چورباغان درگا پوجا پنڈال حادثہ: 16 خاندانوں کے چراغ گل، کسی نے بیٹا کھویا تو کسی کا سہاگ اجڑ گیا
کولکاتا، 19 اکتوبر (ہ س)۔ مغربی بنگال میں مہاسپتمی کی شام چورباغان پوجا پنڈال میں مچی بھگدڑ نے 16 خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے اجاڑ دیا۔ اس دل دہلا دینے والے حادثے میں 19 افراد کی جان چلی گئی، جن میں باپ بیٹا، دو سہیلیاں اور میاں بیوی بھی شامل ہیں۔ کسی
چورباغان درگا پوجا پنڈال حادثہ: 16 خاندانوں کے چراغ گل، کسی نے بیٹا کھویا تو کسی کا سہاگ اجڑ گیا


کولکاتا، 19 اکتوبر (ہ س)۔ مغربی بنگال میں مہاسپتمی کی شام چورباغان پوجا پنڈال میں مچی بھگدڑ نے 16 خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے اجاڑ دیا۔ اس دل دہلا دینے والے حادثے میں 19 افراد کی جان چلی گئی، جن میں باپ بیٹا، دو سہیلیاں اور میاں بیوی بھی شامل ہیں۔ کسی نے کئی ماہ پہلے درگا پوجا گھومنے کا منصوبہ بنایا تھا، کوئی کام ختم ہونے کے بعد دوستوں کے ساتھ نکلا تھا، تو کوئی دوسرے صوبے سے کولکاتا کی شاندار درگا پوجا دیکھنے آیا تھا۔ لیکن بارش اور بھیڑ کے درمیان مچی اس خوفناک بھگدڑ نے 19 افراد کو موت کی نیند سلا دیا اور ان کے اہل خانہ کو عمر بھر کا درد دے دیا۔ مرنے والوں میں 17 افراد مغربی بنگال کے رہنے والے تھے، جبکہ دو افراد، یعنی باپ اور بیٹا، بہار کے باشندے تھے۔ اس دردناک حادثے میں اپنے عزیزوں کو کھونے والے خاندانوں کے بیانات اور ان کی کہانیاں اس سانحے کی ہولناکی بیان کر رہی ہیں۔

’کاش! پہلے ہی احتیاط کی گئی ہوتی‘ — بہار سے آئے خاندان کا درد

بہار سے ابھیشیک شریواستو اپنے خاندان کے ساتھ کولکاتا کی درگا پوجا دیکھنے آئے تھے۔ ان کے ساتھ اہلیہ نبھا، سات سالہ بیٹا ایانش اور خاندان کے تین دیگر افراد بھی تھے۔ ہفتے کی رات مچی بھگدڑ میں ابھیشیک اور معصوم ایانش کی موت ہوگئی۔ اہلیہ نبھا کو بیٹے کی موت کی خبر تو دے دی گئی ہے، لیکن شوہر کے انتقال کی بات ابھی ان سے چھپائی گئی ہے اور انہیں واپس بہار بھیج دیا گیا ہے۔

حادثے کی خبر ملنے پر بہار سے کولکاتا پہنچنے والے خاندان کے دیگر افراد نے غم زدہ دل کے ساتھ انتظامیہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’اب جس طرح مستعدی دکھائی جا رہی ہے، اگر پہلے ہی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہوتے تو آج یہ دردناک حادثہ پیش نہ آتا۔‘‘

’میں اسے بچا نہیں سکا‘ — آنکھوں کے سامنے بیوی کی جان چلی گئی

ندیا ضلع کے چکداہ سے رام سرکار اپنی اہلیہ آرتی سرکار وشواس کے ساتھ درگا پوجا دیکھنے آئے تھے، لیکن آرتی کبھی گھر واپس نہیں لوٹ سکیں۔ اپنی آنکھوں کے سامنے بیوی کو کھونے والے رام سرکار گہرے صدمے میں ہیں۔

اپنا درد بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’پنڈال میں اس وقت بہت زیادہ بھیڑ تھی۔ اچانک سیٹی بجا کر عقیدت مندوں کو باہر نکلنے کی ہدایت دی گئی۔ اسی کے بعد دھکا مکی اور بھگدڑ شروع ہوگئی۔ کئی لوگ ایک ساتھ باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے۔ بھیڑ کے دباؤ میں آرتی زمین پر گر پڑیں۔ وہ جسمانی طور پر زیادہ مضبوط نہیں تھیں، اس لیے گرنے کے بعد دوبارہ اٹھ نہیں سکیں۔‘‘

ایک بے بس شوہر نے روتے ہوئے کہا، ’’میں اسے بچا نہیں سکا۔‘‘

ایک جیسی ساڑیاں پہن کر نکلی تھیں دو سہیلیاں، ایک ساتھ اٹھیں دونوں کی ارتھیاں

نیو ٹاؤن کے گورانگ نگر کی رہنے والی تانیا وشواس (17) اور برنالی ہالدار گہری سہیلیاں تھیں۔ دونوں نے پہلے ہی طے کرلیا تھا کہ سپتمی کے دن ساڑیاں پہن کر ایک ساتھ درگا ماں کے درشن کرنے جائیں گی۔ ہفتے کی شام دونوں تیار ہوکر چورباغان پہنچی تھیں، لیکن اس بھگدڑ میں دونوں نوعمر لڑکیوں کی کچل کر موت ہوگئی۔

’دوسروں کی مدد کرنے والی اب خاموش ہوگئی‘

ہگلی ضلع کے بیدیہ باٹی کی رہنے والی شری پرنا پودار (27) ٹاٹا کینسر اسپتال میں نرس تھیں۔ ہفتے کی صبح وہ کام پر گئی تھیں اور وہاں سے سیدھے دوستوں کے ساتھ درگا پوجا دیکھنے چورباغان چلی گئی تھیں۔

والدین کی اکلوتی اولاد شری پرنا کی موت سے ان کے پڑوسی ہری داس چٹرجی صدمے میں ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’وہ بہت زندہ دل لڑکی تھی۔ محلے میں اگر کوئی بیمار پڑتا تو سب سے پہلے وہی مدد کے لیے آگے آتی تھی۔ اس خبر نے سب کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔‘‘

’معصوم کا چہرہ جوتوں تلے کچلا ہوا تھا‘

آگرپاڑہ کے رہنے والے پرانجل سرکار (13) اپنے والدین کا ہاتھ پکڑ کر درگا پوجا دیکھنے آیا تھا، لیکن بھیڑ کے شدید دباؤ میں وہ والدین سے بچھڑ گیا۔ جب تک اسے باہر نکالا گیا، اس کی موت ہوچکی تھی۔

پرانجل کے ماموں نے بھری ہوئی آواز میں کہا، ’’وہاں لاشیں قطار میں رکھی ہوئی تھیں۔ میں نے دیکھا کہ میرے بھانجے کا چہرہ جوتوں کے نیچے بری طرح کچلا گیا تھا۔‘‘

مقامی رکن اسمبلی جب خاندان سے ملاقات کرنے پہنچے تو معصوم کی ماں کی حالت بدحواس تھی۔ انہیں اب بھی یقین نہیں ہو رہا کہ ان کا بیٹا اب اس دنیا میں نہیں رہا۔

’ہنستا کھیلتا ہمارا خاندان اجڑ گیا‘

نیو بیرک پور کی رہنے والی کالج کی طالبہ پریا سامادار (19) بھی دوستوں کے ساتھ درگا پوجا دیکھنے گئی تھیں۔ ان کے والد شیامل سامادار پیشے سے درزی ہیں۔ بیٹی کی موت پر روتے ہوئے وہ بار بار بس یہی کہہ رہے ہیں، ’’ہمارا کتنا ہنستا کھیلتا خاندان تھا، اچانک میرے ساتھ یہ کیا ہوگیا!‘‘

خاندان کا واحد سہارا تھیں شبھم

کولکاتا کے باغ ماری کی رہنے والی شبھم سونکر (33) اپنے والدین اور بہن کے ساتھ درگا پوجا دیکھنے نکلی تھیں۔ ان کے والد رام جی سونکر ریٹائر ہوچکے ہیں، بھائی مسابقتی امتحانات کی تیاری کر رہا ہے اور بہن ٹیوشن پڑھاتی ہے۔ شبھم ایک نجی کمپنی میں کام کرتی تھیں اور پورا خاندان مالی طور پر انہی پر منحصر تھا۔

بیٹی کو کھونے کے بعد بزرگ والدین کچھ بھی بولنے کی حالت میں نہیں ہیں۔

ایک ساتھ درشن کرنے نکلے میاں بیوی کی موت

بارانگر میونسپلٹی کے این کے چٹرجی روڈ کے رہنے والے دلیپ گھوش (62) اور ان کی اہلیہ دیپالی گھوش (56) ایک ساتھ درگا پوجا دیکھنے گئے تھے۔ ان کے بھتیجے ملن گھوش نے بتایا، ’’ہفتے کی رات تقریباً ساڑھے نو بجے میرے پاس فون آیا کہ چچا اور چچی اسپتال میں ہیں۔‘‘

ملن فوراً میڈیکل کالج پہنچے، جہاں پہلے انہیں چچا دلیپ کی موت کی خبر ملی اور پھر معلوم ہوا کہ ان کی چچی دیپالی بھی اس دنیا میں نہیں رہیں۔

اندھیرے اور بھیڑ نے لی کلپنا کی جان

پانی ہاٹی کے جوئے اپارٹمنٹ کی رہنے والی کلپنا جانا اپنے بھتیجے اور دوستوں کے ساتھ ہفتے کو درگا پوجا دیکھنے گئی تھیں۔ حادثے کے بعد مقامی رکن اسمبلی نے اہل خانہ سے ملاقات کرکے حالات کی جانکاری حاصل کی۔

اہل خانہ نے بتایا، ’’حادثہ انتہائی دردناک تھا۔ پوجا پنڈال سے باہر نکلنے والے راستے میں کافی اندھیرا تھا۔ اس کے علاوہ بارش اور بے پناہ بھیڑ نے صورت حال کو مزید جان لیوا بنا دیا۔‘‘

ایک ہی خاندان کے تین افراد کی موت

ہگلی ضلع کے بالیہ میں اپنے میکے آئی ہوئی ٹگر بیز (37) اپنے بیٹے سندیپ بیز (14) اور بھابھی پیالی پرمانک (25) کے ساتھ کولکاتا میں درگا پوجا دیکھنے گئی تھیں۔ اتوار کو ان کے گھر واپس لوٹنے کا پروگرام تھا، لیکن ہفتے کی رات مچی بھگدڑ میں تینوں کی موت ہوگئی۔ ٹگر کی بیٹی آگمنی بیز بھی اس حادثے میں زخمی ہوئی ہے، جس کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔

ان کے علاوہ اس سانحے میں شیام پوکر کی میٹھو منڈل، بالی کی آکرتی کماری، ہاوڑہ کے وکاس بھٹاچاریہ اور بنکرا ہاٹ کی سنیہا بھنڈاری کی بھی جان چلی گئی۔ یہ تمام افراد تہوار کے درمیان موت کی آغوش میں سما گئے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande