کشمیری ’پھیرن‘ کی عالمگیر مقبولیت: سردیوں کی دستک کے ساتھ ہی مانگ میں اضافہ
از: ظہور حسین بٹ سری نگر، 23 اکتوبر (ہ س)۔ وادی کشمیر میں سردیوں کی دستک کے ساتھ ہی جہاں لوگ روایتی لباس ’پھیرن‘ کی خریداری میں مصروف ہو گئے ہیں، وہیں ملک کے دیگر حصوں، خاص طور پر شمالی ہندوستان میں بھی سرما کے پیش نظر اس روایتی کشمیری لباس کی خری
Kashmiri Pheran


از: ظہور حسین بٹ

سری نگر، 23 اکتوبر (ہ س)۔ وادی کشمیر میں سردیوں کی دستک کے ساتھ ہی جہاں لوگ روایتی لباس ’پھیرن‘ کی خریداری میں مصروف ہو گئے ہیں، وہیں ملک کے دیگر حصوں، خاص طور پر شمالی ہندوستان میں بھی سرما کے پیش نظر اس روایتی کشمیری لباس کی خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

’پھیرن‘ ایک ڈھیلا اور لمبا لباس ہے جو کشمیر میں سردیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پہنا جاتا ہے۔ یہ لباس اب صرف کشمیر تک محدود نہیں رہا۔ اپنی منفرد بناوٹ اور آرام دہ ہونے کے باعث اس نے نہ صرف ملک کے مختلف حصوں بلکہ بیرون ملک بھی اپنی جگہ بنا لی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

مورخ اور شاعر ظریف احمد ظریف ’پھیرن‘ کو محض ایک لباس نہیں بلکہ کشمیر کی شاندار ثقافت کا ایک اہم حصہ قرار دیتے ہیں۔

وادی کی معروف فیشن ڈیزائنر مفتی سعدیہ، جنہیں ’پھیرن‘ کو امریکہ پہنچانے کا اعزاز حاصل ہے، کا کہنا ہے کہ ایک زمانے میں صرف وادی تک محدود یہ لباس اب عالمی سطح پر متعارف ہو چکا ہے اور اس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے ہندوستھان سماچار سے گفتگو میں کہا کہ شمالی ہندوستان میں ’پھیرن‘ کو کافی پسند کیا جا رہا ہے اور اس کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق، اسے صرف فیشن کے طور پر نہیں پہنا جا رہا، بلکہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ایک آرام دہ لباس بھی ہے، جس کی وجہ سے لوگ اسے ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’’ایک بار جو شخص پھیرن پہن لیتا ہے، وہ اس کا مستقل خریدار بن جاتا ہے اور اس کے دوست احباب بھی اسے خریدتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے ملک و بیرون ملک سے مختلف ڈیزائنوں کے پھیرن کے آرڈر ملتے رہتے ہیں۔‘‘

’ہینگرز: دی کلوزٹ‘ سری نگر کی مالک سعدیہ کا کہنا ہے کہ ’پھیرن‘ کوٹ جیسے دیگر لمبے کپڑوں سے ہلکا بھی ہوتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اسے خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوٹ وغیرہ سے زیادہ آرام دہ اور خوبصورت بھی ہے اور پہننے والے کی شخصیت کو دوبالا کرتا ہے۔

نئی دہلی کے راجوری گارڈن علاقے میں ’کشمیر ایکسپو‘ کے نام سے کشمیر آرٹ کی دکان چلانے والے محمد یاسین پنڈت کا کہنا ہے کہ ’پھیرن‘ کی عالمگیر شہرت میں سوشل میڈیا کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے ہندوستھان سماچار کو بتایا کہ ’پھیرن‘ کی عالمی مقبولیت میں سوشل میڈیا کا بڑا رول ہے۔ اس کے علاوہ ٹی وی سیریلوں میں بھی بعض اداکاروں نے اسے پہنا، جس سے اس کی مقبولیت مزید بڑھ گئی۔

تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مشین سے تیار کیے جانے والے ’پھیرن‘ نے ہاتھ سے بنے ’پھیرن‘ کی ساکھ کو قدرے متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشین سے تیار کیے جانے والے ’پھیرن‘ ہاتھ سے بنے ’پھیرن‘ کے مقابلے میں سستے ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ہاتھ سے تیار کیے جانے والے ’پھیرن‘ کی مانگ برقرار ہے۔

موصوف دکاندار کا ماننا ہے کہ گرم ملبوسات کی مختلف اقسام وافر مقدار میں دستیاب ہونے کے باوجود ’پھیرن‘ کی مانگ میں کوئی کمی نہیں آ رہی۔ انہوں نے کہا: ’’میں گزشتہ 25 برسوں سے اس کاروبار سے وابستہ ہوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ گرم ملبوسات کی مختلف اقسام کی دستیابی کے باوجود اس کی مانگ میں اضافہ ہی ہو رہا ہے، کوئی کمی نہیں ہو رہی۔‘‘

ان کا کہنا ہے: ’’کشمیر کی خوبصورت ثقافت کی طرح پھیرن بھی ایک خوبصورت لباس ہے۔ جو ایک بار پھیرن پہن لیتا ہے، وہ اسے اپنے لباس کا اہم حصہ بنا لیتا ہے۔ اسے لوگ بلا لحاظ مذہب و ملت پہنتے ہیں۔‘‘

وسطی ضلع بڈگام میں ’بابا آرٹ گیلری‘ چلانے والے تاجر یاور علی بابا کا کہنا ہے کہ کشمیری ’تلہ پھیرن‘ یہاں پہنے جانے والے ’پھیرن‘ کی ایک مخصوص قسم ہے جو دلہن کے لباس کا لازمی جز ہے۔

انہوں نے ہندوستھان سماچار کو بتایا کہ مشین سے بنے ’تلہ پھیرن‘ بھی دکانوں پر دستیاب ہیں جو قدرے سستے ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت ہاتھ سے تیار کیے جانے والے ’تلہ پھیرن‘ ہی خریدتی ہے۔ ان کے مطابق، ایک ’تلہ پھیرن‘ کی قیمت کم از کم 15 ہزار روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں شادیوں کا سیزن شروع ہونے کے ساتھ ان کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

مورخ ظریف احمد ظریف نے ہندوستھان سماچار کے ساتھ ایک جامع گفتگو کے دوران کہا: ’’ہمارا روایتی لباس پھیرن محض ہمارا لباس نہیں بلکہ ہماری شاندار ثقافت کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مختلف مراحل سے گزر کر اور مختلف ڈیزائن اختیار کرنے کے بعد یہ نہ صرف کشمیر میں بلکہ کئی بیرونی ممالک میں بھی مقبول ہوا ہے اور استعمال کیا جا رہا ہے۔ کشمیر میں اب اسے نہ صرف گھروں میں پہنا جاتا ہے، بلکہ افسر اور دیگر ملازمین بھی نئے ڈیزائن کے پھیرن پہن کر دفتر جانے لگے ہیں۔‘‘

’پھیرن‘ کی تاریخ کا اجمالی ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’کشمیر میں موسمی حالات کے مطابق پھیرن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ موسم سرما میں، جب یہاں سردی کا زور عروج پر ہوتا ہے، ایسے گرم کپڑے کا پھیرن زیب تن کیا جاتا تھا جسے مقامی زبان میں ’پوٹ‘ یا ’مونل‘ کہا جاتا تھا، جبکہ گرمیوں میں کپاس کے کپڑے کا پھیرن پہنا جاتا تھا۔ پھر امتداد زمانہ کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں سے مختلف قسموں کے گرم کپڑے یہاں آنے لگے تو انہی کپڑوں کے پھیرن بنائے جانے لگے۔ کشمیر کو چونکہ ایران صغیر بھی کہا جاتا ہے، لہٰذا ایران سے جو بھی چیزیں، جیسے لباس اور کھانے پینے کی اشیا وغیرہ آئیں، انہیں یہاں قبول کیا گیا۔ جو لوگ (مبلغ، تاجر، کاریگر وغیرہ) یہاں آئے، وہ ایک ڈھیلا ڈھالا لباس زیب تن کیے ہوتے تھے، جسے تاجک زبان میں ’پیرا بند‘ اور فارسی زبان میں ’پیراہن‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا اگلا حصہ کھلا ہوتا تھا۔ کشمیریوں نے موسمی صورتحال کے مطابق اس میں تھوڑی سی تبدیلی کی اور اسے استعمال کیا۔ یہی پیراہن کشمیر میں پھیرن کے نام سے مشہور ہوا۔‘‘

مورخ نے کہا کہ کشمیر میں ہر مذہبی و سماجی طبقے سے وابستہ لوگ معمولی سی تبدیلی کے ساتھ ’پھیرن‘ کا استعمال کرتے ہیں اور موسم سرما کی ٹھٹھرتی سردی سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’’پنڈت برادری کے لوگ اپنے پھیرن کی بائیں آستین قدرے لمبی رکھتے تھے، جسے سخت سردیوں میں مفلر کے طور پر بھی استعمال کرتے تھے اور اس پر چائے کا پیالہ بھی رکھتے تھے۔ ان کے پھیرن کے دونوں اطراف جیبیں ہوتی ہیں، جبکہ باقی لوگوں کے پھیرن میں صرف دائیں جانب ایک جیب ہوا کرتی ہے۔‘‘

ان کا کہنا ہے: ’’پھیرن کا استعمال اب صرف وادی کشمیر تک محدود نہیں رہا۔ نئے اور فیشن کے تقاضوں کے مطابق تیار کیے جانے والے اس کے ڈیزائن سرحدوں کو پھلانگ کر دنیا کے کئی ملکوں تک پہنچ گئے ہیں، جہاں انہیں شوق و ذوق سے پہنا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے پھیرن کو عالمگیر شہرت نصیب ہوئی ہے۔‘‘

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / ظہور حسین بٹ


 rajesh pande