
نئی دہلی، 24 اکتوبر (ہ س)۔ دہلی کے اوکھلا انڈسٹریل ایریا میں تھوک کاروباریوں کے ساتھ دھوکہ دہی کے دو الگ الگ معاملات میں پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ الزام ہے کہ دو ملزمان نے کریڈٹ پر تقریباً 45 لاکھ روپے کے کپڑے حاصل کیے اور ادائیگی نہیں کی، جب کہ تیسرے ملزم نے بینک ٹرانسفر کے فرضی اسکرین شاٹس دکھا کر 17.68 لاکھ روپے سے زیادہ مالیت کا طبی استعمال کا سامان حاصل کرلیا۔ دونوں معاملات میں مجموعی طور پر 62.68 لاکھ روپے کی مبینہ دھوکہ دہی سامنے آئی ہے۔
جنوب مشرقی ضلع کی پولیس کے مطابق، کپڑوں کے کاروباریوں کے ساتھ دھوکہ دہی کے معاملے میں گرفتار ملزمان کی شناخت سرائے کالے خاں کے رہنے والے مشیر خان اور موج پور کے رہائشی شاہ رخ عرف محمد اسحاق کے طور پر ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان نے آن لائن تھوک کاروباری پلیٹ فارم کے ذریعے تاجروں سے رابطہ کیا اور کپڑوں کے آرڈر دے کر ادھار پر سامان حاصل کیا۔ ادائیگی کے لیے دیے گئے چیک اور دیگر ذرائع سے کی جانے والی ادائیگی مبینہ طور پر ناکام ہوگئی۔ تاجروں نے کئی بار فون اور پیغامات کے ذریعے بقایا رقم طلب کی، لیکن ملزمان نے جواب دینا بند کردیا۔
بعد میں ان کے دفاتر اور فیکٹریاں بھی بند پائی گئیں، جب کہ موبائل فون سوئچ آف ہوگئے۔ تفتیش میں سامنے آیا کہ مشیر پہلے تھوک کپڑا بازار میں سیلز مین کے طور پر کام کرچکا تھا اور اسے تاجروں کے کاروباری طریقہ کار کی معلومات تھیں۔ پولیس سال 2023 میں درج اسی نوعیت کے ایک معاملے میں بھی اس کے مبینہ کردار کی جانچ کر رہی ہے۔
پولیس نے دونوں ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال کیے گئے دو موبائل فون برآمد کیے ہیں۔ عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد دونوں کو عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔دوسرے معاملے میں پولیس نے راجستھان کے الور سے 28 سالہ اسلم کو گرفتار کیا ہے۔ الزام ہے کہ اس نے اوکھلا میں واقع طبی سامان فراہم کرنے والی کمپنی میسرز کرشنا انٹرپرائزز سے 17,68,637 روپے مالیت کا طبی استعمال کا سامان حاصل کیا اور ادائیگی کے نام پر بینک ٹرانسفر کے فرضی اسکرین شاٹس دکھائے۔
اس سلسلے میں 19 جنوری کو شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے تکنیکی نگرانی اور دیگر سراغوں کی مدد سے ملزم کا پتہ لگایا۔تفتیش کے مطابق، اسلم الور کے ایک سرکاری اسپتال میں ٹیکنیشن اسسٹنٹ کے طور پر کام کرچکا تھا اور اسے طبی آلات کی معلومات تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کرکٹ سٹے بازی میں مالی نقصان اٹھانے کے بعد اس نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی کا راستہ اختیار کیا۔ مہاراشٹر میں اسی نوعیت کے دھوکہ دہی کے معاملات اور راجستھان میں درج دیگر مقدمات میں بھی اس کے ممکنہ تعلق کی جانچ کی جا رہی ہے۔پولیس کے مطابق، پوچھ گچھ کے دوران اسلم نے مبینہ طور پر بتایا کہ اس نے دھوکہ دہی سے حاصل کیا گیا طبی سامان دہلی کے رمیش نگر-مانسروور گارڈن علاقے میں واقع میسرز سوستک سرجیکلز کو فروخت کردیا تھا۔ تقریباً 17 لاکھ روپے مالیت کا یہ سامان مبینہ طور پر 6 سے 7 لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا۔
پولیس نے فرم کے 67 سالہ مالک رمیش چندر جسوجا کو تفتیش میں شامل ہونے اور سامان پیش کرنے کے لیے کہا ہے۔ پولیس اب یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ سامان کن حالات میں خریدا گیا اور آیا اس معاملے میں ان کا بھی کوئی کردار تھا۔
پولیس دونوں معاملات میں ملزمان کے رابطوں، مبینہ دھوکہ دہی کے طریقہ کار اور اس نوعیت کے دیگر ممکنہ معاملات سے متعلق پہلوو¿ں کی جانچ کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد