
فیس سے چھوٹ ملنے پر دیہی باشندوں کو راحت، لیکن اصل امتحان مقررہ ہدف کی تکمیل ہے
بھوپال، 18 اکتوبر (ہ س)۔ دیہی خاندانوں کو ایک ایسی پریشانی کا سامنا طویل عرصے سے رہا ہے، جس کے باعث مکان ہونے کے باوجود وہ اپنی جائیداد سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے مدھیہ پردیش حکومت نے دیہی مکانات کو قانونی حیثیت فراہم کرنے کی مہم کے تحت 50 لاکھ خاندانوں کو مفت رجسٹری فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
مدھیہ پردیش حکومت نے باقاعدہ رجسٹرڈ دستاویزات کی کمی کا مسئلہ دور کرنے کے لیے دیہی آبادیوں میں واقع اہل جائیدادوں کی مفت رجسٹری کی خصوصی مہم شروع کی ہے۔ گاؤں میں ایک مکان، اس کے سامنے چھوٹا سا صحن اور اسی گھر پر زندگی بھر کی کمائی صرف کرنے والے خاندان کے لیے جائیداد محض چار دیواری کا نام نہیں، بلکہ تحفظ، بچوں کے مستقبل اور مشکل وقت میں مالی سہارا بھی ہوتی ہے۔ تاہم، کئی دیہی خاندانوں کے لیے یہ ایک بڑی پریشانی رہی ہے کہ مکان ہونے کے باوجود وہ اپنی جائیداد سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔
اسی سال وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر 17 ستمبر 2026 سے شروع ہونے والی ’سوَامِتو ادھیکار ابھی لیکھ نِشپادن ایوم پَنجیکرن مہم‘ کے تحت حکومت نے 50 لاکھ سے زیادہ دیہی مستفیدین کی جائیدادوں کا مفت اندراج کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ ریاست کے 41,568 گاؤں میں 68 لاکھ 47 ہزار پلاٹوں کا سروے مکمل ہو چکا ہے۔ اب اصل چیلنج تیار شدہ ملکیتی ریکارڈ کو اہل مستفیدین کے نام پر رجسٹرڈ دستاویزات میں تبدیل کرنا ہے۔
حکومت پر تقریباً 3,800 کروڑ روپے کا مالی بوجھ پڑنے کا تخمینہ
یہ پہل اس لیے اہم ہے کہ دیہی آبادی کی زمین پر تعمیر شدہ مکانات کے ملکیتی ریکارڈ تیار ہونے کے باوجود رجسٹری اور دستاویزی کارروائیوں کے باعث بہت سے خاندانوں کے لیے اپنی جائیداد کو مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کرنا آسان نہیں تھا۔ اب حکومت اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس کا بوجھ خود اٹھا کر ان خاندانوں کو باقاعدہ رجسٹرڈ دستاویزات فراہم کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔
اس منصوبے کے تحت اہل جائیدادوں کی رجسٹری پر آنے والے تقریباً 3,800 کروڑ روپے کے اخراجات ریاستی حکومت برداشت کرے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقررہ طریقۂ کار کے مطابق رجسٹری کرانے کے لیے اہل مستفیدین کو اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس ادا نہیں کرنی ہوگی۔ یہ رقم مستفیدین کے بینک کھاتوں میں نقد امداد کے طور پر منتقل نہیں کی جائے گی، بلکہ رجسٹری پر آنے والے اخراجات حکومت خود برداشت کرے گی۔ اس مقصد کے لیے پنچایت سیس اور اضافی اسٹامپ ڈیوٹی سے متعلق ضوابط میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
ریاست میں دیہی خاندانوں کو ان کی جائیداد کے قانونی دستاویزات فراہم کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے 17 ستمبر کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر نتن نوین کی موجودگی میں اندور سے ’سوَامِتو ادھیکار ابھی لیکھ نِشپادن ایوم پَنجیکرن یوجنا-2026‘ کا ریاست گیر افتتاح کیا تھا۔ اس مہم کے تحت 50 لاکھ سے زیادہ اہل دیہی جائیدادوں کی مفت رجسٹری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی بنیاد مرکزی حکومت کی ’سوَامِتو یوجنا‘ ہے، جس کے تحت دیہی آبادی والے علاقوں میں جائیدادوں کا سروے کرکے ملکیتی ریکارڈ تیار کیے گئے ہیں۔
پٹواریوں کی مخالفت سے مہم میں رکاوٹ
محکمۂ رجسٹریشن سے موصولہ اعداد و شمار کے مطابق، ریاست کے 41,568 گاؤں میں 68.47 لاکھ ملکیتی ریکارڈ تیار کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 50 لاکھ نجی جائیدادوں کے ریکارڈ کی مفت رجسٹری کی جانی ہے۔ اس مہم کے تحت پنچایت کی سطح پر خصوصی کیمپ لگا کر اہل مستفیدین کی رجسٹری کا عمل مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
گاؤں کی پنچایت کی سطح پر سرپنچ، سکریٹری، پٹواری اور روزگار معاون کو باہمی تال میل کے ساتھ کام کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، لیکن دستاویزات پر دستخط کرنے کی ذمہ داری اور مستقبل میں قانونی جواب دہی کے خدشات کے باعث پٹواریوں نے مخالفت شروع کر دی۔
یہ معاملہ اجلاسوں سے آگے بڑھ کر ہڑتال، نوٹس، معطلی اور برطرفی تک جا پہنچا۔ بالآخر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی مداخلت اور قانونی تحفظ فراہم کرنے سمیت کارروائیاں واپس لینے کی یقین دہانی کے بعد پٹواری یونین نے گزشتہ 12 اکتوبر کو احتجاج ملتوی کرکے کام پر واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد مہم پر دوبارہ کام شروع ہو گیا ہے۔
پٹواریوں کی واپسی کے بعد اب تک اس منصوبے کے تحت تقریباً 4,000 جائیدادوں کی رجسٹری مکمل ہو چکی ہے، لیکن حکومت کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں یہ تعداد اب بھی بہت کم ہے۔ ایسے میں منصوبے کو اب دو بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ پہلا یہ کہ پٹواریوں کو دیے گئے قانونی تحفظ اور کارروائی واپس لینے کی یقین دہانی کو واضح انتظامی احکامات کے ذریعے نافذ کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ 50 لاکھ اہل جائیدادوں کی رجسٹری کا ہدف حاصل کرنے کے لیے کام کی رفتار تیز کی جائے۔
اس سلسلے میں چیف سکریٹری اشوک برنوال کا کہنا ہے کہ ضلع کلکٹروں کو مہم پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پنچایت کی سطح پر سرپنچ، سکریٹری، پٹواری اور روزگار معاون کو مل کر کیمپ منعقد کرنے اور اہل مستفیدین کی رجسٹری مقررہ وقت پر مکمل کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
رجسٹرڈ دستاویزات مالی تحفظ کی بنیاد بن سکتی ہیں
جائیداد کے باقاعدہ دستاویزات دیہی خاندانوں کے لیے کئی اعتبار سے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ مکان یا پلاٹ کی ملکیت سے متعلق ریکارڈ واضح ہونے پر جائیداد کے تنازعات میں اپنا مؤقف پیش کرنے اور قانونی حقوق ثابت کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ان دستاویزات کی بنیاد پر بینک سے قرض کے لیے درخواست دینا بھی آسان ہو سکتا ہے، تاہم قرض کی منظوری کا انحصار بینک کی شرائط، جائیداد کی قبولیت اور درخواست گزار کی اہلیت پر ہوگا۔
اس کے علاوہ، واضح اور باقاعدہ دستاویزات اگلی نسل کو جائیداد کے حقوق منتقل کرنے اور خاندان کے اندر ملکیت سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ تاہم، محض رجسٹری ہو جانے سے ہر قسم کا تنازع خود بخود ختم نہیں ہو جاتا۔ اگر کسی جائیداد پر پہلے سے تنازع ہو یا قانونی پابندی عائد ہو، تو اس کا حل متعلقہ قوانین اور ضوابط کے مطابق ہی نکالا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کا کہنا ہے کہ آبائی اور ذاتی جائیداد ہر خاندان کا خواب ہوتی ہے۔ سوَامِتو یوجنا شروع ہونے سے دیہی آبادی کو اس کا حق ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت ریاست کے 23 ہزار سے زیادہ گاؤں میں ایک ماہ تک ملکیتی ریکارڈ کی مفت رجسٹری کرنے کی مہم چلا رہی ہے۔ حکومت کا مقصد ہر اہل دیہی باشندے کو اس کی زمین کا حق دلانا ہے۔ جائیداد کے رجسٹرڈ دستاویزات ملنے سے دیہی باشندوں کو قانونی تحفظ کے ساتھ معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی سہولت بھی حاصل ہو سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی