
جگدل پور، 22 اکتوبر (ہ س):۔
شاہی دور سے چلے آ رہے بستر دسہرہ کی تاریخ میں جمعہ کو ایک سنہری اور بے مثال باب کا اضافہ ہونے جا رہا ہے، جب ملک کی صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سرہاسار میں منعقد ہونے والے روایتی مڑیا دربار میں اپنی باوقار موجودگی درج کرائیں گی۔ بستر کی صدیوں پرانی شاندار روایت اور جمہوری نظام کے اس تاریخی پلیٹ فارم پر پہنچنے والی وہ ملک کی پہلی صدر جمہوریہ ہوں گی۔
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کا تعلق خود قبائلی برادری سے ہونے کی وجہ سے اس دورے کی سیاسی اور سماجی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اس سے قبل 4 اکتوبر 2025 کو بستر دسہرہ کے مڑیا دربار میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ شرکت کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی سطح کے دیگر وزرا کبھی اس دربار میں شریک نہیں ہوئے، جب کہ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ اور وزرا وقتاً فوقتاً اس میں شرکت کرتے رہے ہیں۔
مڑیا دربار، عالمی شہرت یافتہ بستر دسہرہ کی اختتامی تقریبات کے دوران منعقد ہونے والی اہم ترین اور تاریخی رسومات میں سے ایک ہے۔ اسے صدیوں پرانے قبائلی جمہوری نظام یا ”عوامی پارلیمنٹ“ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جہاں راجا اور رعایا کے درمیان براہِ راست گفتگو ہوتی تھی۔ مڑیا دربار کا باقاعدہ آغاز 8 مارچ 1876 کو ہوا تھا۔ تاریخی دستاویزات کے مطابق، پہلی بار اس کا انعقاد اس وقت ہوا جب سیرونچا کے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر میک جارج نے بستر کے روایتی قبائلی رہنماو¿ں، مانجھیوں اور چالکیوں سے خطاب کیا تھا۔
ابتدا میں یہ ایک انتظامی اجلاس کی طرح تھا، لیکن بعد میں قبائلیوں کی سہولت اور بستر کے ثقافتی اتحاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے تاریخی بستر دسہرہ میلے کا لازمی حصہ بنا دیا گیا۔
مڑیا دربار آج بھی قبائلی روایت کے ایک اہم حصے کے طور پر رائج ہے۔ دیہی علاقوں سے آنے والے لوگ پانی، جنگلات، کھیتی باڑی اور باہمی تنازعات جیسے مسائل راجہ کے سامنے پیش کرتے تھے اور مہاراجہ موقع پر ہی ان کا فوری حل نکالتے تھے۔ بستر کے آخری حکمران مہاراجہ پرویر چندر بھنج دیو 1965 تک اس دربار کی صدارت کرتے رہے۔ 1947 میں ملک کی آزادی اور شاہی ریاستوں کے انضمام کے بعد دربار کی نوعیت بدل گئی۔ اب راجہ کی جگہ ریاست کے وزیر اعلیٰ، وزرا اور انتظامی افسران اس میں شرکت کرتے ہیں۔ وہ قبائلیوں کے مطالبات سنتے ہیں، بستر دسہرہ کے مانجھیوں کا اعزازیہ طے کرتے ہیں اور ترقیاتی کاموں کا اعلان کرتے ہیں۔ مہاراجہ پرویر چندر بھنج دیو کی موت کے بعد شاہی خاندان نے کچھ عرصے کے لیے اس دربار میں شرکت بند کر دی تھی، تاہم 2015 سے شاہی خاندان کے موجودہ جانشین کمل چندر بھنج دیو روایتی طور پر اس میں شریک ہو رہے ہیں۔
اس تاریخی اور قابلِ فخر موقع پر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو خود بھی قبائلی برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ بستر خطے کے روایتی سماجی محافظوں اور عوامی نمائندوں، مانجھیوں، چالکیوں، نائکوں، پائکوں اور دیگر مرد و خواتین نمائندوں سے ملاقات کرکے ان کے ساتھ دوستانہ اور اپنائیت بھرا مکالمہ کریں گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ