ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر سائبر فراڈ، دو افراد گرفتار
نئی دہلی، 25 اکتوبر (ہ س)۔ ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر 2.10 کروڑ روپے کی سائبر دھوکہ دہی کے معاملے میں شمال مغربی دہلی کی سائبر پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ ملزمان کی شناخت سونو خان (36) اور ارجن چودھری (38) کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق، ن
ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر سائبر فراڈ، دو افراد گرفتار


نئی دہلی، 25 اکتوبر (ہ س)۔ ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر 2.10 کروڑ روپے کی سائبر دھوکہ دہی کے معاملے میں شمال مغربی دہلی کی سائبر پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ ملزمان کی شناخت سونو خان (36) اور ارجن چودھری (38) کے طور پر ہوئی ہے۔

پولیس کے مطابق، نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل پر درج شکایات کی تحقیقات کے دوران ایک مشتبہ بینک اکاؤنٹ کا سراغ ملا۔ تفتیش میں سامنے آیا کہ 12 اکتوبر کو یمنا وہار میں واقع ایک بینک اکاؤنٹ میں 98,592 روپے منتقل کیے گئے تھے۔ بینک لین دین کی جانچ سے معلوم ہوا کہ اسی دن 49 ہزار روپے نکال لیے گئے، جبکہ باقی رقم چیک کے ذریعے نکالی گئی تھی۔

تحقیقات کے دوران اس رقم کا تعلق دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کی آئی ایف ایس او یونٹ میں درج ڈیجیٹل اریسٹ فراڈ کے ایک معاملے سے سامنے آیا۔ جنک پوری کے رہائشی شکایت کنندہ نے الزام لگایا تھا کہ سائبر ٹھگوں نے اسے ڈیجیٹل اریسٹ کا خوف دکھا کر تقریباً 2.10 کروڑ روپے ہڑپ لیے۔

معاملے کی تحقیقات کے لیے سائبر تھانے کی ٹیم نے تکنیکی نگرانی اور بینک اکاؤنٹس سے متعلق دستاویزات کی جانچ کی۔ اس کے بعد پولیس نے 23 اکتوبر کو سونو خان کو اشوک نگر سے گرفتار کرلیا۔ وہ وہاں ڈسپوزیبل اشیا کی دکان چلاتا تھا۔ اس کے قبضے سے تین موبائل فون، مختلف بینکوں کے چھ ڈیبٹ کارڈ اور 10 چیک بکس برآمد کی گئیں۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران سونو نے ارجن چودھری کا نام بتایا۔ سونو کے مطابق، ارجن نے دکان کھولنے کے لیے مالی مدد فراہم کی تھی۔ اس کے بدلے ارجن نے سونو کے بینک اکاؤنٹ پر کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ ان اکاؤنٹس کا استعمال سائبر فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم کی لین دین کے لیے کیا گیا۔

سونو سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر پولیس نے شاہدرہ کے رام نگر کے رہائشی ارجن چودھری (38) کو بھی گرفتار کرلیا۔ اس کے قبضے سے ایک موبائل فون برآمد ہوا ہے۔

پولیس کے مطابق، دستیاب ریکارڈ میں دونوں ملزمان کے خلاف پہلے کسی مجرمانہ معاملے میں ملوث ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ فی الحال تحقیقات اس بات پر مرکوز ہیں کہ بینک اکاؤنٹس کھلوانے، ان پر کنٹرول رکھنے اور دھوکہ دہی کی رقم نکالنے میں دونوں کا کیا کردار تھا۔

برآمد شدہ موبائل فون، ڈیبٹ کارڈ، چیک بکس اور ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس دھوکہ دہی کی رقم کی منتقلی سے متعلق پوری کڑی کا سراغ لگانے میں مصروف ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande