سگریٹ پینے سے ٹوکنے پر نوجوان کا چاقو سے حملہ کرکے قتل
نئی دہلی، 21 اکتوبر (ہ س)۔ شمال مشرقی دہلی کے سیلم پور علاقے میں سگریٹ پینے پر ٹوکنے کے تنازعے میں 20 سالہ نوجوان سبحان کا چاقو سے حملہ کرکے قتل کر دیا گیا۔ الزام ہے کہ سینٹرل پارک میں سگریٹ پی رہے سبحان اور اس کے دوست کو کچھ لڑکوں نے ٹوکا تھا۔ اسی
SIX-HELD-SEELAMPUR-MURDER-CAS


نئی دہلی، 21 اکتوبر (ہ س)۔ شمال مشرقی دہلی کے سیلم پور علاقے میں سگریٹ پینے پر ٹوکنے کے تنازعے میں 20 سالہ نوجوان سبحان کا چاقو سے حملہ کرکے قتل کر دیا گیا۔ الزام ہے کہ سینٹرل پارک میں سگریٹ پی رہے سبحان اور اس کے دوست کو کچھ لڑکوں نے ٹوکا تھا۔ اسی بات پر دونوں فریقوں کے درمیان بحث شروع ہوگئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد جھگڑے میں بدل گئی۔ اس دوران ملزمان نے سبحان پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ شدید زخمی سبحان کو اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔ سیلم پور تھانے کی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس معاملے میں چھ ملزمان کو حراست میں لیا ہے۔ ان میں دو نابالغ بھی شامل ہیں۔ پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والا چاقو اور ملزمان کے کپڑے بھی برآمد کر لیے ہیں۔

پولیس کے مطابق، 20 اکتوبر کی رات تقریباً 10 بج کر 48 منٹ پر جگ پرویش چندر اسپتال سے سیلم پور تھانے کو اطلاع ملی کہ چاقو لگنے سے زخمی ایک نوجوان کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ زخمی کی شناخت سبحان (20) کے طور پر ہوئی، جو نور الٰہی کے سبھاش محلے کی گلی نمبر 7 میں رہتا تھا۔ اطلاع ملنے پر پولیس کی ٹیم اسپتال پہنچی۔ اس وقت سبحان بے ہوش تھا اور اس کی حالت نازک تھی۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد اسے بہتر علاج کے لیے گرو تیغ بہادر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

سبحان کے دوست محسن (30) نے پولیس کو بتایا کہ 20 اکتوبر کی رات تقریباً نو بجے دونوں سینٹرل پارک میں بیٹھ کر سگریٹ پی رہے تھے۔ اسی دوران وہاں پانچ سے چھ لڑکے پہنچے اور سگریٹ پینے پر اعتراض کرنے لگے۔ اس بات پر دونوں فریقوں کے درمیان بحث شروع ہو گئی، جو جلد ہی جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔ الزام ہے کہ اسی دوران لڑکوں نے سبحان پر چاقو سے حملہ کیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔ اس کے بعد محسن زخمی سبحان کو لے کر جگ پرویش چندر اسپتال پہنچا۔

محسن کے بیان اور ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر سیلم پور تھانے میں ایف آئی آر نمبر 368/26 درج کی گئی۔ ابتدا میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 109(1) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی گئی۔ واردات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔

پولیس ٹیم نے جائے واردات اور آس پاس کے علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی جانچ کی۔ اس کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی معلومات اکٹھی کی گئیں۔ مسلسل کوششوں اور تفتیش کے بعد پولیس نے چھ ملزمان کو حراست میں لے لیا۔ ان میں چار بالغ اور دو ایسے نابالغ شامل ہیں جن کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

گرفتار بالغ ملزمان کی شناخت امان خان عرف عرشو (21)، افضل خان (18)، عبدالمومن (18) اور شعیب مرزا (18) کے طور پر ہوئی ہے۔ امان خان اور افضل خان نیو سیلم پور کے رہائشی ہیں، جب کہ عبدالمومن گوتم پوری اور شعیب مرزا نیو سیلم پور کا رہنے والا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں تقریباً 17 سال کی عمر کے دو نابالغوں کو بھی حراست میں لیا ہے۔

پولیس کے مطابق، ملزمان کی نشاندہی پر واردات میں استعمال ہونے والا چاقو اور واقعے کے وقت پہنے گئے کپڑے برآمد کیے گئے ہیں۔ ان اشیا کو تفتیش میں شامل کر لیا گیا ہے۔

بعد ازاں گرو تیغ بہادر اسپتال سے پولیس کو اطلاع ملی کہ سبحان کی علاج کے دوران موت ہو گئی ہے۔ اس کے بعد مقدمے میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 103(1) بھی شامل کر دی گئی، جو قتل سے متعلق ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور واردات سے جڑے تمام پہلوو¿ں کی جانچ کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande