
کانگڑی : کشمیر کی سردیوں کی گرمی اور ثقافت کی پہچان
چرار شریف، 21
اکتوبر (ہ س)۔ وادی کشمیر میں موسم سرما کے دوران ٹھٹھرتی سردی سے بچنے کے لیے زمانۂ
قدیم سے روایتی کانگڑیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ گرمی فراہم کرنے والے جدید ترین
آلات کی دستیابی کے باوجود کانگڑیوں کا راج آج بھی قائم ہے۔ وادی میں موسم سرما کی دستک کے ساتھ ہی شہر
و گام کی دکانوں پر کانگڑیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ یہ کانگڑیاں نہ صرف سخت سردیوں کا
مقابلہ کرنے کا سامان ہیں بلکہ کشمیر کی شاندار ثقافت کا ایک اہم جز بھی ہیں۔
اگرچہ وادی کے مختلف علاقوں میں کانگڑیاں
تیار کی جاتی ہیں، تاہم وسطی کشمیر کے مشہور علاقے چرار شریف میں بننے والی
کانگڑیاں اپنی منفرد ساخت اور نفاست کے باعث ایک خاص پہچان رکھتی ہیں۔ چرار شریف
علمدار کشمیر حضرت شیخ نور الدین نورانی (رح) کا مسکن ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں
مشہور ہے۔
کانگڑی مٹی کے پیالے اور بید کی ٹہنیوں سے
تیار کی جاتی ہے۔ اس میں دہکتے کوئلے ڈالے جاتے ہیں اور لوگ اسے روایتی لباس ’پھیرن‘
کے نیچے رکھ کر سردی سے بچنے کے لیے گرمی حاصل کرتے ہیں۔ گرمی فراہم کرنے والے جدید ترین آلات کی
آمد سے اگرچہ کانگڑی کے استعمال اور اس کے کاروبار پر کسی حد تک اثر پڑا ہے، تاہم
اس کے باوجود یہ کشمیر کے ہر گھر کی زینت ہے۔
چرار شریف سے تعلق رکھنے والے معروف کانگڑی
ساز غلام حسن خادم کا ماننا ہے کہ چرار شریف کی کانگڑیوں کو علمدار کشمیر حضرت شیخ
نور الدین نورانی (رح) سے خاص نسبت حاصل ہے، جس کی وجہ سے یہ نہ صرف وادی کے اطراف
و اکناف بلکہ ملک کے کئی حصوں میں بھی مشہور ہیں۔
انہوں نے ہندوستھان سماچار کے ساتھ مختصر
گفتگو کے دوران کہا: ’’چرار شریف کی کانگڑی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اسے
علمدار کشمیر سے خاص نسبت حاصل ہے۔ اسی وجہ سے یہ نہ صرف وادی بلکہ ملک کے کئی حصوں
میں مشہور ہے۔ علمدار کشمیر سے عقیدت رکھنے والے لوگ اس کانگڑی کو تبرک کے طور پر
بھی خریدتے ہیں۔‘‘
ان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ چرار شریف کی
کانگڑی ساخت اور بناوٹ کے لحاظ سے بھی منفرد ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی
کے اکثر لوگ خزاں کے موسم میں ہی کانگڑی خریدنا شروع کر دیتے ہیں، جس کے باعث ان کے
کارخانے میں بھی خریداروں کی بھیڑ بڑھنے لگی ہے۔
جدید آلاتِ گرمایش کی دستیابی سے اس
کاروبار پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں غلام حسن خادم کا کہنا ہے کہ کانگڑیوں کی
مانگ میں کمی کے باوجود وہ اس کام سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’ہمارا خاندان گزشتہ 70
برسوں سے اس کام سے وابستہ ہے اور میں خود 40 برسوں سے یہی کام کر کے اپنے اہلِ
خانہ کی کفالت کر رہا ہوں۔ اسی کاروبار سے میں نے اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے
آراستہ کیا۔ مانگ میں کمی کے باوجود میں اس کام سے مطمئن ہوں۔‘‘
تاہم، انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ نئی نسل
اس کام کی طرف متوجہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’’نئی نسل یہ کام نہیں سیکھتی۔ وہ
روزی روٹی کمانے کے لیے دوسرے کاموں کو ترجیح دیتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس
کام کے لیے درکار صبر ان میں نہیں ہے، نیز اس میں زیادہ کمائی بھی نہیں ہوتی۔‘‘
خادم نے کہا کہ پنڈت برادری سے وابستہ لوگ
ہیرتھ کے تہوار کے موقع پر خصوصی طور پر کانگڑیاں خریدتے تھے، لیکن ان کی وادی سے
ترکِ سکونت کے بعد اس کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے کہا: ’’پنڈت برادری کے لوگ ہیرتھ
کے تہوار کے موقع پر خصوصی کانگڑیاں خریدتے تھے اور انہیں اپنی بیٹیوں کو بطور
تحفہ بھیجتے تھے، لیکن ان کی ترکِ سکونت کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہوگیا، جس سے اس
کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔‘‘
ان کا کہنا ہے کہ مانگ میں کمی کے پیش نظر
اب کاریگر مختلف ڈیزائنوں کی کانگڑیاں بناتے ہیں، جو نہ صرف گرمی حاصل کرنے کے لیے
بلکہ گھروں میں آرائشی سامان کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہیں۔ خادم نے کہا کہ شادی بیاہ کے موقع پر دلہن
کو پیش کی جانے والی خصوصی کانگڑی کی قیمت 10 سے 12 ہزار روپے تک ہوتی ہے۔ انہوں
نے کہا کہ ایسی کانگڑیاں تیار کرنے میں اگرچہ زیادہ وقت اور مواد درکار ہوتا ہے،
لیکن ان سے اچھی کمائی بھی ہوتی ہے۔
وادی میں عام طور پر گرمی حاصل کرنے کے لیے
استعمال ہونے والی کانگڑیوں کی بھی مختلف اقسام ہیں اور اسی لحاظ سے ان کی قیمتیں
بھی مختلف ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں غلام حسن خادم کا کہنا ہے: ’’عام طور پر گرمی
حاصل کرنے کے لیے استعمال ہونے والی کانگڑیاں نسبتاً سادہ ہوتی ہیں اور ان کی قیمت
بھی کم ہوتی ہے۔ ان کی قیمت ڈھائی سو سے تین سو روپے تک ہوتی ہے، جبکہ اس سے بہتر
کانگڑیوں کی قیمت 800 سے 1,200 روپے تک ہوتی ہے، جنہیں آسودہ حال طبقے کے لوگ
خریدتے ہیں۔‘‘
خادم نے کہا کہ آج بھی اس صنعت سے ہزاروں
لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’’کانگڑی سازوں سے لے کر بیوپاریوں تک
ہزاروں لوگوں کی روزی روٹی اس کاروبار پر منحصر ہے۔ خصوصی کانگڑیاں بنانے کے لیے
کچھ سامان دہلی سے بھی آتا ہے، جبکہ یہاں مٹی کے برتن بنانے والوں سے لے کر بید کی
ٹہنیاں فروخت کرنے والوں تک سینکڑوں لوگ اس کاروبار سے اپنے اہلِ خانہ کی کفالت
کرتے ہیں۔‘‘
حکومت کی جانب سے اس صنعت کے فروغ کے لیے
کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں غلام حسن خادم کا کہنا ہے کہ حکومت گزشتہ دو
تین برسوں سے اس صنعت کی طرف سنجیدگی سے متوجہ ہے اور اس کے فروغ کے لیے ٹھوس
اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’حکومت گزشتہ دو تین برسوں
سے اس صنعت کی طرف متوجہ ہے۔ محکمہ ہینڈی کرافٹس کی جانب سے جہاں کاریگروں کی
حوصلہ افزائی کے لیے انہیں ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے، وہیں ضرورت مند کاریگروں کو
سبسڈی پر بینک قرضے بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔‘‘
ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور عوامی سطح
پر اس صنعت کی طرف بھرپور توجہ دی جائے تو یہ وادی میں بے روزگار نوجوانوں کے لیے
روزگار کی فراہمی کا ایک بڑا اور مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / ظہور حسین بٹ