
بھوپال، 19 اکتوبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں موٹے اناج کی کاشت سے نہ صرف قدیم روایت بحال ہو رہی ہے بلکہ اس کی پیداوار میں بھی اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، ریاست میں 25-2024 کے دوران موٹے اناج کی پیداوار بڑھ کر 77.75 لاکھ ٹن ہو گئی ہے، جو دو سال پہلے کے مقابلے میں 18.62 لاکھ ٹن زیادہ ہے۔
مدھیہ پردیش میں زراعت بتدریج اپنی روایتی بنیادوں کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اس دوران کم پانی اور کم لاگت میں تیار ہونے والے، نیز موسمی حالات کے مطابق موزوں سمجھے جانے والے موٹے اناج، یعنی ’شری انّ‘ کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کبھی روایتی کھان پان اور قبائلی ثقافت کا لازمی حصہ رہنے والے یہ اناج اب زرعی معیشت اور غذائی تحفظ کی مضبوط بنیاد کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ موٹے اناج کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ مدھیہ پردیش ملک میں تیسرے مقام پر پہنچ گیا ہے۔
اس اضافے کے ساتھ ملک کی مجموعی موٹے اناج کی پیداوار میں مدھیہ پردیش کی 12.17 فیصد حصہ داری ہو گئی ہے۔ فی الحال ریاست کے 52 اضلاع میں جوار، 48 اضلاع میں مکئی، 44 اضلاع میں باجرا اور 27 اضلاع میں کودو- کٹکی جیسی روایتی فصلوں کی بڑے پیمانے پر کاشت کی جا رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، ریاست میں 25-2024 کے دوران موٹے اناج کی پیداوار 77.75 لاکھ ٹن رہی، جو دو سال پہلے کے مقابلے میں 18.62 لاکھ ٹن زیادہ ہے۔
موٹے اناج کی کاشت میں اس بحالی کی اہم وجوہات میں حکومت کی کسانوں کے مفاد میں بنائی گئی پالیسیاں اور کاشت کاروں کے بدلتے ہوئے رجحانات شامل ہیں۔ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)، بونس اور بیجوں کی فراہمی جیسی اسکیموں نے کسانوں کو ان فصلوں کی کاشت کے لیے حوصلہ دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور بارش کے غیر یقینی حالات میں کم پانی کی ضرورت والی یہ فصلیں کسانوں کے لیے زیادہ محفوظ متبادل ثابت ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، گھریلو استعمال کے ساتھ ساتھ کھانے کے لیے تیار مصنوعات، صحت بخش غذائی اشیا، آٹے سے اشیائے خوردنی تیار کرنے والی صنعتوں اور عوامی نظام تقسیم میں بھی ان اناج کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔
جوار، مکئی اور کودو کٹکی کی کاشت کے اہم مراکز
ریاست میں جوار کی پیداوار کے معاملے میں بھنڈ 25,411 ٹن پیداوار کے ساتھ آگے رہا، جبکہ برہان پور بھی اس کے اہم پیداواری اضلاع میں شامل ہے۔ مکئی کی پیداوار میں بیتول 5.84 لاکھ ٹن اور گنا 2.40 لاکھ ٹن کے ساتھ نمایاں رہے۔ کودو- کٹکی کی کاشت بنیادی طور پر منڈلا، ڈنڈوری، بالا گھاٹ، چھندواڑہ، انوپ پور، سیدھی، سنگرولی، امریہ، شہڈول، سیونی اور بیتول اضلاع میں کی جا رہی ہے۔
قبائلی خاندانوں اور کسانوں کی جانب سے روایتی بیجوں کے قیمتی ورثے کا تحفظ
شہڈول ضلع کے مجھگواں علاقے میں بیگا اور بھومیا قبائلی برادریوں کے خاندان جدید ہائبرڈ بیجوں کے دور میں بھی اپنی قدیم دیسی اقسام کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں کے کسان بھولی سنگھ، برمتیا بیگا اور دھنوتیا بیگا جیسے ترقی پسند کاشت کار دھان کی روایتی اقسام جھولار، بانس پور، سرئیا، گرمٹیا اور کرن پھول کے علاوہ لیدری کودو، باسن کودو، سما، کٹکی، کاگن اور مکئی جیسی فصلوں کے نایاب بیج بھی اپنی کوٹھریوں میں محفوظ کر رہے ہیں۔ روایتی علم کا یہ مشترکہ ورثہ نہ صرف حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے میں مددگار ہے بلکہ نئی نسل کے لیے بھی ایک قیمتی اثاثہ بن چکا ہے۔
اسی سلسلے میں ڈنڈوری ضلع کی ’ملیٹ کوئین‘ لہری بائی نے ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔ بجاگ ترقیاتی بلاک کے سلپیڑھی گاو¿ں کی رہنے والی لہری بائی گزشتہ ایک دہائی سے اجتماعی بیج بینک چلا رہی ہیں، جہاں کودو، کٹکی، کانگ، سابھا اور مڑھیا کی 150 سے زیادہ نایاب اقسام کے بیج محفوظ کیے گئے ہیں۔ وہ آس پاس کے سیکڑوں کسانوں کو بیج فراہم کرتی ہیں اور فصل تیار ہونے کے بعد ان سے بیج واپس لے لیتی ہیں۔ اس طرح معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار بیجوں کو دوبارہ فروغ مل رہا ہے۔
بیجوں کے تحفظ کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں صدرجمہوریہ دروپدی مرمو انہیں ’پلانٹ جینوم کنزرویشن فارمر ریکگنیشن‘ سے نواز چکی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ان کی ستائش کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں لہری بائی پر فخر ہے، جنہوں نے ’شری انّ‘ کے تئیں غیر معمولی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کی کوششیں دوسرے لوگوں کے لیے بھی باعث ترغیب بنیں گی۔
شری انّ کی پیداوار بڑھانے کے لیے ریاستی حکومت کی اسکیم
ریاستی حکومت نے شری انّ کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے ’رانی درگاوتی شری انّ پروتساہن یوجنا‘ نافذ کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت کودو- کٹکی پیدا کرنے والے کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت کے علاوہ ایک ہزار روپے فی کوئنٹل کی شرح سے بونس دیا جا رہا ہے۔ یہ رقم براہ راست مستفید کسانوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جاتی ہے۔
’نرمدا ملیٹس‘ برانڈ کے ذریعے ان اناج کی برانڈنگ اور پیکیجنگ پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ مالی سال 27-2026 کے لیے حکومت نے 40 ہزار میٹرک ٹن کودو- کٹکی کی خریداری کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈنڈوری میں ’مدھیہ پردیش اسٹیٹ شری انّ ریسرچ سینٹر‘ بھی قائم کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ ریاستی حکومت شری انّ پیدا کرنے والے کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت کے علاوہ بونس بھی دے رہی ہے۔ مدھیہ پردیش میں پہلی بار سرکاری سطح پر کودو کٹکی کی خریداری شروع کی گئی ہے۔ کسانوں کو بہتر بازار فراہم کرنے کے لیے ویلیو چین تیار کی جا رہی ہے، جس کے تحت کودو- کٹکی کی پروسیسنگ، پیکیجنگ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد شری انّ کو قومی اور بین الاقوامی بازاروں میں شناخت دلانا ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے جولائی میں رانی درگاوتی شری انّ پروتساہن یوجنا کے تحت 3,941 کسانوں کے بینک کھاتوں میں کودو- کٹکی کی پیداوار پر بونس کے طور پر 2 کروڑ 84 لاکھ روپے منتقل کیے۔ کسانوں کو یہ رقم ایک ہزار روپے فی کوئنٹل کی شرح سے دی گئی۔ اس اسکیم کے تحت یکم دسمبر 2025 سے 31 جنوری 2026 کے درمیان ریاست کے 15 اہم پیداواری اضلاع میں تقریباً 4,000 کسانوں سے تقریباً 3,000 میٹرک ٹن کودو کٹکی خریدی گئی۔ ریاستی حکومت نے مالی سال 27-2026 میں اس خریداری کو بڑھا کر 40 ہزار میٹرک ٹن کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
عالمی سطح پر بھی ملی شناخت
حال ہی میں مدھیہ پردیش کے زرعی ورثے کو عالمی سطح پر ایک اور شناخت ملی، جب ڈنڈوری کی موٹے اناج کی دو اہم اقسام، ستاہی کٹکی اور ناگ دمن کٹکی کو جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ دیا گیا۔
ریاست کے وزیر زراعت ایندل سنگھ کنسانا نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش کی دیگر منفرد زرعی پیداوار کو بھی جی آئی ٹیگ دلانے کی کوششیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں شری انّ، یعنی ملیٹس کی کاشت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبائلی کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے ساتھ لوگوں کی غذائی صحت بہتر بنانے میں بھی مدد مل رہی ہے۔
مدھیہ پردیش کے منڈلا، ڈنڈوری، بالاگھاٹ، چھندواڑہ، انوپ پور، سیدھی، سنگرولی، امریہ، شہڈول، سیونی اور بیتول اضلاع کودو- کٹکی کی کاشت کے اہم مراکز ہیں۔ غذائی اجزا سے بھرپور ہونے کی وجہ سے ملیٹس، یعنی موٹے اناج کو ’سپر فوڈ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ صرف 60 دن میں تیار ہونے والی ستاہی کٹکی اور طبی خصوصیات سے بھرپور ناگ دمن کٹکی جیسی فصلیں نہ صرف مہاکوشل خطے کے ہزاروں قبائلی کسانوں کی آمدنی کا اہم ذریعہ بن رہی ہیں بلکہ ملک اور دنیا میں مدھیہ پردیش کے شری انّ کو بھی نئی شناخت دلا رہی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ موٹے اناج، یعنی ملیٹس، غذائیت اور صحت کے اعتبار سے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں موجود غذائی اجزا جسم کو صحت مند رکھنے اور ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ ریشے (فائبر) سے بھرپور ہونے کی وجہ سے یہ خون میں شکر کی سطح کو قابو میں رکھنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں پروٹین، کیلشیم اور دیگر ضروری غذائی اجزا بھی پائے جاتے ہیں۔
کاشت کاری کے لحاظ سے بھی یہ اناج کسانوں کے لیے مفید ہیں۔ گیہوں اور دھان کے مقابلے میں ان کی فصلوں کو کم پانی اور نسبتاً کم کھاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم بارش اور خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں بھی ان کی کاشت آسانی سے کی جا سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد