نیناپیک سے نظر آنے والے ہمالیہ کے 365 کلومیٹر طویل پہاڑی سلسلے اور 150 کلومیٹر دور تک کے دلکش مناظر
نینی تال، 23 اکتوبر (ہ س)۔ خزاں کے موسم میں اتراکھنڈ کے نینی تال کی پہاڑیاں قدرتی حسن کے دلکش مناظر پیش کر رہی ہیں۔ اکتوبر اور نومبر کا وقت یہاں کے پہاڑی سلسلوں کو دیکھنے کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ بارش کے بعد فضا صاف ہونے سے ان دنوں دور تک دیکھنا
ہمالیہ


نینی تال، 23 اکتوبر (ہ س)۔ خزاں کے موسم میں اتراکھنڈ کے نینی تال کی پہاڑیاں قدرتی حسن کے دلکش مناظر پیش کر رہی ہیں۔ اکتوبر اور نومبر کا وقت یہاں کے پہاڑی سلسلوں کو دیکھنے کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ بارش کے بعد فضا صاف ہونے سے ان دنوں دور تک دیکھنا ممکن ہو رہا ہے۔ اونچی پہاڑی چوٹیوں سے ہمالیہ کے ساتھ ساتھ دور دور تک پھیلے میدانی علاقوں کے شاندار مناظر بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے میں نینی تال آنے والے سیاحوں کے لیے یہ موسم قدرت کے انمول نظاروں کو قریب سے دیکھنے کا بہترین موقع ثابت ہو رہا ہے۔

نینی تال کے نینا پیک (2610 میٹر)، اسنو ویو (2270 میٹر) اور ٹفن ٹاپ (2292 میٹر) جیسے بلند مقامات سے نینی تال شہر، نینی جھیل، ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں اور ترائی کے علاقوں کے وسیع اور دلکش مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ شہر کی کِل بِری روڈ سے تقریباً تین کلومیٹر پیدل چڑھائی طے کرکے نینا پیک پہنچنا اپنے آپ میں ایک پُرجوش تجربہ ہے۔ موسم صاف ہونے پر یہاں سے ہمالیہ کی برف سے ڈھکی سفید چوٹیاں دور تک نظر آتی ہیں۔ وہیں، کِل بِری روڈ پر شہر سے تقریباً نو کلومیٹر دور واقع مقام سے ہمالیہ کے تقریباً 365 کلومیٹر طویل پہاڑی سلسلے کو ایک ساتھ دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

ان پہاڑی سلسلوں میں چوکمبھا، نیل کنٹھ، کامیت، گوری پربت، ہاتھی پربت، نندا گھونٹی، تریشول، میک ٹولی، نندا دیوی، نندا کوٹ، راج رنبھا اور پنچ چولی سمیت کئی مشہور چوٹیاں شامل ہیں۔ موسم صاف ہونے پر کُماؤں اور گڑھوال کے پہاڑی علاقوں کے ساتھ پڑوسی ملک نیپال کی سرحدوں کی جانب پھیلی ہمالیہ کی تقریباً 365 کلومیٹر طویل چوٹیوں کی قطار بھی دکھائی دیتی ہے۔ یہ مناظر قدرت سے محبت کرنے والوں، فوٹوگرافروں اور پہاڑی حسن میں دلچسپی رکھنے والے سیاحوں کے لیے خصوصی کشش رکھتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ان چوٹیوں کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک فضائی فاصلہ بھی تقریباً 200 کلومیٹر بتایا جاتا ہے، جبکہ نینی تال سے ان کا فضائی فاصلہ تقریباً 150 کلومیٹر ہے۔ ان بلند مقامات سے ہلدوانی، رام نگر، کاشی پور، نانک متہ اور بہیڑی سمیت دور دراز کے میدانی علاقے بھی نظر آتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ موسم انتہائی صاف ہونے پر اتر پردیش کے بریلی، رام پور اور مرادآباد تک کے میدانی علاقے بھی یہاں سے دکھائی دیتے ہیں۔ نینی تال شہر اور نینی جھیل کا وسیع منظر بھی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان دنوں نینی تال میں سیاحوں کی تعداد نسبتاً کم رہنے کے باعث ٹریفک جام، ہوٹلوں میں کمروں کی دستیابی اور دیگر پریشانیوں کا سامنا بھی کم کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود اندازہ ہے کہ نینی تال آنے والے تقریباً 95 فیصد سیاح ان انمول قدرتی مناظر کو دیکھے بغیر ہی واپس لوٹ جاتے ہیں۔

ایسے میں اکتوبر اور نومبر کے دوران نینی تال آنے والے سیاح موسم صاف ہونے پر نینا پیک، اسنو ویو اور دیگر بلند پہاڑی مقامات کی سیر کرکے ہمالیہ کی عظمت اور جھیلوں کے شہر نینی تال کے بے مثال قدرتی حسن سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande