

نیو اسٹارٹ کے بعد جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ، دنیا پر بڑھتا ہوا ایٹمی خطرہ
— امریش دویدی
ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے جانے کے 81 سال بعد دنیا ایک بار پھر جوہری خطرات کے دور میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ جوہری ہتھیاروں پر قابو پانے کے لیے کیے گئے کئی اہم معاہدے یا تو ختم ہو چکے ہیں یا کمزور پڑ گئے ہیں۔ اسی دوران امریکہ، روس اور چین سمیت بڑی جوہری طاقتیں اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر کو جدید بنانے اور ان میں اضافہ کرنے میں مصروف ہیں۔ اس صورت حال نے جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ اور غلط فہمیوں کے باعث جوہری تصادم کے خطرے میں اضافے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
جنوری میں ’بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس‘ نے اپنی ’ڈومز ڈے کلاک‘ کو نصف شب سے صرف 85 سیکنڈ پہلے پر مقرر کیا تھا۔ 1947 میں اس گھڑی کی تشکیل کے بعد سے یہ انسانیت کی ممکنہ تباہی کے سب سے قریب ہونے کی علامت تھی۔ یہ گھڑی حقیقی وقت کی پیمائش نہیں کرتی، بلکہ جوہری ہتھیاروں، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر عالمی خطرات کی بنیاد پر سائنس دانوں کی تشویش کی علامت ہے۔ اس کا پیغام واضح تھا کہ دنیا کو جوہری خطرے کو معمول کی بات سمجھنے سے گریز کرنا ہوگا۔
اس تشویش کو مزید بڑھانے والے بڑے واقعات میں سے ایک امریکہ اور روس کے درمیان ’نیو اسٹریٹجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی‘ (نیو اسٹارٹ) کا 5 فروری 2026 کو ختم ہونا ہے۔ یہ امریکہ اور روس کے اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کی تعداد محدود کرنے والا آخری اہم دوطرفہ معاہدہ تھا۔ اس کے تحت دونوں ممالک کے تعینات اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں اور انہیں ہدف تک پہنچانے والے نظاموں پر حد مقرر تھی۔ اس معاہدے کے ذریعے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی جوہری صلاحیتوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے اور ان کی تصدیق کے لیے بھی نظام فراہم کیا گیا تھا۔
نیو اسٹارٹ کے خاتمے سے امریکہ اور روس کے لیے اپنے اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کی تعداد بڑھانے کی گنجائش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس کا سب سے بڑا خطرہ صرف ہتھیاروں کی تعداد میں اضافے تک محدود نہیں، بلکہ شفافیت اور باہمی اعتماد کے کمزور ہونے میں بھی پوشیدہ ہے۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان معلومات کا تبادلہ ہوتا تھا، معائنوں کا انتظام تھا اور جوہری سرگرمیوں پر بات چیت کے لیے ادارہ جاتی نظام موجود تھا۔ ان انتظامات نے غلط اندازوں اور اچانک فوجی ردعمل کے خطرات کو کم کرنے میں کردار ادا کیا۔
اگرچہ کووڈ-19 وبا کے دوران موقع پر جا کر معائنوں کا سلسلہ متاثر ہوا اور بعد میں روس نے معائنوں کو روک دیا، اس کے باوجود معاہدے کی متعدد شقیں دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کا اندازہ لگانے میں مدد دیتی رہیں۔ اب معاہدہ ختم ہونے کے بعد خفیہ ایجنسیوں کو جوہری سرگرمیوں کی نگرانی میں زیادہ غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر ابتدائی انتباہی نظام میں کوئی تکنیکی خرابی سامنے آئے یا کوئی مشتبہ سرگرمی دکھائی دے تو اسے غلط طور پر اس بات کی علامت سمجھا جا سکتا ہے کہ حملہ شروع ہو رہا ہے۔
دوسری جانب امریکہ اور روس دونوں اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر کو جدید بنانے کے منصوبوں پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ امریکہ اپنی جوہری سہ رخی صلاحیت، یعنی آبدوزوں، بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں اور اسٹریٹجک بمبار طیاروں کو جدید بنانے پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ روس بھی اپنے اسٹریٹجک ہتھیاروں اور نئی نسل کے ہتھیار بردار نظاموں کو ترقی دے رہا ہے۔ اگر ایک ملک اپنی جوہری صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے تو دوسرا ملک بھی جواباً ایسا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ یہی اقدامات اور جوابی اقدامات کا سلسلہ ہتھیاروں کی نئی دوڑ کو جنم دے سکتا ہے۔
اس بدلتے ہوئے جوہری توازن میں چین کا کردار بھی تیزی سے اہم ہو رہا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران چین نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافے کی رفتار تیز کی ہے۔ امریکی اندازوں کے مطابق، آنے والے برسوں میں چین کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ چین کی بڑھتی ہوئی فوجی اور جوہری طاقت نے امریکہ کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس طرح جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں امریکہ اور روس کے درمیان روایتی مسابقت اب تین بڑی طاقتوں کے درمیان پیچیدہ اسٹریٹجک مقابلے میں تبدیل ہو رہی ہے۔
یورپ میں بھی روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان جوہری سلامتی پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ فرانس نے اپنے جوہری بازدار نظام کو یورپی اتحادیوں کی سلامتی سے جوڑنے کے امکان پر زور دیا ہے۔ فن لینڈ نے اپنے قوانین میں تبدیلی کرکے غیر ملکی جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ تعیناتی کا راستہ کھولا ہے، جبکہ لیتھوانیا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق قانونی دفعات میں تبدیلی کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ اقدامات یورپ میں بدلتے ہوئے سلامتی کے ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا مقصد جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا اور جوہری تخفیف اسلحہ کی سمت پیش رفت کرنا ہے۔ لیکن جوہری طاقتوں کے درمیان ہتھیاروں پر قابو پانے کے مذاکرات میں رکاوٹوں اور نئے ہتھیاروں کو جدید بنانے کے عمل نے اس نظام کی افادیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جوہری ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ بھی موجود ہے، لیکن جوہری طاقتیں اور ان کے بیشتر اہم اتحادی اس کے فریق نہیں ہیں۔
ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعہ نے بھی عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کو چیلنج کیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے جاری کشیدگی نے اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں اور بین الاقوامی اداروں کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ نیو اسٹارٹ کا خاتمہ ہتھیاروں پر قابو پانے کی کوششوں کا اختتام نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے بجائے امریکہ اور روس کے درمیان ایک نئے معاہدے کی ضرورت ہے، جس میں اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ کم فاصلے تک مار کرنے والے اور کم صلاحیت کے غیر اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کو بھی شامل کیا جائے۔ اس کے علاوہ معلومات کے تبادلے، معائنوں، میزائل تجربات سے متعلق اطلاعات اور باہمی رابطے کے نظام کو دوبارہ مضبوط بنانے کی ضرورت ہوگی۔
چین کو ہتھیاروں پر قابو پانے کے مذاکرات میں شامل کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ امریکہ چین کی بڑھتی ہوئی جوہری صلاحیت کے پیش نظر مستقبل کے مذاکرات میں اس کی شمولیت چاہتا ہے، لیکن چین نے اب تک امریکہ اور روس کی طرح ہتھیاروں کی تعداد پر باضابطہ پابندیوں میں محدود دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اسی لیے مستقبل میں ہتھیاروں پر قابو پانے کا نظام سرد جنگ کے دور کے دوطرفہ معاہدوں سے مختلف ہو سکتا ہے۔
جوہری ہتھیاروں کی مسابقت مہنگی بھی ہے اور خطرناک بھی۔ نئے میزائلوں، آبدوزوں، بمبار طیاروں اور جوہری کمانڈ و کنٹرول نظاموں کی تیاری پر بھاری وسائل خرچ ہوتے ہیں۔ اس سے دفاعی بجٹ پر دباؤ بڑھتا ہے اور ایسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے جس میں سلامتی بڑھانے کے نام پر اٹھایا گیا قدم دوسرے ملک کے لیے خطرہ بن جائے۔
آج سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان اعتماد کمزور ہو رہا ہے اور ہتھیاروں پر قابو پانے کے پرانے نظام ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے وقت میں بات چیت، شفافیت اور تصدیق کے نظام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ نیو اسٹارٹ کا خاتمہ امریکہ اور روس کے درمیان ہتھیاروں پر قابو پانے کے ایک دور کا اختتام ضرور ہے، لیکن اسے جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کی کوششوں کا آخری باب نہیں سمجھنا چاہیے۔ آنے والے برسوں میں نئے نظام وضع کرنا ضروری ہوگا تاکہ جوہری مسابقت قابو سے باہر نہ ہو اور جوہری جنگ کے خطرے کو حتی الامکان کم کیا جا سکے۔
جوہری ہتھیار: ایک نظر میں، کس ملک کے پاس کتنے ہتھیار ہیں؟
جوہری ہتھیاروں کی تاریخ کا آغاز 1945 میں امریکہ کے پہلے جوہری تجربے سے ہوا۔ اسی سال ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے۔ اس کے بعد سوویت یونین نے 1949 میں پہلا جوہری تجربہ کیا، جبکہ برطانیہ، فرانس اور چین بالترتیب 1952، 1960 اور 1964 میں جوہری طاقتیں بنے۔ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 1968 میں جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ (این پی ٹی) اور بعد میں جامع جوہری تجربات پر پابندی کا معاہدہ (سی ٹی بی ٹی) جیسے انتظامات کیے گئے۔
آج دنیا کے نو ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہونے کا اندازہ ہے۔ ان میں این پی ٹی کے تحت باضابطہ طور پر تسلیم شدہ پانچ ممالک، یعنی امریکہ، روس، چین، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھارت اور پاکستان بھی جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک ہیں۔ اسرائیل نے باضابطہ طور پر اپنے جوہری ہتھیاروں کی تصدیق نہیں کی، لیکن عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ شمالی کوریا نے 2003 میں این پی ٹی سے الگ ہونے کا اعلان کیا اور اس کے بعد متعدد جوہری تجربات کیے۔ جون 2026 تک دنیا میں مجموعی جوہری وارہیڈز کی تعداد تقریباً 12,200 بتائی گئی ہے۔
روس اور امریکہ
روس اور امریکہ کے پاس دنیا کے سب سے بڑے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر ہیں۔ دونوں ممالک نے کئی دہائیوں تک ہتھیاروں پر قابو پانے کے معاہدوں کے ذریعے اپنے اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کی تعداد محدود رکھی۔ 2010 کے نیو اسٹارٹ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے لیے تعینات اسٹریٹجک جوہری وارہیڈز کی حد 1,550 مقرر کی گئی تھی۔ تاہم، یہ معاہدہ فروری 2026 میں ختم ہو گیا۔
فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کے اندازوں کے مطابق، روس کے فوجی ذخیرے میں تقریباً 4,400 جوہری وارہیڈز ہیں۔ امریکہ کے فوجی ذخیرے میں تقریباً 3,700 وارہیڈز ہونے کا اندازہ ہے۔ دونوں ممالک اپنے جوہری ہتھیاروں اور انہیں ہدف تک پہنچانے والے میزائلوں، آبدوزوں اور بمبار طیاروں کو جدید بنا رہے ہیں۔
چین تیزی سے بڑھا رہا ہے اپنی صلاحیت
چین کے پاس تقریباً 600 جوہری وارہیڈز ہونے کا اندازہ ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق، اگر چین اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو 2030 تک اس کے پاس 1,000 تک قابل استعمال وارہیڈز ہو سکتے ہیں۔ چین زمین اور سمندر سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں اور جوہری بمبار طیاروں کی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
فرانس اور برطانیہ
فرانس کے پاس تقریباً 290 فعال جوہری وارہیڈز کا فوجی ذخیرہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی جوہری صلاحیت بنیادی طور پر بیلسٹک میزائلوں سے لیس آبدوزوں اور فضا سے داغے جانے والے کروز میزائلوں پر مبنی ہے۔
برطانیہ کے پاس تقریباً 225 جوہری وارہیڈز کا فوجی ذخیرہ ہے۔ اس کا پورا جوہری بازدار نظام سمندر پر مبنی ہے، جس کے لیے چار وینگارڈ کلاس جوہری آبدوزیں استعمال کی جاتی ہیں۔
بھارت، پاکستان اور اسرائیل
بھارت کے پاس تقریباً 190 جوہری وارہیڈز ہونے کا اندازہ ہے۔ بھارت اپنی جوہری صلاحیت کو زمین، سمندر اور فضا سے استعمال کیے جانے والے ذرائع پر مشتمل سہ رخی نظام کی شکل میں ترقی دے رہا ہے۔
پاکستان کے پاس تقریباً 170 جوہری وارہیڈز ہونے کا اندازہ ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں مسلسل نئی بیلسٹک اور کروز میزائل صلاحیتوں پر کام کر رہے ہیں۔
اسرائیل عوامی سطح پر اپنے جوہری ہتھیاروں کی نہ تصدیق کرتا ہے اور نہ تردید، تاہم بین الاقوامی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس کے پاس تقریباً 90 جوہری وارہیڈز ہیں۔
شمالی کوریا اور ایران
شمالی کوریا کے پاس تقریباً 60 جوہری وارہیڈز ہونے کا اندازہ ہے۔ وہ پلوٹونیم کی پیداوار، یورینیم کی افزودگی اور جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہونے کا کوئی مصدقہ ثبوت نہیں ہے، لیکن اس کے جوہری پروگرام اور اعلیٰ سطح تک یورینیم کی افزودگی نے اسے بین الاقوامی تشویش کا موضوع بنا دیا ہے۔ 2015 میں مشترکہ جامع لائحۂ عمل (جے سی پی او اے) معاہدہ طے پانے کے بعد، 2018 میں امریکہ کے اس سے الگ ہونے پر تنازع مزید بڑھ گیا۔ ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ اس کا مقصد جوہری ہتھیار تیار کرنا ہے۔
کچھ ممالک نے جوہری ہتھیار تیار کیے یا ایسے پروگرام چلائے، لیکن بعد میں انہیں ترک کر دیا۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد یوکرین، بیلاروس اور قازقستان کے پاس جوہری ہتھیار آئے، جنہیں بعد میں روس کے حوالے کر دیا گیا۔ جنوبی افریقہ نے خفیہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کیے تھے، لیکن 1990 کی دہائی میں اپنا پروگرام ختم کر دیا۔
عراق، لیبیا اور شام کے جوہری پروگرام بھی بین الاقوامی تحقیقات اور تنازعات کا موضوع رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ارجنٹینا، برازیل، جنوبی کوریا، سویڈن، آسٹریلیا اور تائیوان نے بھی مختلف ادوار میں جوہری ہتھیاروں سے متعلق پروگرام چلائے تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد