ٹیکسی چلاتے چلاتے منشیات سپلائی کرنے لگے، نائجیریائی شہری سمیت تین گرفتار
نئی دہلی، 16 اکتوبر (ہ س)۔ دہلی پولیس کی نارتھ ڈسٹرکٹ اینٹی نارکوٹکس سیل نے منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں دو ٹیکسی ڈرائیوروں سمیت تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ملزمان میں ایک نائجیریائی شہری بھی شامل ہے۔ پولیس نے ان کے قبضے سے 22.1 گرام کوکین
TAXI-DRIVER-DRUG-SUPPLIER-THREE-ARRESTED


نئی دہلی، 16 اکتوبر (ہ س)۔ دہلی پولیس کی نارتھ ڈسٹرکٹ اینٹی نارکوٹکس سیل نے منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں دو ٹیکسی ڈرائیوروں سمیت تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ملزمان میں ایک نائجیریائی شہری بھی شامل ہے۔ پولیس نے ان کے قبضے سے 22.1 گرام کوکین، 90 گرام ہیروئن اور 15.3 گرام ایم ڈی ایم اے برآمد کی ہے۔ منشیات کی سپلائی کے لیے استعمال کی جانے والی ماروتی ویگن آر ٹیکسی بھی ضبط کر لی گئی ہے۔ پولیس اب گروہ سے وابستہ دیگر افراد اور منشیات کی سپلائی کے ذرائع کا پتہ لگانے میں مصروف ہے۔

پولیس کے مطابق، گرفتار ملزمان کی شناخت اتر پردیش کے ضلع فرخ آباد کے قائم گنج کے رہنے والے اچھے بابو (25)، شاہجہاں پور کے رہائشی زاہد (22) اور نائجیریا کی ریاست انامبرا کے گاو¿ں اومونجے کے رہنے والے کیجیتھن چکوجیکوو (43) کے طور پر ہوئی ہے۔ کیجیتھن مہرولی علاقے میں کرائے کے کمرے میں رہ رہا تھا۔ دونوں ہندوستانی ملزمان ٹیکسی ڈرائیور ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی دستیابی کے مطابق باری باری منشیات کی سپلائی کرتے تھے۔

پولیس کے مطابق، 12 اکتوبر کی رات تقریباً 8 بج کر 10 منٹ پر اینٹی نارکوٹکس سیل کو اطلاع ملی کہ اچھے بابو اپنے ساتھی زاہد کے ساتھ رنگ روڈ پر کشمیری گیٹ فٹ اوور برج کے قریب آنے والا ہے۔ اطلاع کی بنیاد پر انسپکٹر آشیش دوبے کی نگرانی میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی۔ اے سی پی آپریشن وشیش دھرّہ وال کی رہنمائی میں پولیس ٹیم نے بتائے گئے مقام پر نگرانی شروع کی۔

رات تقریباً 9 بج کر 15 منٹ پر پولیس نے مخبر کی نشاندہی پر اچھے بابو کو پکڑ لیا۔ اس کی اطلاع پر کچھ فاصلے پر کار میں انتظار کر رہے زاہد کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے دونوں کے قبضے سے 16.4 گرام کوکین اور 90 گرام ہیروئن برآمد کی۔ منشیات کی نقل و حمل میں استعمال ہونے والی ماروتی ویگن آر ٹیکسی بھی ضبط کر لی گئی۔ اس کے بعد کشمیری گیٹ تھانے میں این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 21 اور 29 کے تحت ایف آئی آر نمبر 464/26 درج کی گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران اچھے بابو اور زاہد نے کیجیتھن کے رابطے میں آنے کی بات بتائی۔ ان کے مطابق، ابتدا میں کیجیتھن نے ان کی ٹیکسی کرائے پر لی تھی۔ بعد میں دونوں مبینہ طور پر اس کے کہنے پر منشیات کی سپلائی کرنے لگے۔

دونوں سے حاصل معلومات کی بنیاد پر پولیس نے 13 اکتوبر کو مہرولی علاقے میں چھاپہ مار کر کیجیتھن کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق، اس کے قبضے سے 5.7 گرام کوکین اور 15.3 گرام ایم ڈی ایم اے برآمد ہوئی۔ اس طرح تینوں ملزمان سے مجموعی طور پر 22.1 گرام کوکین، 90 گرام ہیروئن اور 15.3 گرام ایم ڈی ایم اے برآمد کی گئی۔ پولیس نے برآمد شدہ ایم ڈی ایم اے کی مقدار کو تجارتی مقدار کے زمرے میں بتایا ہے۔

پوچھ گچھ کے دوران اچھے بابو نے بتایا کہ وہ روزانہ 600 روپے کرایہ ادا کرکے ماروتی ویگن آر ٹیکسی چلاتا تھا۔ پولیس کے مطابق، کیجیتھن کے رابطے میں آنے کے بعد اس نے مبینہ طور پر منشیات کی کھیپ پہنچانے کا کام شروع کیا۔ زاہد بھی ٹیکسی ڈرائیور ہے اور وہ اچھے بابو کے ساتھ مل کر اس سرگرمی میں شامل ہو گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ دونوں اپنی سہولت اور دستیابی کے مطابق منشیات کی سپلائی کرتے تھے۔

پولیس کے مطابق، کیجیتھن نے پوچھ گچھ میں بتایا کہ وہ 2022 میں میڈیکل ویزا پر ہندوستان آیا تھا۔ ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی وہ یہاں مقیم تھا۔ اس نے مہرولی میں کرائے پر ایک کمرہ لے رکھا تھا۔

تفتیش کے دوران پولیس کو امیکا نامی ایک اور مبینہ ساتھی کے بارے میں بھی معلومات ملی ہیں۔ اسے بھی نائجیریائی شہری بتایا گیا ہے۔ پولیس نے اسے گرفتار کرنے کے لیے کئی مقامات پر چھاپے مارے، لیکن فی الحال وہ پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔

پولیس اب امیکا کی تلاش کے ساتھ برآمد شدہ منشیات کے ذرائع کا پتہ لگانے میں مصروف ہے۔ یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ مبینہ نیٹ ورک سے کتنے دیگر افراد وابستہ ہیں، منشیات کہاں سے لائی جاتی تھیں اور کن علاقوں میں سپلائی کی جاتی تھیں۔ پولیس کے مطابق، ملزمان کے کردار اور منشیات کی فراہمی سے وابستہ پوری کڑی کی تحقیقات جاری ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande