
سری نگر، 20 اکتوبر (ہ س)۔ شمالی کشمیر کے
عالمی شہرت یافتہ سیاحتی مقام گلمرگ میں رواں موسم کی پہلی برف باری کے بعد سیاحوں
کی آمد میں اضافہ ہوا ہے، جس سے اس شعبے سے وابستہ ہوٹل مالکان، گھوڑے والوں اور
سیاحتی راہ نماؤں کے چہروں پر خوشی لوٹ آئی ہے۔
گلمرگ ہمیشہ سے کشمیر آنے والے سیاحوں کے
پسندیدہ مقامات میں شامل رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہاں موجود ایشیا کا طویل ترین
گنڈولہ ہے، جس کے ذریعے سیاح کونگ ڈوری اور افروٹ کی پہاڑیوں تک پہنچتے ہیں اور
وہاں برف پوش پہاڑوں کے دلکش نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
گزشتہ ہفتہ ہوئی موسم کی پہلی برف باری کے
ساتھ ہی سطح سمندر سے 14 ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر واقع افروٹ چوٹی پر سیاحوں کا
جم غفیر نظر آنے لگا ہے۔ سیاح یہاں ایک دوسرے پر برف پھینکنے اور یادگار تصاویر
بنانے میں مصروف ہیں۔
ہل ٹاپ گروپ آف ہوٹلز کے منیجنگ ڈائریکٹر
اور ہوٹل مالکان کی تنظیم ہوٹیلیئرز کلب گلمرگ کے صدر عاقب اعجاز چایا نے ہندوستھان
سماچار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال پہلگام میں پیش آئے دلدوز واقعے کے
بعد اس سال اب تک گلمرگ میں سیاحوں کی آمد اطمینان بخش رہی ہے۔
انہوں نے کہا: ’’سیزن کی پہلی برف باری کے
بعد گلمرگ میں سیاحوں کی بھیڑ مزید بڑھ گیا ہے۔ ہر سیاح خوشی کے ساتھ یہاں سے واپس
جا رہا ہے اور اپنے ساتھ بہت سی یادیں لے کر جا رہا ہے۔‘‘ عاقب چایا نے امید ظاہر کی کہ اگر اس موسم
سرما میں مناسب برف باری ہوتی ہے تو گلمرگ میں سیاحوں کی آمد میں مزید اضافہ ہوگا،
جو سیاحت سے وابستہ تمام فریقوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا: ’’اچھی بات یہ ہے کہ
بین الاقوامی سیاح بھی گلمرگ کا رخ کر رہے ہیں اور ہماری اطلاعات کے مطابق ان کی
پیشگی بکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیں اس بار موسم سرما میں سیاحت کے اچھے سیزن کی
توقع ہے۔‘‘
ٹیور آپریٹرس ایسوسی ایشن آف انڈیا، نارتھ
انڈیا کے زونل کوآرڈی نیٹر طارق احمد خان نے کہا کہ موسم کی پہلی برف باری سیاحوں
کو کشمیر کی طرف راغب کرنے کا ایک اہم سبب بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹلوں میں قیام کے کرایوں
کو منضبط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ محدود بجٹ کے ساتھ کشمیر آنے والے سیاح بھی ایک یا
دو راتیں گلمرگ میں گزار سکیں۔
طارق احمد خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں
کشمیر آنے والے زیادہ تر سیاح نسبتاً زیادہ بجٹ رکھتے تھے، لیکن ریل خدمات شروع
ہونے کے بعد کم بجٹ والے سیاح بھی کشمیر آنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق،
محکمہ سیاحت مناسب ضابطہ بندی کے ذریعے ایسے سیاحوں کو بھی یہاں اچھا وقت گزارنے
کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ’’کشمیر بہترین مہمان
نوازی کے لیے جانا جاتا ہے۔ اگر ہوٹلوں کے کمروں اور گاڑیوں کے کرایوں میں مقررہ
نرخوں سے زیادہ وصولی پر روک لگائی جائے تو زیادہ سے زیادہ سیاح کشمیر کا رخ کریں
گے۔‘‘ افروٹ میں برف باری سے لطف اندوز ہونے والے
سیاحوں کے ایک گروپ نے بتایا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کشمیر
کا دورہ کیا اور گلمرگ میں برف باری کا نظارہ کیا۔ ان کے مطابق، یہاں آکر انہیں یہ
سمجھنے کا موقع ملا کہ کشمیر کو بھارت کا تاج کیوں کہا جاتا ہے۔
گروپ کے ارکان نے کہا: ’’کشمیر واقعی زمین
پر جنت ہے اور اس کی جھلک ہمیں یہاں گلمرگ میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہاں کی
خوبصورتی حیران کن ہے۔ ہم لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ خزاں اور سرما کے دلکش
نظارے دیکھنے کے لیے یہاں ضرور آئیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ گلمرگ میں برف کے ساتھ
کھیلنے اور گنڈولہ کی سواری سے ان کا تجربہ مزید خوشگوار ہوگیا ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’’یہاں گزارا ہوا ہر لمحہ
ہم اپنے موبائل فون اور کیمروں میں محفوظ کر رہے ہیں۔ یہاں آکر دنیا اور بھی
خوبصورت محسوس ہونے لگی ہے۔‘‘
ایک خاتون سیاح نے بتایا کہ یہ کشمیر کا ان
کا پہلا دورہ نہیں ہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ جب بھی یہاں آتی ہیں، انہیں
کشمیر پہلے سے زیادہ خوبصورت نظر آتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ’’ہم کشمیر آنے کا
ارادہ رکھنے والے لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ اگر وہ اس موسم میں یہاں آ رہے ہیں
تو گرم کپڑے ضرور ساتھ لائیں۔ خود کو سردی سے محفوظ رکھیں گے تو سفر کا لطف بھی
زیادہ اٹھا سکیں گے۔‘‘
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Zahoor Hassan Bhatt