الیکشن کمیشن اور ایم پی ایس سی کے خلاف احتجاج کو کانگریس کی حمایت : ہرش وردھن سپکال
ممبئی ، 2 اکتور (ہ س) ۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے کام کاج اور مبینہ بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی کانگریس حمایت کرے گی۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے
الیکشن کمیشن اور ایم پی ایس سی کے خلاف احتجاج کو کانگریس کی حمایت : ہرش وردھن سپکال


ممبئی ، 2 اکتور (ہ س) ۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے کام کاج اور مبینہ بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی کانگریس حمایت کرے گی۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی نے انتخابی نظام کو اپنے کنٹرول میں لے کر منصفانہ اور شفاف انتخابات کے عمل میں رکاوٹ پیدا کی ہے اور گیانیش کمار بی جے پی کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ سپکال نے کہا کہ صرف گیانیش کمار کا استعفیٰ کافی نہیں بلکہ ان کے بقول اس مبینہ سازش کے اصل ذمہ داروں کے استعفے تک تحریک جاری رہے گی۔ گاندھی جینتی کے موقع پر مہاراشٹر کانگریس کے انچارج ڈاکٹر سری ویلا پرساد اور ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے ممبئی کے تاریخی منی بھون میں مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر اے آئی سی سی سکریٹری بی ایم سندیپ، ریحانہ چشتی، سابق وزیر انیس احمد، ریاستی کانگریس کے سینئر ترجمان اور سابق رکن اسمبلی دھیرج دیشمکھ، ریاستی جنرل سکریٹری ایڈووکیٹ سندیش کونڈولکر، جوجو تھامس، برج دت اور مونیکا جگتاپ موجود تھے۔ سپکال نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے منی بھون میں طویل عرصہ قیام کیا اور یہاں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ ان کے مطابق گاندھی کو صرف یوم پیدائش اور برسی پر یاد کرنے کے بجائے ان کے نظریات اور آئین کی بنیادی اقدار کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔سپکال نے کہا کہ گاندھی کا نظریہ چھترپتی شیواجی مہاراج، راج رشی شاہو مہاراج، مہاتما جیوتی با پھولے، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر، گڈگے مہاراج، تکڑوجی مہاراج اور کبیر کی مساوات پر مبنی روایت سے جڑا ہے۔ انہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے نظریے پر تنقید کرتے ہوئے اسے چھوت چھات اور امتیاز کو تسلیم کرنے والا نظریہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ کو تحلیل کرکے اپنے دفتر میں ہندوستان کا آئین نصب کرنا چاہیے۔ یہ تمام باتیں سپکال کے سیاسی موقف اور الزامات کے طور پر سامنے آئی ہیں۔صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے سپکال نے دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن کو فارم 6 میں کی گئی تبدیلیاں واپس لینی پڑیں اور اس سلسلے میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات درست تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابی افسران کے بعض اختیارات کسی نجی کمپنی کو دینے کا فیصلہ کس نے کیا تھا، یہ عوام کے سامنے واضح کیا جائے۔سپکال نے مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن یعنی ایم پی ایس سی کے کام کاج پر بھی تنقید کی اور کہا کہ طلبہ کے بار بار احتجاج کے باوجود کمیشن کے کام میں بہتری نہیں آئی۔ انہوں نے احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے ایم پی ایس سی چیئرمین کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ طلبہ ایم پی ایس سی کے کام کاج اور امتحانی نظام سے متعلق مختلف مطالبات پر احتجاج کر رہے ہیں جبکہ ریاستی حکومت نے موجودہ اور سابق چیئرمین اور ارکان کے کام کاج کی عدالتی تحقیقات سمیت کئی اقدامات کا یقین دلایا ہے۔ مہنگائی کے معاملے پر سپکال نے مرکز کی بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ عام لوگ بڑھتی قیمتوں کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں اور حکومت کے پاس مہنگائی پر قابو پانے کی مؤثر پالیسی نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت کے دوران بھی پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتیں بڑھی تھیں لیکن اس کا پورا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا گیا اور اس وقت پٹرول تقریباً 70 روپے فی لیٹر اور گیس سلنڈر تقریباً 450 روپے میں دستیاب تھا۔ سپکال نے الزام لگایا کہ موجودہ مرکزی حکومت منتخب صنعت کاروں کے مفادات کو ترجیح دے رہی ہے اور عام شہریوں کے مسائل کو نظرانداز کر رہی ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande