سوئی دھاگے سے زندگی سنواری، اب سشیلا سلائی کڑھائی سے گھر سنوار رہی ہیں
سوئی دھاگے سے زندگی سنواری، اب سشیلا سلائی کڑھائی سے گھر سنوار رہی ہیں گوپیشور، 20 اکتوبر (ہ س)۔ کبھی خاندان کی ضروریات اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنا ایک چیلنج تھا، لیکن آج سلائی کڑھائی کا ہنر سشیلا دیوی کی آمدنی کا ذریعہ بن چکا ہے۔ مند
مندولی گاوں میں سلائی کڑھائی کا مرکز چلاتی ہوئیں سشیلا دیوی۔


سوئی دھاگے سے زندگی سنواری، اب سشیلا سلائی کڑھائی سے گھر سنوار رہی ہیں

گوپیشور، 20 اکتوبر (ہ س)۔ کبھی خاندان کی ضروریات اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنا ایک چیلنج تھا، لیکن آج سلائی کڑھائی کا ہنر سشیلا دیوی کی آمدنی کا ذریعہ بن چکا ہے۔ مندولی گاوں کی سشیلا اپنے سلائی کڑھائی کے مرکز سے ہر ماہ 10 سے 15 ہزار روپے تک کما رہی ہیں۔ زراعت اور مویشی پروری پر منحصر خاندان کی معاشی حالت کو مضبوط بنانے میں اب وہ بھی برابر کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

سشیلا دیوی کے شوہر حیات رام کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ دو بچوں پر مشتمل خاندان کی محدود آمدنی سے گھریلو اخراجات اور تعلیمی ضروریات کو پورا کرنا مشکل ہوتا تھا۔ سشیلا کو سلائی کڑھائی کا شوق تھا۔ انہوں نے دوسروں کی دکان پر کام سیکھ کر اپنے ہنر کو نکھارا اور خود روزگاری کی راہیں تلاش کرنا شروع کیں۔ سال 2020 میں سنتوشی سویم سہائتا سموہ (خواتین کے سیلف ہیلپ گروپ) سے وابستہ ہونے کے بعد انہیں روزگار کے نئے مواقع سے متعلق معلومات ملیں۔ سموہ کی میٹنگوں اور گرام سنگٹھن کے ذریعے سرکاری اسکیموں کے بارے میں پتا چلا۔ فی الحال وہ سیلف ہیلپ گروپ کی صدر ہیں۔

ایک لاکھ روپے کے منصوبے سے شروع کیا کام

سال 25-2024 میں سشیلا نے گراموتھان پریوجنا (ریپ) کے تحت سلائی کڑھائی کا مرکز کھولنے کی تجویز پیش کی۔ کلسٹر سطحی فیڈریشن سے منظوری ملنے کے بعد انہوں نے ایک لاکھ روپے کا کاروباری منصوبہ تیار کیا۔ اس میں 30 ہزار روپے پروجیکٹ امداد، 50 ہزار روپے بینک قرض اور 20 ہزار روپے ذاتی شراکت شامل تھی۔ اس رقم سے انہوں نے دو سلائی مشینیں، ایک پیکو مشین اور ضروری سامان خرید کر مرکز کا آغاز کیا۔

گاوں میں ہی ملنے لگی سلائی کڑھائی کی سہولت

آج سشیلا کے مرکز پر مندولی کے ساتھ ساتھ آس پاس کے گاوں والے بھی کپڑے سلوانے آتے ہیں۔ پہلے گاوں کے لوگوں کو سلائی کے لیے دور جانا پڑتا تھا، لیکن اب انہیں گاوں کے قریب ہی یہ سہولت مل رہی ہے۔ مرکز سے ہونے والی باقاعدہ آمدنی سے سشیلا گھریلو اخراجات اور بچوں کی تعلیم میں مالی تعاون فراہم کر رہی ہیں۔ ان کے لیے سلائی اب محض شوق نہیں، بلکہ خاندان کو معاشی استحکام بخشنے والا روزگار بن چکی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande