سرمایہ کاری پر بھاری منافع کا لالچ دے کر خاتون کانسٹیبل سے 24 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کا ملزم گرفتار
نئی دہلی، 24 اکتوبر (ہ س)۔ دہلی پولیس کی ایک خاتون کانسٹیبل کو سرمایہ کاری پر بھاری منافع دلانے کا جھانسہ دے کر تقریباً 24 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کرنے کے الزام میں پولیس نے ایک نوجوان کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم کی شناخت اتر پردیش کے باغپت کے رہنے والے
CRIME-FRAUD-ARREST-DELHI


نئی دہلی، 24 اکتوبر (ہ س)۔ دہلی پولیس کی ایک خاتون کانسٹیبل کو سرمایہ کاری پر بھاری منافع دلانے کا جھانسہ دے کر تقریباً 24 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کرنے کے الزام میں پولیس نے ایک نوجوان کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم کی شناخت اتر پردیش کے باغپت کے رہنے والے وکرانت کمار عرف وکی تومر (26) کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔

پولیس کے مطابق، خاتون کانسٹیبل شوانی کی شکایت پر 8 ستمبر کو وسطی ضلع کے سائبر پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ شکایت کے مطابق، ملزم نے سب سے پہلے انسٹاگرام کے ذریعے خاتون سے رابطہ کیا۔ اس نے دہلی پولیس میں کھیل کوٹے کے تحت بھرتی ہونے کے لیے رہنمائی حاصل کرنے کی بات کہی۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان واٹس ایپ پر بات چیت شروع ہوگئی۔

الزام ہے کہ وکرانت نے خود کو کرکٹ کی دنیا کی ایک بڑی شخصیت ظاہر کرکے خاتون کا اعتماد حاصل کیا اور سرمایہ کاری کے نام پر زیادہ منافع کا لالچ دے کر اس سے رقم ہتھیا لی۔ اس کے جھانسے میں آکر خاتون نے اپنے ایکسس بینک اکاونٹ میں جمع بچت کی رقم ملزم کو منتقل کردی۔ اس کے علاوہ انہوں نے 12 لاکھ روپے کا ذاتی قرض بھی لیا اور اپنے جاننے والوں سے رقم ادھار لے کر ملزم کو دی۔ اس طرح دھوکہ دہی کی مجموعی رقم تقریباً 24 لاکھ روپے ہوگئی۔

پولیس کے مطابق، دھوکہ دہی سے حاصل ہونے والی رقم میں سے تقریباً 8 لاکھ روپے ملزم کی ہدایت پر سٹے بازی کے پلیٹ فارم سے منسلک بینک کھاتوں میں منتقل کیے گئے۔ معاملے کی جانچ کے دوران وسطی ضلع کی سائبر پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

پولیس نے بتایا کہ شکایت میں ملزم پر خاتون سے ملاقات کے دوران نامناسب طریقے سے چھونے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ الزام ہے کہ اس نے خاتون کی عزت و وقار مجروح کرنے کی نیت سے ایسا کیا۔ پولیس اس پہلو سے بھی معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔

پولیس اب یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا ملزم نے سرمایہ کاری کے نام پر دیگر افراد کو بھی دھوکہ دہی کا نشانہ بنایا ہے۔ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande