں کو راحت پہنچانے کے مقصد سے تقریباً تین سال قبل مہانندا ندی پر پل کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا تھا، لیکن کچھ عرصے بعد ہی تعمیراتی کام بند ہوگیا۔ پل ادھورا رہ جانے کے باعث آج بھی لوگوں کو محفوظ آمدورفت کی سہولت میسر نہیں ہے۔
ٹلی دیوی کی جدوجہد صرف غربت کی کہانی نہیں، بلکہ دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی کمی اور عوامی مسائل کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ جہاں ایک طرف لوگ بہتر سڑکوں اور پلوں کی امید لگائے بیٹھے ہیں، وہیں دوسری طرف روزگار اور کھانے کا انتظام کرنے کے لیے انہیں اپنی جان خطرے میں ڈالنی پڑ رہی ہے۔
مقامی باشندوں کو امید ہے کہ ضلع انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ جلد ہی پل کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع کرائیں گے، تاکہ انہیں ندی پار کرنے کے دوران جان خطرے میں ڈالنے اور طویل راستے سے سفر کرنے کی مجبوری سے نجات مل سکے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ حکام کب اس مسئلے پر توجہ دیتے ہیں اور بھنکر دواری گاؤں کے لوگوں کو محفوظ آمدورفت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan